Monday , August 21 2017
Home / کھیل کی خبریں / کرکٹ اور مذہبی عقائد میں توازن دشوار نہیں

کرکٹ اور مذہبی عقائد میں توازن دشوار نہیں

رمضان میں 30 روزے رکھنے اور نماز پنجگانہ ادا کرنے عمران طاہر کا عزم
نئی دہلی ۔ 3 جون ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) ایک ایسے وقت جب مسلمانوں کے ماہ مقدس رمضان المبارک کی آمد آمد ہے ، عالمی شہرت یافتہ جنوبی افریقہ کے اسپنر عمران طاہر اپنے مذہبی اعتقاد کی پابندی کرنے کے ساتھ ساتھ اس ماہ کے دوران بیر کی ایک کمپنی کی اسپانسر کردہ ایک ٹیم کیلئے دن بھر کے انٹرنیشنل کرکٹ کھیل کی ذمہ داری نبھانے جیسے دو مختلف و متضاد تقاضوں سے بیک وقت نمٹیں گے ۔ جنوبی افریقہ کے لگ اسپنر عمران طاہر پاکستان میں پیدا ہوئے تھے اور جنوبی افریقی لڑکی سے شادی کے بعد اس ملک کو منتقلی کے بعد افریقی ٹیم میں شامل ہوئے ہیں۔ انھوں نے اے ایف پی کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ ’’آسان راستہ اختیار کرنا بہت آسان ہے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ مذہبی عقیدہ کی پابندی اور پیشہ ورانہ اسپورٹس کو متوازن رکھنے میں کوئی دشواری ہوسکتی ہے ‘‘ ۔ عمران طاہر جنوبی افریقہ میں 2011ء کے دوران کیرئیر کے آغاز کے بعد تاحال 100 مرتبہ جنوبی افریقہ کے لئے کھیل چکے ہیں۔ ان کے پیدائشی وطن پاکستان میں انٹرنیشنل میچوں کے دوران بالعموم تمام کرکٹرس گراؤنڈ پر ہی نماز ادا کیا کرتے ہیں۔

 

بالخصوص جمعہ کو لنچ کا زائد وقفہ دیا جاتا ہے تاکہ نہ صرف کرکٹرس بلکہ میچ دیکھنے والے مداح بھی قریبی مساجد میں نماز جمعہ ادا کرسکیں۔ بنگلہ دیش جو واحد مسلم اکثریتی ملک ہے وہاں کرکٹ شائقین کو بھی گراؤنڈ پر ہی نماز ادا کرنے کا موقع دیا جاتا ہے ۔ غرب الھند (ویسٹ انڈیز)میں 3 جون تا 26 جون تک جاری رہنے والی تین قومی انٹرنیشنل سیریز میں ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کے خلاف کھیلنے والی جنوبی افریقہ کے کرکٹ اسکواڈ میں بشمول عمران طاہر پانچ مسلم شامل ہیں۔ ’’لارجر بیر لوگو‘‘ سیریز میں حصہ لینے والی جنوبی افریقی ٹیم میں سابق کپتان ہاشم آملہ کے علاوہ عمران طاہر بھی ہیں جنھیں ’’کیسل لارجر‘‘ کے شرٹس پہننے سے استثنیٰ دیا گیا ہے کیونکہ مسلمانوں کے لئے الکحل ممنوع اور حرام ہے ۔ مسلمانوں کو اگرچہ حالت سفر میں روزہ رکھنے سے استثنیٰ حاصل ہے لیکن طاہر نے رمضان میں نماز پنجگانہ اور تمام 30 روزے رکھنے کا عزم ظاہر کیا اور کہا کہ میری کوشش یہ ہوگی کہ رمضان میں تمام 30 روزوں اور نمازوں کی پابندی کی جائے اور اگر کرکٹ کی وجہ سے فرائض چھوٹ بھی جاتے ہیں تو قضاء کرلیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT