Monday , September 25 2017
Home / مضامین / کریڈٹ کارڈز … بظاہر فائدہ ، درحقیقت نقصان

کریڈٹ کارڈز … بظاہر فائدہ ، درحقیقت نقصان

عرفان جابری

اِن دنوں حکومتیں عوام کو نقدی سے عاری (cashless) سسٹم کا عادی بنانے کی تگ و دَو میں مصروف ہیں ، جس کے فوائد و نقصانات عام سماجی حلقوں میں سنجیدہ تبادلہ خیال کا موضوع بن چکے ہیں۔ اس نظام کے لئے ’پلاسٹک کرنسی‘ یا ’کارڈ سسٹم‘ کی اصطلاح استعمال ہورہی ہے۔ اس سسٹم سے بڑے شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے تو خیر سے بخوبی واقف ہوں گے لیکن بھارت کے دیگر گوشوں میں ’کیاشلیس‘ نظام کو اختیار کرلینے میں کافی پس و پیش دیکھنے میں آرہا ہے، جس کی معقول وجوہات موجود ہیں۔ اول یہ کہ اس سسٹم میں سب سے اہم رول انٹرنٹ ؍ موبائل ڈاٹا کی جدید ٹکنالوجی سے مربوط بینکوں کا ہے جن کی اہلیت پر سائبر کرائم نے کئی سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ دوم یہ کہ قومیائے بینکوں کی بھلے ہی ملک کے طول و عرض میں شاخیں معقول تعداد میں موجود ہیں مگر سائبر ٹکنالوجی سے استفادہ میں اُن کی مہارت کیاشلیس سسٹم کے لئے درکار معیار سے کمتر ہے، بہ الفاظ دیگر وہ مخدوش ہیں۔ سوم یہ کہ ایسے سسٹم سے اسی طور پر استفادے کے لئے جس طرح جاریہ ’نوٹ بندی‘ سے قبل ہوتا رہا، صارفین میں خواندگی کی سطح بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔
موجودہ حکومتیں تو ابھی چند ہفتوں سے کیاشلیس سسٹم کو عمومی طور پر لاگو کرنے کے جتن کررہی ہیں ، لیکن ذاتی طور پر میں کارڈ سسٹم کا زائد از ایک دہے کا باقاعدہ تجربہ رکھتا ہوں۔ اس لئے ان کے حُسن و قبح سے بخوبی واقف ہوں۔ اس ہفتے کیلئے سوچا کہ قارئین سے اپنے تجربات کا تبادلہ کرنے کے ساتھ ساتھ کریڈٹ کارڈ کے تعلق سے بالخصوص اور ڈیبٹ (debit) کارڈ کے بشمول دیگر کارڈز کے بارے میں بالعموم اپنی معلومات پیش کروں۔ یوںکہوں تو بیجا نہ ہوگا کہ اگر عام ہندوستانی لوگ کارڈ سسٹم کو اچھی طرح سمجھے بغیر استعمال کرنے لگیں گے تو مالی طور پر بہت پریشانی سے دوچار ہوجانے کا اندیشہ ہے۔
پہلے کریڈٹ کارڈ پر روشنی ڈالنے کی کوشش کروں گا۔ یہ ایسا پلاسٹک کارڈ ہے جو مختلف نوعیت کے بینک اور فینانس سے تعلق رکھنے والے ادارے حتیٰ کہ لائف اِنفورنس کارپوریشن (ایل آئی سی) بھی خواہش مند افراد کو اُن کے معروف ذرائع آمدنی کی بنیاد پر ٹھوس جانچ پڑتال کے بعد جاری کرتا ہے۔ اور کارڈ کی اجرائی کے ساتھ ہی باقاعدہ قواعدو شرائط لاگو ہوجاتے ہیں، جن کی خلاف ورزی کی صورت میں کارڈ جاری کرنے والا بینک ہو یا کوئی دیگر ادارہ ، متعلقہ قوانین کے تحت ہر ممکن کارروائی کرسکتا ہے۔
میں نے چندے معدوے افراد ہی دیکھیں ہیں جو ’کریڈٹ کارڈ‘ کا سوجھ بوجھ سے استعمال کرپاتے ہیں۔ اکثر تو یہی دیکھنے میں آیا ہے کہ اپنی آمدنی سے زائد خرچ کرنے والے افراد ہی ایسے کارڈ کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ چنانچہ عملی طور پر ہوتا یوں ہے کہ اس طرح کے افراد اپنی مالی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنے کے عادی ہوجاتے ہیں، وہ دھیرے دھیرے ’قرض کے جال‘ میں پھنستے جاتے ہیں۔
کارڈ جاری کرنے والے بینک ؍ ادارہ کو تو بہرحال اپنی رقم ’سود‘ سمیت وصول کرنا ہوتا ہے، اور وہ جیسے ہی اس سمت میں قدم اُٹھانا شروع کرتے ہیں، خاطی صارف اُس سے بچنے کے جتن میں مگن ہونے لگتا ہے، جو زیادہ تر عین فطری ردعمل ہوتا ہے۔ وہ اس لئے کہ اگر ایسے صارف کی معقول مالی استطاعت ہوتی تو وہ ’کریڈٹ کارڈ‘ کی چکر میں پڑتا ہی نہیں بلکہ اپنی خالص آمدنی کو ملحوظ رکھتے ہوئے خرچ کی عادت ڈالتا۔ یہ تو ہوئی عام حالات کی بات۔ تاہم جاریہ ’نوٹ بندی‘ کے پس منظر میں کریڈٹ کارڈ کے استعمال پر لوگ مجبور بھی ہوسکتے ہیں، جس کے نتائج کے لئے حکومتیں بھی بالواسطہ ذمہ داری ہوسکتی ہیں۔
نقدی کی موجودہ قلت کریڈٹ کارڈز کے حد سے زائد استعمال کا سبب بن سکتی ہے، جو ہمیشہ کے لئے قرض میں پڑجانے کا سہل ترین راستہ ہے۔ میں بھی کبھی کریڈٹ کارڈز کا خوب استعمال کیا کرتا تھا۔ میرے پاس نصف درجن کریڈٹ کارڈز تھے ، جو مختلف نوعیت کے خصوصی مراعات اور پُرکشش فوائد کے حامل تھے، مگر اُن کے ساتھ نت نئے عنوانات کے ساتھ چارجس بھی عائد ہوتے ہیں، جن کو ’زہر آلود اضافی قدر ٹیکس‘ بھی کہہ سکتے ہیں، جن کی ہر ماہ محنت کی کمائی سے ادائیگی کرتے کرتے بہت نقصان اُٹھایا تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ مجھے بروقت پوری صورتحال سمجھ آگئی اور میں ’دلدل‘ میں پھنسنے سے بچ گیا!
بھارت میں جاری موجودہ بحران نے مجھے اس عنوان پر لکھنے پر مجبور کیا ہے، کیونکہ میں آنے والے دِنوں ، ہفتوں، مہینوں بلکہ برسوں تک ممکنہ انڈین فینانشل سسٹم کی ممکنہ تصویر دیکھنے کے موقف میں ہوں، الحمد للہ! اگر یہ بحران یوں ہی طول پکڑتا گیا تو متوسط درجہ کے ہزارہا ہندوستانی جو تاحال کریڈٹ کارڈ کی شیطانی کشش سے بچتے رہے، اُن کا ’اکسٹرا چارجس‘ کی پکڑ میں جکڑے جانا یقینی ہے۔شہریوں کو عام طور پر یہ مغالطہ ہے کہ کریڈٹ کارڈز نقدی کا متبادل ہوتے ہیں۔ نا، حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ جرمانے، سَرچارجس، پنالٹیز، تاخیر سے ادائیگی کی صورت میں عائد ہونے والے چارجس اور مختلف نوعیت کے دیگر لیویز (محاصل) کو ملا کر مجموعی تناظر میں دیکھیں تو اس طرح کے کارڈز لعنت سے کم نہیں۔ کوئی بھی کریڈٹ کارڈ ہولڈر سالانہ 30 فی صد اضافی رقم ادا کرتا ہے اور یہ ادائیگی جرمانوں کے بغیر ہے۔ یوں موازنہ کریں تو دیہی ساہوکاروں سے کہیں زیادہ ادائیگی ہوجاتی ہے۔ ان سب باتوں کا میں ذاتی طور پر تجربہ رکھتا ہوں۔ اس لئے کہوں گا ، کیا آپ کو کریڈٹ کارڈ چاہئے ؟ ’’نو، تھینکس ‘‘! ’نوٹ بندی‘ کا عمل کریڈٹ کارڈز کے استعمال کی راست طور پر حوصلہ افزائی ہے، جس میں صرف بینکوں کا فائدہ مضمر ہے۔ کریڈٹ کارڈز کو ’سوائپ‘ کرتے ہوئے ایسی خریداری کی بھی سہولت بہم پہنچانا جس کی آپ کو اشد ضرورت نہیں، اور پھر آنے والے دِنوں میں زیادہ مقدار میں ادائیگی ، نیز ماہانہ اقساط (EMIs) کی گنجائش کریڈٹ کارڈ ہولڈر کو ایسے ’گڑھے‘ میں ڈھکیل دے گی ، جس سے باہر نکلنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی۔ اور پوری فیملی متاثر ہوتی ہے۔
معزز قارئین! اُس طرف نہ جائیں۔ یہ سوجھ بوجھ والا راستہ نہیں ہے۔ اگر مرکزی حکومت کو’مودی نظریہ‘ پر سنجیدگی سے عمل کرنا ہی ہے تو پھر اسے چاہئے کہ بینکوں سے کہیں کہ کریڈٹ کارڈ کے ضمن میں  بازادائیگی پر ازخود پابندی عائد کریں۔ متعلقہ کارڈ کو منجمد کرتے ہوئے پنالٹیز کے بغیر کوئی repayment  plan تشکیل دیں تاکہ بھارتی عوام اقتصادی مشکل میں ہی اٹکے نہ رہیں۔ یقین مانئے، کریڈٹ کارڈ کے ذریعے قرض کے جال میں پھانسنے کے لئے ایک دو ماہ کافی ہوجاتے ہیں۔
کریڈٹ کارڈ سے بظاہر فوائد ہی فوائد ہیں لیکن درحقیقت نقصانات زیادہ ہیں۔ حکومتیں اگر ’نوٹ بندی‘ سے پیدا شدہ بحران سے واقعی خود نکلنا چاہے اور شہریوں کو نکالنے میں سنجیدہ ہیں تو انھیں اس طرح کا کوئی حل پیش کرنا چاہئے کہ منجمد کارڈ ہولڈر سے اُس کا قرض وصول ہوتے ہی کارڈ منسوخ کردیا جائے۔ اکثر لوگ پرواہ نہیں کرتے کہ متعلقہ بینک سے اپنا کریڈٹ کارڈ اکاؤنٹ ’صفر‘ ہوجانے کی توثیق کروا لیں۔ اس کے نتیجے میں انھیں دوبارہ ادائیگی پر مجبور ہونا پڑسکتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ بس جال در جال معاملہ ہے۔ بینکوں کا تو یہی رجحان دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ پُرکشش ترغیبات والے ’بروشرز‘ دکھاتے ہیں ۔کریڈٹ کارڈ کی ماہانہ اقل ترین ادائیگی کے لئے ایک اور کریڈٹ کارڈ کا استعمال بھی ہوتا ہے، جو کارڈ ہولڈر کو مصیبت کے بدتر درجے کی طرف بڑھاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں نت نئی پریشانیاں پیدا ہوتی ہیں۔ مہینہ بھر کارڈ ہولڈر کو بینکوں یا متعلقہ اقتصادی ادارہ کی طرف سے وصولی کی مہم کا سامنا رہتا ہے اور اُس کا جینا دوبھر ہوجاتا ہے۔ ماہانہ ادائیگی میں ایک دن کی بھی تاخیر ہوتے ہی آپ کے خلاف مختلف عناصر سرگرم ہوجاتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ حکومت اس رجحان پر قابو پائے اور بینکوں ؍ فینانس کے اداروں کے ظالمانہ قواعد و شرائط میں ضروری تبدیلیاں لائے۔ حکومت ایسا کرنے کی اس لئے پابند ہے کہ اس کا ’نوٹ بندی‘ اقدام شہریوں کو کریڈٹ کارڈز کے بے دریغ استعمال پر مجبور کرسکتا ہے۔
مودی حکومت اگر ایسا کچھ اقدام کرپاتی ہے تو بہت مثبت تبدیلی ہوگی۔ بینکوں کا کریڈٹ کارڈ سے متعلق قرض اگر مختلف نوعیت کے چارجس کے بغیر وصول کیا جاتا ہے تو معاشی نظام میں غیرمعمولی بہتری دیکھنے میں آئے گی۔ بینکس اور فینانس کے تمام دیگر ادارے بھی سوسائٹی کا حصہ ہیں اور انھیں بھی سماجی بہتری کے لئے اپنی طرف سے حصہ ادا کرنا چاہئے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا ہے تو انڈیا ’بے قدر کارڈ‘ بن جانے کا اندیشہ ہے!
کریڈٹ کارڈز کے بالکلیہ برعکس ’ڈیبٹ کارڈ‘ ہے۔ اس کا استعمال ضروری احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے کرنا چاہئے بلکہ تیزی سے بدلتی ٹکنالوجی کے دَور میں ہر کسی کو آج نہیں تو کل اسے بروئے کار لانا ہی پڑے گا۔ قارئین کو یہ بتاتا چلوں کہ حکومتیں بڑی سرگرمی سے کارڈ سسٹم کی حوصلہ افزائی کررہی ہیں اور اس ضمن میں کئی ذرائع اُبھر آرہے ہیں۔ اب تو انٹرنٹ؍ موبائل ڈاٹا کی حاجت بھی نہیں رہی کیونکہ تازہ تبدیلی یہ ہے کہ ایک ادارہ نے انٹرنٹ؍ موبائل ڈاٹا کے بغیر ’کیاشلیس سسٹم‘ سے استفادہ کی گنجائش فراہم کردی ہے۔ یعنی اب نقدی سے عاری نظام کو استعمال کرنے میں ’اسمارٹ فون‘ بھی ناگزیر نہیں ۔ پہلے کا روایتی موبائل فون بھی کافی ہوگا۔
مختلف نوعیت کے مالس اور بڑے اسٹورز بھی اپنے اپنے پلاسٹک کارڈ رکھتے ہیں جو گاہکوں کو اپنی طرف راغب رکھنے اور ان کو نہ کھونے کی غرض سے جاری کیا جاتاہے۔ اس طرح کے کارڈز رکھنے میں کوئی جوکھم نہیں۔ بلاشبہ ایسے کارڈز افادیت رکھتے ہیں!

TOPPOPULARRECENT