Thursday , May 25 2017
Home / شہر کی خبریں / کریڈٹ لینے میں آگے ، کارکردگی میں پیچھے ، جماعت کی حقیقت آشکار

کریڈٹ لینے میں آگے ، کارکردگی میں پیچھے ، جماعت کی حقیقت آشکار

اسمبلی کے خصوصی اجلاس اور کے ٹی آر کے پرانا شہر دورہ کے موقع پر فلور لیڈر کی غیر حاضری کا خود جماعت کے قائدین اور عوام کو شدت سے احساس
حیدرآباد ۔ 18۔ اپریل (سیاست نیوز) پرانے شہر میں بھولے بھالے مسلمانوںکے جذبات کا استحصال کرتے ہوئے سیاسی اقتدار حاصل کرنے والے قائدین پسماندہ مسلمانوں اور ان کے علاقوں کی ترقی کے بارے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں، اس کا اندازہ اسمبلی کے خصوصی اجلاس اور آج پرانے شہر میں وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ کے ہنگامی دورہ کے موقع پر ہوا۔ جب کبھی حکومت مسلمانوں کے حق میں کوئی اسکیم تیار کرتی ہے ، فوری اس کا سہرا اپنے سر باندھنے کی کوشش کرنے والی مقامی جماعت کے فلور لیڈر ان دنوں ملک کے باہر گرمائی چھٹیاں گزار رہے ہیں جبکہ پرانے شہر کے عوام کئی ایک مسائل کا شکار ہیں۔ فلور لیڈر کو شاید حیدرآباد کی گرمی سے نجات حاصل کرنا تھا جبکہ پارٹی کے صدر تلنگانہ کے باہر بلدی انتخابات کی مہم میں مصروف ہیں۔ ایسے میں کون مسلمانوں کے مسائل کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کرے گا ۔ جہاں تک مقامی جماعت کے عوامی نمائندوں کا سوال ہے کہ وہ اپنے طور پر کچھ نہیں کرسکتے ، تاوقتیکہ انہیں ’’ہدایت‘‘ نہ ملے۔ راج شیکھر ریڈی حکومت کی جانب سے مسلمانوں کو 5 فیصد تحفظات کی فراہمی کے موقع پر مقامی جماعت نے مسلم تحفظات کی مخالفت کی تھی اور کئی ٹی وی مباحثہ میں موجودہ صدر مجلس نے تحفظات کی یہ کہتے ہوئے مخالفت کی تھی کہ اس سے مسلمانوں کو بانٹنے کی کوشش کی جارہی ہے ، حالانکہ اسلام میں سب کو یکساں درجہ حاصل ہے۔ راج شیکھر ریڈی نے جب تحفظات کے فیصد کو عدالت کے احکامات کے تحت 5 سے گھٹاکر 4 فیصد کردیا، اس وقت عمل آوری کا کریڈٹ لینے کیلئے مقامی جماعت میدان میں آگئی۔ کے سی آر حکومت نے جب انتخابی وعدہ کی تکمیل کیلئے 12 فیصد تحفظات کا بل اسمبلی میں پیش کیا ، اس وقت فلور لیڈر مباحث سے غیر حاضر رہے اور انہیں سیر و تفریح مسلمانوں کے مسائل سے زیادہ اہم نظر آئی۔ اسمبلی میں ہر معمولی مسئلہ پر مداخلت کرتے ہوئے حکومت کی خوشنودی حاصل کرنے والے فلور لیڈر سے مسلمانوں کو امید تھی کہ وہ حکومت کو عمل آوری کیلئے مجبور کریں گے ۔ اس کے علاوہ بل میں موجود قانونی نقائص کی نشاندہی کی جائے گی لیکن افسوس کہ فلور لیڈر نے مجلس کی تاریخ بیان کرنے کے ماہر اپنے وفادار کو بحث میں حصہ لینے کی ’’ہدایت‘‘ دی ۔ ’’ہدایت‘‘ پر عمل کرنے والے شخص اسمبلی میں اس کا تذکرہ کرنا شاید بھول گئے ورنہ کوئی بھی لمحہ ایسا نہیں ہوتا جب وہ ’’ہدایت‘‘ کے بغیر حرکت کرسکتے۔ تحفظات جیسے اہم مسئلہ پر اسمبلی سے غیر حاضر رہتے ہوئے مقامی جماعت نے دوسرے معنوں میں حکومت کو کھلی چھوٹ دیدی جبکہ دیگر جماعتوں نے بل میں موجود بعض نقائص کی نشاندہی کی۔ اسمبلی اجلاس کے بعد کے ٹی راما راؤ نے پرانے شہر کا آج ہنگامی دورہ کیا اور بعض ترقیاتی کاموں کا افتتاح کیا۔ اس دورہ کے موقع پر بھی فلور لیڈر کی عدم موجودگی کے باعث عوام میں ناراضگی کا سبب دیکھی گئی۔ وہ اس لئے کہ اسمبلی میں پرانے شہر کے مختلف مسائل کا تذکرہ تو کیا جاتا ہے لیکن جب متعلقہ وزیر خود پرانے شہر پہنچے تو مسائل کی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں۔ برسر اقتدار پارٹی نے ترقیاتی سرگرمیوں کے ذریعہ پرانے شہر پر توجہ مرکوز کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔مسلم تحفظات اور مسلم قائدین کو مختلف کارپوریشنوں کا صدرنشین مقرر کئے جانے کے بعد پرانے شہر میں ٹی آر ایس کی طاقت میں اضافہ ہوا ہے ۔ ان حالات میں ٹی آر ایس چاہتی ہے کہ پرانے شہر میں کیڈر کو متحرک کیا جائے تاکہ آئندہ عام انتخابات میں پارٹی بہتر مظاہرہ کرسکے۔ 2014 ء انتخابات میں ٹی آر ایس نے پرانے شہر کے اسمبلی حلقوں میں بہتر مظاہرہ کیا تھا ۔ اب جبکہ حکومت نے 12 فیصد تحفظات کے ذریعہ مسلمانوں کے دلوں میں جگہ بنالی ہے، لہذا پرانے شہر میں ٹی آر ایس کے امکانات روشن دکھائی دے رہے ہیں۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھانے کیلئے کے ٹی آر نے وزراء کی ٹیم کے ساتھ پرانے شہر کا دورہ کیا ۔ اس دورہ میں انہیں اس بات کا احساس ہوگیا کہ اگر پرانے شہر میں مزید محنت کی جائے تو ٹی آر ایس کیلئے مثبت نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ کے ٹی آر کے دورہ کے موقع پر پارٹی فلور لیڈر کی غیر موجودگی کا خود پارٹی کے قائدین میں شدت سے احساس دیکھا گیا۔ پرانے شہر میں کئی ایسے مسائل ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ مقامی جماعت نے ٹی آر ایس کی بڑھتی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے کسی طرح اسے اپنے ساتھ رکھنے کی حکمت عملی تیار کی ہے۔ اسی مقصد کے تحت کے ٹی آر کو اپنے ہاسپٹل کا معائنہ کرایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے ڈپٹی چیف منسٹر اور مختلف کارپوریشنوں کے صدورنشین کو پارٹی کے استحکام کی ذمہ داری دی گئی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ 2019 ء تک مقامی جماعت اور ٹی آر ایس کے تعلقات کیا رُخ اختیار کریں گے ؟

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT