Wednesday , August 23 2017
Home / کھیل کی خبریں / کرکٹ بورڈ کو سپریم کورٹ سے مزید مہلت مطلوب،فیصلہ محفوظ

کرکٹ بورڈ کو سپریم کورٹ سے مزید مہلت مطلوب،فیصلہ محفوظ

نئی دہلی، 17 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے لودھا کمیٹی کی سفارشات پر عمل آوری میں پس و پیش کو دیکھتے ہوئے بورڈ آف کنٹرول فار کرکٹ اِن اِنڈیا (بی سی سی آئی) کے سینئر عہدیداروں کو ہٹانے سے متعلق کیس میں آج سماعت کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی صدارت والی بنچ نے بی سی سی آئی کے وکیل کپل سبل اور کیس کے رفیق انصاف گوپال سبرامنیم کی دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا۔ بنچ نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس آر ایم لودھا کی صدارت والی کمیٹی کی سفارشات کو نہ ماننے کیلئے بورڈ کی سرزنش کی۔ عدالت نے بی سی سی آئی سے پوچھا کہ وہ یہ بتائے کہ لودھا کمیٹی کی سفارشات کو کب تک متعارف کرائے گا۔بی سی سی آئی کے وکیل کپل سبل نے اس کیلئے کچھ اور وقت مانگا۔اس درمیان بی سی سی آئی کے صدر انوراگ ٹھاکر نے عدالت میں حلف نامہ دائر کر کے اس بات سے صاف انکار کر دیا کہ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) سے یہ کہنے کو کہا تھا کہ لودھا کمیٹی کی سفارشات کو بورڈ کیس میں حکومت کی جانب سے مداخلت مانا جائے ۔ عدالت یہ فیصلہ کرے گا کہ کیا کرکٹ کیلئے بی سی سی آئی ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا جائے یا بی سی سی آئی کو اور وقت دیا جائے ، تاکہ وہ تحریری حلف نامہ دے کہ وہ لوڈھا کمیٹی کی سفارشات کو طے وقت میں لاگو کریں گے ۔ سبل نے دلیل دی کہ ’ایک مملکت ایک ووٹ‘ کی سفارش پر عمل سے کرپشن بڑھے گا، نہ کہ کم ہوگا۔انہوں نے کہا کہ بورڈ کو ویلن کی طرح پیش کیا جا رہا ہے ۔ سابق وزیر قانون نے یہ بھی دلیل دی کہ لودھا کمیٹی کی سفارشات پر عمل درآمد تین چوتھائی اکثریت سے ہی ہو سکتا ہے ، لیکن اس کیلئے تمام اسٹیٹ اسوسی ایشنس کو بورڈ میں شامل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے لودھا کمیٹی پر الزام لگایا کہ وہ بورڈ میں بہتری کے اصل حکم سے باہر جا کر انتظامی معاملات میں مداخلت کر رہی ہے ۔تاہم اس پر چیف جسٹس نے بورڈ سے یہ بتانے کو کہا کہ آخر اس نے لودھا کمیٹی کی کون سی سفارش مانی ہے اور کون سی وہ بعد میں مانے گا۔جسٹس ٹھاکر نے کہا کہ ایسا ظاہر ہوتا ہے کہ بورڈ میں ہر قدم پر رکاوٹ ہی رکاوٹ ہے ۔ اس درمیان سبرامنیم نے دلیل دی کہ بورڈ کے آپریشن کیلئے ایڈمنسٹریٹر مقرر کرنے کے علاوہ اب کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔ انہوں نے عدالت کا حکم نہ ماننے کے لئے بورڈ عہدیداروں کے خلاف دیوانی اور فوجداری توہین عدالت کے الزامات کے تحت مقدمہ شروع کیے جانے کا مطالبہ بھی کیا۔ بی سی سی آئی نے حال ہی میں اپنے عام اجلاس میں یہ واضح کیا تھا کہ وہ لوڈھا کمیٹی کی تمام سفارشات کو لاگو کرنے کے لئے تیار نہیں ہے ۔بی سی سی آئی کے نمائندہ وکیل سبل نے عدالت سے اور وقت مانگا تاکہ بورڈ کی اسٹیٹ اسوسی ایشنس کو سفارشات کو لاگو کرنے کے بارے میں منایا جا سکے ۔ سبل نے یہ بھی کہا کہ بی سی سی آئی تب یہ ثبوت دے سکے گا کہ سفارشات کو پہلے ہی لاگو کیا جا چکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT