Sunday , September 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / کریم نگر میں گرمی کی شدت سے عوامی زندگی اتھل پتھل

کریم نگر میں گرمی کی شدت سے عوامی زندگی اتھل پتھل

سڑکیں سنسان، محکمہ برقی کی لاپرواہی سے لوگوں کا گھر میں رہنا بھی دشوار

کریم نگر۔ /5 اپریل، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تقریباً پچھلے دس دن سے گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتا آرہا ہے ،دوسری جانب وقت بے وقت بغیر کسی علم و اطلاع کے برقی کی سربراہی میں کٹوتی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے شہریان کریم نگر گرمی میں پسینہ سے شرابور ہورہے ہیں بالخصوص جن کے پاس انوینٹرس نہیں ہیں اور ایسے اپارٹمنٹ جہاں جنریٹر نہیں ہیں وہاں گرمی کی شدت سے اتھل پتھل ہورہی ہے، مارچ کے مہینہ میں ہی درجہ حرارت 40 ڈگری تک پہنچ گیا تھا اب 43 ڈگری تک پہنچ رہا ہے ۔ صبح 11بجے سے ہی گرمی کی وجہ سے سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کررہی ہیں، عوام گرمی کی شدت کی وجہ سے باہر آنے سے گریز کررہے ہیں، تپتی دھوپ اور شدت کی گرمی سے بچنے کیلئے گھروں میں ہی رہنے کو ترجیح دے رہے ہیں لیکن برقی کٹوتی کی وجہ سے گھر میں رہنا بھی پریشان کن بنتا جارہا ہے۔ منگل کے روز صبح 9بجے سے دوپہر3بجے تک سارے شہر میں برقی کی سربراہی روک دی گئی تھی  اور شہرکے مضافاتی علاقہ درشیڈ میں 33/11 کے وی سے واویلالہ پلی کے سب اسٹیشن کو ملائی گئی ایچ ٹی لائن کی درستگی و مرمت کے تحت برقی سربراہی روک دیئے جانے کی محکمہ برقی نے اطلاع دی۔ بعد ازا4:30 بجے برقی سربراہ کی گئی۔گرمی کی شدت کی وجہ سے سڑکوں پر چہل پہل نہیں رہی اور کاروبار بھی ٹھپ رہے، بازار سنسان نظر آرہے تھے۔ ایسا معلوم ہورہا تھا کہ کرفیو ہے۔ ٹرانسپورٹ کی ہڑتال ہونے کی وجہ سے سڑک پر لاریاں بھی نظر نہیں آرہی ہیں۔ بسوں میں مسافرین کی تعداد بھی کم دیکھی گئی۔ دسویں جماعت کے پرچہ کی جانچ کے مرکز سینٹ جانس انگلش میڈم اسکول میں دسویں کے پرچہ کی جانچ کرنے والے ٹیچرس و ممتحن بھی پسینہ سے شرابور ہوگئے، جوابی پرچے ہاتھوں کے پسینہ سے بھیگ گئے۔ صبح ساڑھے دس بجے سے شام ساڑھے پانچ بجے تک گرم ہواؤں کے تھپیڑے پڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے بیوپاری اور کاروباری افراد اپنی دکانات میں گاہکوں کے انتظار میں بیٹھے رہے۔ پچھلے ایک ماہ سے ہی ہر روز واٹرگرڈ سڑکوں کی کشادگی و دیگر ترقیاتی کاموں کے نام پر اجیولا پارک، بھکت نگر سب اسٹیشن کے بشمول دیگر سب اسٹیشن کے حدود میں صبح 9 بجے دوپہر 3بجے تک برقی سربراہی روک دیئے جانے کی وجہ سے پینے کے پانی کی نلوں کے ذریعہ سربراہی میں بھی رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT