Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / کرنسی نوٹوں کی منسوخی سے تلنگانہ کو بارہ ہزار کروڑ کا نقصان

کرنسی نوٹوں کی منسوخی سے تلنگانہ کو بارہ ہزار کروڑ کا نقصان

نئی دہلی میں ارکان پارلیمان ونود کمار اور بی نرسیا گوڑ کی میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت
حیدرآباد۔18 نومبر (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے ارکان پارلیمنٹ ونود کمار اور بی نرسیا گوڑ نے کہا ہے کہ مرکز کی جانب سے کرنسی نوٹ کی تنسیخ کے فیصلے سے ملک بھر میں عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ نئی دہلی میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ نے کہا کہ بیشتر مقامات پر اے ٹی ایم غیر کارکرد ہوچکے ہیں اور عوام کو کرنسی کے حصول میں دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ ونود کمار نے کہا کہ ٹی آر ایس کی جانب سے مرکزی حکومت کو عوامی دشواریوں سے واقف کرایا گیا اور خواہش کی گئی کہ جلد سے جلد ملک بھر میں ایسے قدم اٹھائے جائیں جس سے عوام کو راحت ملے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو چاہئے کہ وہ اس مسئلہ کو سیاسی رنگ دینے کے بجائے حکومت کو تعمیری تجاویز پیش کریں۔ انہوں نے تجویز پیش کی کہ کرنسی کے مسئلہ پر جاری بحران کے سلسلہ میں وزیراعظم نریندر مودی کو ملک کے تمام چیف منسٹرس کا اجلاس طلب کرنا چاہئے۔ ونود کمار نے کہا کہ کرنسی کی تبدیلی سے تلنگانہ کو جو نقصان ہوا ہے اس کی پابجائی کے لئے پارلیمنٹ میں اسپیشل فینانس اسسٹنس بل پیش کیا جائے۔ اس طرح نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک کی دیگر ریاستوں کو بھی مرکز کی جانب سے امداد فراہم کی جاسکتی ہے۔ رکن پارلیمنٹ بی نرسیا گوڑ نے کہا کہ ٹی آر ایس مرکز کی جانب سے معاشی اصلاحات کا خیرمقدم کرتی ہے تاہم وہ اسے سیاسی رنگ دینے کے خلاف ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ بہت جلد اس مسئلہ کا حل نکل آئے گا۔ نرسیا گوڑ نے کہا کہ ان کی پارٹی ملک کی بھلائی میں حکومت کے ہر فیصلے کی تائید کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹس منسوخ کرنے سے تلنگانہ کو 12 ہزار کروڑ روپئے کا نقصان ہوا ہے۔ بجٹ میں اس نقصان کی پابجائی کے لئے مرکزی حکومت سے نمائندگی کی جائے گی۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اس مسئلہ پر وزیراعظم نریندر مودی سے ہفتہ کو ملاقات کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کرنسی نوٹ کی تنسیخ سے عوام کو جن دشواریوں کا سامنا ہے اس سلسلہ میں وزیراعظم کو واقف کرایا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT