Sunday , August 20 2017
Home / Top Stories / کرنسی پر پابندی سے ریئل ایسٹیٹ مارکٹ مشکلات کا شکار

کرنسی پر پابندی سے ریئل ایسٹیٹ مارکٹ مشکلات کا شکار

جائیداد کی قیمتوں میں کمی کا بھی امکان، واجبی داموں پر مکانات کی فروخت ممکن

نئی دہلی ۔ 10 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ملک بھر میں 1000 اور 500 روپئے کے نوٹوں پر پابندی کے باعث ریئل ایسٹیٹ شعبہ خاص کر ری سیل مارکٹ پر منفی اثر پڑے گا اور قیمتوں میں زبردست کمی آئے گی۔ پراپرٹی ڈیولپرس اور کنسلٹنس کے مطابق ریئل ایسٹیٹ مارکٹ میں مصروف افراد کا خیال ہیکہ آنے والے دنوں میں حکومت کے اس اقدام سے جائیدادوں کی قیمتوں میں کمی یا واجبی قیمتوں پر جائیدادوں کی دستیابی کے امکان کو مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اراضیات کی قیمتیں کم ہورہی ہیں اور ہاؤزنگ مارکٹ میں بھی قیمتوں کا رجحان واجبی طور پر پایا جاتا ہے۔ مستقبل قریب میں ریئل ایٹسیٹ مارکٹ پر زبردست دباؤ پڑے گا اور رہائشی و اراضی مارکٹس میں کاروبار میں اضافہ کے ساتھ لین دین میں کمی آئے گی۔ نائٹ فرینک انڈیا کے چیرمین اور منیجنگ ڈائرکٹر شرشربجل نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اراضی کی قیمتوں میں کمی آئے گی۔ اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کشمن اینڈ ویلفیلڈ انڈیا ایم ڈی انشول جین نے کہا کہ ہندوستانی ریئل ایسٹیٹ مارکٹ جہاں ہمیشہ نشیب و فراز پائے جاتے ہیں اس مرتبہ کالادھن رکھنے والوں کیلئے محفوظ جگہ بن گئی ہے۔ یہاں پر کالادھن کو مشغول کرنے کا رجحان بڑھ گیا ہے۔ ہندوستانی کرنسی نوٹوں میں تبدیلی کی وجہ سے ریئل ایسٹیٹ سیکٹر پر منفی اثر پڑ رہا ہے۔ ایک وقت مقررہ تک ریئل ایسٹیٹ پر اس کے اثرات مرتب ہوں گے۔ ریالٹی انڈسٹری کے ادارہ CREDAI کے صدر گتمبر آنند نے کہا کہ ابتدائی طور پر مارکٹ پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوگا البتہ ری سیل مارکٹ میں فرق پیدا ہوگا۔ 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں پر پابندی کو جرأتمندانہ قدم قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اقدام سے اگرچیکہ مختصر مدتی مشکلات پیش آئیں گے لیکن طویل تناظر میں یہ ریئل ایسٹیٹ صنعت کیلئے بہتر ہے۔ ریئل ایسٹیٹ کمپنی ایمار کے ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ اور ریئل ایسٹیٹ ریگولیٹری قانون طویل مدتی تناظر میں بڑی تبدیلیاں لائے گا۔

TOPPOPULARRECENT