Wednesday , September 27 2017
Home / Top Stories / کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے فیصلے کے دوررس اثرات

کرنسی نوٹوں کی منسوخی کے فیصلے کے دوررس اثرات

عوام کو مشکلات کے بعد کارخانوں کی تالہ بندی اور کسانوں کی بدحالی۔ سابق وزیر فینانس چدمبرم کا تجزیہ

ممبئی 19 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) اعلیٰ قدر کی نوٹوں کی منسوخی کو اندھا دھند منصوبہ قرار دیتے ہوئے سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے آج کہا ہے کہ اس اقدام کے اثرات طویل عرصہ تک محسوس کئے جائیں گے اور حیرت کا اظہار کیا ہے کہ حکومت نے قطعی فیصلہ کرنے سے قبل اپنے معاشی مشیر اعلیٰ سے مشاورت کی ہے یا نہیں؟ ریزرو بینک آف انڈیا کی تازہ سالانہ رپورٹ پر مطابق 31 مارچ 2016 ء تک ملک بھر میں زیرگشت 16.24 لاکھ کروڑ روپئے میں 86 فیصد 500 اور 1000 روپئے کے نوٹ تھے۔ ممبئی لٹریچر فیسٹیول سے مخاطب کرتے ہوئے انھوں نے کہاکہ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مارکٹ میں زیرگشت 86 فیصد کرنسی کو واپس طلب کرنے میں کس قدر اثرا نداز ہوا اور یہ پہلا مرحلہ کئی ہفتوں تک جاری رہے گا۔

اس کے بعد دوسرے مرحلہ کے اثرات ظاہر ہوں گے۔ مسٹر چدمبرم نے کہاکہ مجھے یہ گمان ہے کہ حکومت نے ماہر معاشیات ڈاکٹر اروند سبرامنیم سے کوئی مشاورت نہیں کی ہے۔ نوٹوں کی منسوخی کے فیصلہ کے تباہ کن اثرات کا جائزہ لیتے ہوئے انھوں نے کہاکہ عوام کی اکثریت برائے نام رقم کے ساتھ زندگی گزار رہی ہے اور قوت خرید سے محروم ہوگئے ہیں جس کے نتیجہ میں زرعی پیداوار بالخصوص جلد خراب ہونے والی ترکاریوں اور پھلوں کی فروخت نہیں ہورہی ہے۔ انھوں نے کہاکہ دوسرے مرحلہ کے اثرات تریپورہ اور سورت جیسے مقامات پر دیکھے جاسکتے ہیں جہاں پر کارخانوں کی تالہ بندی اور ملازمین کی کٹوتی شروع ہوگئی ہے اور کسان برادری بھی شدید متاثر ہونے کا خطرہ لاحق ہوگیا ہے جنھوں نے تخم ریزی کی ہے لیکن زرعی کھاد خریدنے اور مزدوروں کو ادائیگی کے لئے ان کے پاس رقم نہیں ہے۔ بالآخر دیہی معیشت تہس نہس ہوجائے گی۔ تاہم انھوں نے کہاکہ نقصانات کا اندازہ قائم کرنا قبل ازوقت ہوگا۔ وزیراعظم نریندر مودی کے اس بیان پر کہ بلیک منی کے خلاف کارروائی کے نتائج کے لئے 50 دنوں تک انتظار کیا جائے، کانگریس لیڈر نے کہاکہ ناجائز دولت چھین لینے میں کامیابی ہوسکتی ہے لیکن دیگر مسائل حل نہیں کئے جاسکتے۔ انھوں نے بتایا کہ مالیاتی نظام سے جعلی نوٹوں کا مکمل صفایا ممکن نہیں ہے کیونکہ جملہ 16.24 لاکھ کروڑ زیرگشت کرنسی میں 400 کروڑ (0.028 فیصد) جعلی نوٹوں کا چلن ہے۔

TOPPOPULARRECENT