Wednesday , June 28 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی کی تبدیلی پر چندرابابو نائیڈو کے بیان سے ہلچل

کرنسی کی تبدیلی پر چندرابابو نائیڈو کے بیان سے ہلچل

چیف منسٹر کے مطالبہ پر کئی گوشوں سے اشارہ متصور

حیدرآباد۔14مئی (سیاست نیوز) مرکزی حکومت کی جانب سے ڈیجیٹل ادائیگی کے فروغ کے لئے اقدامات کی سمت چیف منسٹر آندھرا پردیش نے اشارہ تو نہیں دیا کہ عنقریب 2000اور 500کے کرنسی نوٹ کی تنسیخ کردی جائے گی؟چیف منسٹر آندھرا پردیش مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے ملک میں جاری 2000اور 500 کے کرنسی نوٹوں پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر سے ہلچل پیدا کردی ہے کیونکہ مسٹر چندرا بابو نائیڈو صرف ریاست آندھرا پردیش کے چیف منسٹر نہیں ہیں بلکہ مرکزی حکومت کی جانب سے الکٹرانک ادائیگی کے امور کی انجام دہی اور ان کا جائزہ لینے کے لئے تشکیل دی گئی کمیٹی کے صدرنشین بھی ہیں اور ان کی جانب سے اچانک 2000 اور 500 کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے مطالبہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کیونکہ 2000 کی نوٹ کی اجرائی کے ساتھ ہی اس بات کے خدشات کا اظہار کیا جانے لگا تھا کہ مرکزی حکومت کی جانب سے 2000 کے کرنسی نوٹ صرف حالات پر فوری قابو پانے کیلئے جاری کئے گئے ہیں اور کسی بھی وقت ان نوٹوں کی تنسیخ کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے ۔ ان خدشات اور شبہات کے دوران اب اچانک مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے کئے جانے والے مطالبہ کو کئی گوشوں میں اشارہ تصور کیا جانے لگا ہے اورکہا جا رہا ہے کہ مسٹر نائیڈو چیف منسٹرکے علاوہ قومی سطح پر الکٹرانک ادائیگی کو بہتر بنانے کے عمل کا جائزہ لینے کی کمیٹی کے صدرنشین ہیں اسی لئے ان کی جانب سے اس طرح کے مطالبہ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ 8نومبر کو ملک میں اچانک 1000اور500کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کا فیصلہ کیا گیا جس کے سبب ملک بھر میں حالات قابو سے باہر ہو گئے تھے لیکن حکومت اور آر بی آئی کی جانب سے 2000اور 500کے نئے کرنسی نوٹوں کی اجرائی کے اعلان و آغاز سے کچھ راحت ملی لیکن حکومت نے کالے دھن کے خاتمہ کیلئے 1000اور 500 کے نوٹوں کی تنسیخ کا اعلان کیا تھا لیکن 2000کی نوٹ کی اجرائی پر سوالیہ نشان لگاتے ہوئے یہ کہا جا نے لگا تھا کہ 1000اور 500کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے بعد 2000کی کرنسی کی اجرائی بدعنوانیوں میں سہولت ثابت ہوگی لیکن بعض سرکاری ذرائع کی جانب سے 2000 کی کرنسی نوٹ کے مستقبل کے متعلق مبہم اشارے دیتے ہوئے یہ کہا گیا تھا کہ کرنسی تنسیخ کے فیصلہ کے فوری بعد جو مشکلات پیدا ہوں گی ان سے نمٹنے کیلئے یہ کرنسی نوٹ جاری کئے گئے ہیں اور اب اچانک سے مسٹر نائیڈو کی جانب سے کرنسی تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ کہا جانا کہ ملک میں الکٹرانک ادائیگی کے رجحان میں تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا توایسی صورت میں ملک کے تجارتی طبقہ بالخصوص رئیل اسٹیٹ تاجرین میں ہلچل پیدا ہو چکی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کالے دھن کی صفائی اتنی آسان نہیں ہے اور اب اگر کرنسی تنسیخ کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں عوام کو تکالیف کا سامنا کرنا نہیں پڑے گا بلکہ ان لوگوں کو تکالیف کا سامنا کرنا پڑے گا جو غیر محسوب کرنسی جمع کرنے کے مرتکب ہو ئے ہیں۔ بتایاجاتا ہے کہ مختلف محکمہ کے عہدیداروں پر مشتمل کمیٹی کے ذمہ داران کا کہنا ہے کہ ملک کے مختلف مقامات پر دھاؤوں کے دوران جو کرنسی ضبط کی جا رہی ہے وہ عوامی دولت ہے جو بدعنوانیو ںکے راستہ سے ایک جگہ جمع ہو چکی ہے اور اگر اب حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے فوری سابق کی طرح کرنسی تنسیخ کا فیصلہ منظرعام پر آتا ہے توایسی صورت میں عوام کو کوئی بڑے نقصان کا سامنا نہیں ہوگا لیکن جو لوگ رئیل اسٹیٹ تجارت اور دیگر تجارتی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT