Friday , April 28 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی کی تنسیخ سے عوام کو مشکلات ‘ حکومت کے اقدامات سے راحت

کرنسی کی تنسیخ سے عوام کو مشکلات ‘ حکومت کے اقدامات سے راحت

کالا دھن صرف کانگریس قائدین کے پاس ہے ۔ دیگر جماعتوں پر الزامات بے بنیاد ‘ گورنمنٹ وہپ پی راجیشور ریڈی

حیدرآباد۔/22نومبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے الزام عائد کیا کہ کالا دھن دراصل کانگریس قائدین کے پاس ہے اور وہ دیگر جماعتوں کے قائدین پر بے بنیاد الزامات عائد کررہے ہیں۔ ٹی آر ایس کے رکن قانون ساز کونسل اور گورنمنٹ وھپ پی راجیشور ریڈی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ کرنسی کی تنسیخ کے فیصلہ سے عوام کو جو مشکلات درپیش ہیں اس پر قابو پانے کیلئے مرکزی حکومت نے جو اقدامات کئے اس سے راحت حاصل ہوگی۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بینکوں میں فوری طور پر 500 کی نئی کرنسی کی فراہمی کا انتظار کریں تاکہ 2000 کی کرنسی سے عوام کو پیش آنے والی دشواریوں کا خاتمہ ہو۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے چیف منسٹر کے خلاف الزام تراشی کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ کالا دھن کے سلسلہ میں چیف منسٹر پر عائد کئے جانے والے الزامات ناقابل برداشت ہیں اور ٹی آر ایس ان الزامات پر خاموش نہیں رہے گی۔ راجیشور ریڈی نے کہا کہ کرنسی کی تنسیخ سے عوام کو پیش آرہی دشواریوں کے سلسلہ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے نمائندگی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی نمائندگی کے بعد ہی مرکز نے کسانوں کیلئے راحت کا اعلان کیا جس کے تحت وہ پرانے کرنسی نوٹ کے ذریعہ بیج ، کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی خریداری کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کی کامیاب نمائندگی کے نتیجہ میں زرعی شعبہ کو بڑی راحت حاصل ہوئی ہے۔ راجیشور ریڈی نے کہا کہ چندر شیکھر راؤ ملک بھر میں نمبر ون چیف منسٹر کی حیثیت سے اپنا مقام رکھتے ہیں اور 28 ریاستوں کے چیف منسٹرس نے جو نہیں کیا وہ کام چندر شیکھر راؤ نے ریاست کی ترقی اور عوام کی بھلائی کیلئے انجام دیتے ہوئے یہ مقام حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے وزیر اعظم سے اس بات کی نمائندگی کی کہ عوام کیلئے 100 اور 500 روپئے کے نوٹ فراہم کئے جائیں تاکہ جلد سے جلد اس بحران پر قابو پایا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ کرنسی کی تنسیخ سے ریاست کو جو نقصان ہوا ہے اس کی پابجائی کیلئے مرکزی حکومت سے نمائندگی کی گئی اور ٹی آر ایس کا مطالبہ ہے کہ مرکزی حکومت اس سلسلہ میں تلنگانہ حکومت سے فراخدلانہ تعاون کرے۔ راجیشور ریڈی نے بتایا کہ بڑے کرنسی نوٹ کی تنسیخ کے بعد عوام کو مشکلات سے بچانے کیلئے ٹی آر ایس حکومت نے کئی اقدامات کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مشکلات میں کمی کے ساتھ ساتھ امن و ضبط کی صورتحال پر قابو پانے کیلئے اقدامات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی وزیر کے ٹی راما راؤ نے مرکزی وزیر فینانس ارون جیٹلی سے نمائندگی کرتے ہوئے ملک بھر میں میونسپل اور دیگر سرکاری بلز کی پرانے کرنسی نوٹ کے ذریعہ  وصولی کی راہ ہموار کی ہے یہ کے ٹی آر کا کارنامہ ہے جس سے نہ صرف تلنگانہ بلکہ ملک بھر کے عوام کو بڑی راحت ملی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرنسی نوٹ کے بحران کے دوران چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے فیصلہ کن موقف اختیار کرتے ہوئے مرکز سے نمائندگی کی۔ انہوں نے ریاست کو ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سے وزیر اعظم کو واقف کرایا۔ وزیر اعظم کو اس بات کی نمائندگی کی گئی ہے کہ خواتین جو اپنے گھروں میں بچت کے ذریعہ رقومات جمع کرتی ہیں انہیں کالے دھن کی طرح نہ دیکھا جائے۔ اس تجویز سے وزیر اعظم نے اتفاق کیا ہے۔ راجیشور ریڈی انے کانگریس قائدین پر الزام عائد کیا کہ وہ حقائق جانے بغیر حکومت اور چیف منسٹر پر الزام تراشی کررہے ہیں۔ عوام نے پہلے ہی اپوزیشن جماعتوں کو ان کا مقام دکھادیا ہے اس کے باوجود ان کے رویہ میں تبدیلی نہیں آئی۔ اس طرح کا رویہ جاری رہنے پر اپوزیشن کا صفایا ہوجائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ٹی آر ایس قائدین کے پاس نہیں بلکہ کانگریس قائدین کے پاس کالا دھن موجود ہے اور عوام اس بات سے اچھی طرح واقف ہیں۔ شہرت پسندی کیلئے اس طرح کے الزامات عائد کرنا کانگریس قائدین کی عادت بن چکی ہے۔ ملک کے کسی بھی چیف منسٹر نے عوامی مسائل کی یکسوئی کیلئے کے سی آر کی طرح وزیر اعظم سے نمائندگی نہیں کی۔ انہوں نے مرکز سے مطالبہ کیا کہ وہ کرنسی کی تنسیخ سے ریاست کے خزانہ کو ہونے والے نقصانات کی پابجائی کرے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT