Tuesday , October 17 2017
Home / شہر کی خبریں / کرنسی کے فقدان کے باوجود کالا بازاریوں کی تجارت منفی اثر سے محفوظ

کرنسی کے فقدان کے باوجود کالا بازاریوں کی تجارت منفی اثر سے محفوظ

’ چوتھی کرنسی ‘ اور لین دین کے بغیر کاروباری جاری ۔ رجحان میں اضافہ ملک کی معیشت کیلئے تباہ کن ہوسکتا ہے
حیدرآباد۔22نومبر(سیاست نیوز) کرنسی کے بغیر تجارت ممکن نہیں؟ نہیں ایسا نہیں ہے کہ ملک میں کارکرد کرنسی کے بغیر تجارت نہیں کی جا سکتی بلکہ کرنسی کے موجود ہوتے ہوئے بھی کالا بازاری کرنے والوں کا پسندیدہ طریقہ کار ’چوتھی کرنسی‘ کا استعمال ہی رہا اور وہ سلسلہ آج بھی رائج ہے جس کے سبب بڑے کالا بازاریوں کی تجارت متاثر ہوتا نظر نہیں آرہی ہے بلکہ وہ اپنے اسی طریقہ کار سے اپنی صنعت کی حد تک کے معاشی نظام کو اپنے کنٹرول میں رکھنے کی بھر پور کوشش کر رہے ہیں۔ ملک میں کرنسی تنسیخ کے بعد پیدا صورتحال کے بعد تمام شعبہ متاثر ہوتے نظر آئے ہیں لیکن ان شعبوں کے حالات میں بتدریج بہتری دیکھی جا رہی ہے کوئی یہ نہیں کہہ رہا ہے کہ کرنسی نہ ہونے کے سبب اشیاء کی ٹھوک خریدی میں دشواریاں پیش اارہی ہیں بلکہ جو لوگ ’چوتھی کرنسی‘ کے اس نظام سے واقف نہیں ہیں انہیں ان مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ہول سیل تجارت اور ٹھوک اشیاء کی فروخت کا سلسلہ ملک میں جاری ہے اور یہ سلسلہ بغیر کسی کرنسی کے لین دین کے جاری رکھا جا رہا ہے اگر یہی سلسلہ عام ہوجائے تو ملک کی معاشی حالت انتہائی ابتر ہو سکتی ہے کیونکہ ‘چوتھی کرنسی‘ کا یہ رجحان اب ٹکنالوجی کے فروغ کے سبب بتدریج گھٹتا جا رہا تھا لیکن اب جبکہ 1000اور500کے کرنسی نوٹوں کی تنسیخ عمل میں لائی گئی ہے تو اس کے فوری بعد حالات سے نمٹنے یہ رجحان دوبارہ شروع ہوچکا ہے اس رجحان کے اضافہ کی صورت میں ملک کو معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے کیونکہ کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھے گئے ہندسوں کے ذریعہ چلنے والی اس کرنسی کا حساب کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی بلکہ ہر شعبہ کی جانب سے اپنی علحدہ خفیہ زبان کا استعمال کرکے یہ رقمی تبادلے کئے جاتے ہیں جن میں حالیہ دو ہفتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ جس تجارتی طبقہ کی جانب سے ’چوتھی کرنسی‘ کا تصور عام کیا جا رہا ہے وہ تجارتی طبقہ ملک کی کرنسی کا محتاج نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے اشیاء کے متبادل میں تیار کی جانے والی اشیاء کی خریدی کو ترجیح دینے لگتا ہے اور بالآخر یہ اشیاء کھلے بازاروں میں پہنچ کر کرنسی نوٹوں کے عوض فروخت ہونے لگتے ہیں اور اس کے ذریعہ پورے نظام میں ملوث افارد و صنعت کو عوام کی دولت یکجا کرنے کا موقع میسر آجائے گا۔ٹھوک تجارت کے ہر شعبہ میں کی جانے والی اس ’چوتھی کرنسی‘ کے رجحان میں اضافہ کی صورت میں ملک کو ٹیکس کے ذریعہ ہونے والی آمدنی میں گراوٹ ریکارڈ کی جا سکتی ہے کیونکہ اس عمل کے ذریعہ ٹیکس چوری کے راستوں میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔کالابازاری اور ذخیرہ اندوزی کے جتنے کاروبار ہیں ان تمام میں اس عمل کا حصہ ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ عمل جانور کی خریدی سے کچہرے کی خریدی تک پہنچ چکا ہے جو کہ معیشت کیلئے تباہ کن ثابت ہونے کا خدشہ ہے۔دو ہفتوں سے دہنگر جو شہری بازاروں میں اپنے جانور فروخت کر رہے ہیں وہ اور پھلوں کی مارکٹ میں اسی کرنسی کا استعمال جاری ہے جو کاغذ کے ٹکڑوں پر ہندسہ ڈال کر تیار کی گئی ہے۔

TOPPOPULARRECENT