Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی کی تنسیخ اور تبدیلی پر وضاحت بے فیض ثابت

کرنسی کی تنسیخ اور تبدیلی پر وضاحت بے فیض ثابت

شہری عدم اطمینان کا شکار ، خانگی بینکرس اور کالجس فائدہ اٹھانے میں مصروف
حیدرآباد۔ 9 نومبر (سیاست نیوز) کرنسی کی تنسیخ اور اس کی تبدیلی کے متعلق مکمل وضاحت کے باوجود شہر یوں میں عدم اطمینان کی کیفیت پائی جاتی رہی اور اس کا ان لوگوںنے بھر پور فائدہ اٹھایا جو لوگ حکومت کو اپنے پاس موجود500اور 1000کے نوٹوں پر مشتمل دولت کے ذرائع آمدنی کا حساب دکھانے کے موقف میں ہیں۔ انکم ٹیکس ادا کرنے والے شہریوں کے پاس آج بھیڑ دیکھی گئی جو اپنے پاس موجود معمولی غیر محسوب کرنسی کو تبدیل کروانے کی کوشش میں تھی اسی طرح بعض خانگی بینکرس نے بھی اس صورتحال کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے کرنسی کی تبدیلی کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کیا اور عوام  کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کرنسی نوٹوں کو جوجمع تھے اسے باہر نکالنے کی مختلف طریقوں سے کوشش کی۔ لوگ اپنے پاس موجود 500اور1000کے نوٹ کو تبدیل کروانے کے متعلق فکرمند تھے کہ ان حالات سے فائدہ اٹھانے والے پیدا ہو گئے اور ان رقومات کی بغیر کسی نقصان کی وصولی کے نام پر خاصی رقم جمع کرلی۔ شہر کے تعلیمی ادارے کی جانب سے اچانک یہ اعلان کردیا گیا کہ جو اولیائے طلبہ سال بھر کے مکمل بقایا جات کی یکساں ادائیگی کو یقینی بنائیں گے ان سے 500اور 1000کے نوٹ وصول کئے جائیں گے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی کئی اولیائے طلبہ جو تیسرے اور چوتھے ٹرم کی فیس ادا کرنا باقی تھے اور ان کے پاس 500اور 1000روپئے کے نوٹ موجود تھے نے اسکول پر قطار میں ٹھہر کر فیس ادا کرنی شروع کردی۔ اسی طرح بعض کالے دھن کے مالکین نے اپنے پاس موجود غیر محسوب کرنسی کی تبدیلی کے لئے ان بینکوں کا رخ کیا جو خانگی طور پر چلائے جاتے ہیں اور ان بینکوں کے امور پر فوری کسی کی توجہ نہیں ہوتی۔ ان بینکوں میں موجود 500اور 1000کے نوٹوں کے ماسواء دیگر کرنسی کی تبدیلی کا کام بھی انجام دیئے جانے کی اطلاع ہے۔ دونوں شہروں میں اس صورتحال کے سبب پریشانی میں مبتلاء عوام کو حالات سے آگہی کے علاوہ اپنی تشویش کو دور کرنے کی کوشش میں فون پر مصروف دیکھا گیا حالانکہ معمولی رقومات جو گھر میں رکھی گئی ہیں ان کیلئے کوئی دشواریاں نہیں ہیں اور ان نوٹوں کی تبدیلی کیلئے حکومت نے سہولت کی فراہمی کا اعلان کردیا ہے جس سے عوام استفادہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے سبب پیدا شدہ بحران کی صورتحال میں ہر کسی نے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جبکہ بعض اداروں نے 500اور 1000کے نوٹ قبول کرنے میں کوئی تامل کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ان کے عوض میں 100کے نوٹ حوالے کرنے میں بھی کشادہ قلبی کا مظاہرہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT