Monday , September 25 2017
Home / دنیا / کرپان کے ساتھ سفر کرنے والے مسافر کو بس سے اتار دیا گیا

کرپان کے ساتھ سفر کرنے والے مسافر کو بس سے اتار دیا گیا

ملبورن ۔ 26 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : آسٹریلیا میں ایک سکھ کو بس میں سفر کے دوران سکھ مذہب کی علامت کرپان ہٹالینے اور بس سے اترجانے کی ہدایت کی گئی کیوں کہ بس میں موجود ایک دیگر مسافر نے کرپان ( خنجر ) دیکھ کر خوفزدہ ہونے کی شکایت کی تھی ۔ یاد رہے کہ سکھ مذہب کے پیروکار مذہبی علامت کے طور پر اپنے ساتھ کرپان رکھتے ہیں جس کا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ محض ایک مذہبی عقیدہ کی تکمیل ہے ۔ دریں اثناء نیوزی لینڈ ہیرالڈ نے ایک عینی شاہد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے بس کی کھڑکی سے باہر دیکھا تو ہر طرف پولیس کی کاریں کھڑی ہوئی تھیں اور ان میں سے ایک پولیس اہلکار دندناتے ہوئے بس میں گھس آیا ، اس کے ہاتھ میں بندوق بھی تھی ۔ اس نے آتے ہی سکھ مسافر کو ہاتھ اوپر کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ کرپان کو دیکھ سکے ۔ بعد ازاں مسافر کو بس سے اترنے کا حکم دیا گیا ۔ مسافر کی عمر 20 سال کے قریب تھی ۔ اس نے پولیس کارروائی پر کوئی مزاحمت نہیں کی ۔ پولیس نے اس کی پیٹھ پر بندھی ہوئی تلوار نما کرپان کو ہٹالیا ۔ پولیس کی خاتون ترجمان نے بتایا کہ کرپان دیکھتے ہی کئی مسافر خوفزدہ ہوگئے تھے اور انہوں نے پولیس کو مطلع کیا تھا ۔ بہر حال پولیس نے کرپان کو ضبط نہیں کیا ، یہاں اس بات کا تذکرہ بھی دلچسپ ہوگا کہ آسٹریلیا میں اس وقت سکھوں کی آبادی 72000 نفوس پر مشتمل ہے ۔

TOPPOPULARRECENT