Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی کی تبدیلی کے دوران مقررہ رقم کی حد حاصل کریں

کرنسی کی تبدیلی کے دوران مقررہ رقم کی حد حاصل کریں

کم رقم کی ادائیگی پر پس پردہ اسکام ، عوام کے استحصال میں مسلسل اضافہ
حیدرآباد۔16نومبر(سیاست نیوز) بینک کی طویل قطار میں کھڑے ہونے کے بعد آپ حکومت کی جانب سے دی گئی حد 4500روپئے کے کرنسی نوٹ تبدیل کروانے کی کوشش کریں اور کوئی بینک عہدیدار بہانہ کرتے ہوئے کم رقم جا ری کرے تو اس رقم کو قبول نہ کریں کیونکہ آپ کیلئے جو حد مقرر کی گئی ہے وہ آپ کا حق ہے اسے حاصل کرنے سے کوئی آپ کو روک نہیں سکتا۔ شہر کے کئی بینکوں کے متعلق یہ شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ جو لوگ 4000روپئے کی نقدی تبدیل کروانے پہنچ رہے ہیں انہیں صرف 1000روپئے دیئے جا رہے ہیںاور یہ کہا جانے لگا ہے کہ بینک میں چلر موجود نہیں ہے لیکن اس کے پس پردہ جو اسکام جاری ہے اس کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئی ہے کہ 4ہزار کیلئے پہنچنے والوں کو 1000یا1500روپئے جاری کرتے ہوئے مابقی رقم ان کے نام پر تبدیل کی جانے لگی ہے۔ حکومت کی جانب سے بڑے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ نے عوام کو جو مشکلات میں مبتلاء کیا ہے ان مشکلات سے نکالنے کی کوشش کے بجائے ان کے استحصال کے واقعات میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ خانگی کو آپریٹیو بینکو میں اس طرح کی شکایات عام ہوتی جا رہی ہیں اور جو لوگ ایسا 4000یا معلنہ 4500کی حد تک کرنسی تبدیل کروانے کیلئے ضد کر رہے ہیں انہیں چلر نہیں ہے کہتے ہوئے نکال دیا جا رہا ہے اس صورتحال سے خوفزدہ عوام ان بینکوں میں دستاویزات جمع کروانے کے بعد بھی کرنسی کی تبدیلی سے محروم ہونے لگے ہیں کیونکہ بینک اہلکار خود غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے جا رہے ہیں۔ خانگی کوآپریٹیو بینک ہی نہیں بلکہ بعض بڑے خانگی بینکوں اور سرکاری بینکو ںکی جانب سے ناخواندگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو گمراہ کیا جانے لگا ہے اور یہ کہہ دیا جا رہا ہے کہ وہ نوٹ تبدیل کروانے کے بجائے اکاؤنٹ میں جمع کروانے کو ترجیح دیں تاکہ ان کی رقم آسانی سے جمع ہو جائے۔ پرانے شہر کے کئی علاقوں کے بینکوں کے متعلق اس طرح کی شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ وہ مکمل کرنسی کی تبدیلی کے بجائے ایک یا دو ہزار روپئے کی ادائیگی کے ذریعہ شہریوں کے دستاویزات حاصل کر رہے ہیں۔ عوام نے اس بات کی شکایت بینکوں کے باہر موجود پولیس عملہ کو بھی کی لیکن اس کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہوئے بلکہ شکایت کرنے والے کی نشاندہی کرتے ہوئے اسے دوبارہ قطار سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے جبکہ بینک یا پوسٹ آفس میں انہیں مطلوبہ کرنسی کے عوض فراہم کی جانے والی کرنسی میں تخفیف کرتے ہوئے یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ دوبارہ قطار میں آجائیں اس وقت تک اگر چلر آجاتا ہے تو ان کی حد کے مطابق مطلوبہ رقم تبدیل کردی جائے گی۔حکومت ہند کے فیصلہ سے عوام کو ہونے والی تکالیف اپنی جگہ ہیں لیکن ان کے ساتھ جاری یہ استحصال انتہائی افسوسناک بات ہے۔

TOPPOPULARRECENT