Saturday , March 25 2017
Home / Top Stories / کرنسی کی تنسیخ کے بعد سونے کی فروخت میں 75 فیصد گراوٹ

کرنسی کی تنسیخ کے بعد سونے کی فروخت میں 75 فیصد گراوٹ

قیمتوں میں گراوٹ اور شادیوں کے سیزن کے باوجود صرافہ بازار میں سرگرمیاں ٹھپ ۔ تاجرین میں فکرمندی

حیدرآباد۔22نومبر(سیاست نیوز) ملک میں کرنسی کی تنسیخ کے بعد سونے کی فروخت میں آئی گراوٹ 75فیصد ہوچکی ہے۔سونے کی قیمت میں ریکارڈ کی جا رہی گراوٹ کے بعد سونے کے تاجرین یہ امید کررہے تھے کہ کاروباری حالات میں تبدیلی رونما ہوگی لیکن ایسی کوئی تبدیلی صرافہ بازار میں دیکھی نہیں جا رہی ہے بلکہ گذشتہ دو ہفتوں کے دوران سونے کی قیمت میں 7.33فیصد کی گراوٹ کے باوجود بازار میں کوئی تیزی نہیں دیکھی گئی بلکہ 10نومبر سے جاری مندی کی حالت اب بھی جوں کی توں برقرار ہے۔ ملک میں کرنسی کی تنسیخ کے اعلان کے ساتھ ہی سونے کی فروخت میں راتوں رات اضافہ دیکھا گیا لیکن دوسرے ہی دن سے فروخت میں تیزی سے گراوٹ ریکارڈ کی جانے لگی ہے اور اس گراوٹ کا سلسلہ اب بھی جاری ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اب تک صرافہ بازار میں سونے کی فروخت میں 75فیصد کی گراوٹ ریکارڈکی گئی ہے جوکہ حالیہ برسوں میں دیکھی جانے والی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔کولکتہ کے صرافہ بازار سے موصولہ اطلاعات کے بموجب سونے کی قیمت 29076روپئے تک پہنچ چکی ہے۔ ملک میں شادیوں کے موسم کے آغاز کے باوجود بھی سونے کی فروخت میں اضافہ نہ ہونے کے سبب صرافہ بازار کے تاجرین کی تشویش میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔بتایا جاتا ہے کہ صرافہ بازار کو اس بات کی تو قع تھی کہ ملک میں اندرون دو ہفتہ صرافہ بازار کی حالت میں بتدریج سدھار آنے لگے گا لیکن حکومت کی جانب سے اختیار کردہ سخت گیر رویہ سے سونے کی برآمدات پر بھی نمایاں اثر دیکھا جارہا ہے ۔ اس کے علاوہ محکمہ انکم ٹیکس کی جانب سے صرافہ بازار کے تاجرین کو دی گئی ہدایات کے سبب بھی حالات میں سدھار کے آثار کم ہوتے جا رہے ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس نے سونے کے تاجرین کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تنسیخ شدہ 1000اور500کے کرنسی نوٹ کے عوض سونے کی خریدی کرنے والوں کیشناخت محکمہ کو پیش کریں۔ آل انڈیا جیمس اینڈ جیویلری ٹریڈ فیڈریشن کے بموجب تنظیم کے عہدیدار بہت جلد وزیر فینانس سے ملاقات کرتے ہوئے حالات کو معمول پر لانے کے متعلق تبادلہ خیال کریں گے کیونکہ اس صنعت و تجارت سے لاکھوں افراد جڑے ہیں جن کی روز مرہ کی زندگی مشکل ہوتی جا رہی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ صرافہ بازار کی تجارت پر ہونے والے اثرات کا منفی اثر ملک کی دوسری تجارتوں پر بھی مرتب ہوتا ہے اسی لئے صرافہ بازار کی تجارت میں آنے والی گراوٹ پر مختلف گوشوں سے تشویش کا اظہار کیا جانے لگا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT