Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / کسانوں کی بدحالی اور زرعی بحران پر لوک سبھا میں اپوزیشن کا احتجاج

کسانوں کی بدحالی اور زرعی بحران پر لوک سبھا میں اپوزیشن کا احتجاج

انتخابی وعدہ کی تکمیل کیلئے کھرگے کا وزیراعظم سے مطالبہ، دیگر حکومتوں سے زیادہ اقدامات کرنے بی جے پی کا دعویٰ
نئی دہلی ۔ 19 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس نے حکومت پر کسانوں کے بحران سے نمٹنے میں مکمل طور پر ناکام ہوجانے کا الزام عائد کیا لیکن لوک سبھا میں حکمراں جماعت کے ارکان نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت نے دیگر کسی بھی حکومت کے مقابلے بہت زیادہ اقدامات کی ہے۔ اس مسئلہ پر بحث میں ٹی ایم سی، بائیں بازو محاذ اور آر جے ڈی جیسی دیگر جماعتوں کے ارکان بھیشامل ہوگئے اور تمام اپوزیشن ارکان نعرہ بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں جمع ہوگئے، جس کے نتیجہ میں آج کی کارروائی کے آغاز کے کچھ دیر بعد ہی تقریباً نصف گھنٹہ تک اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ اپوزیشن ارکان نے ایوان کے وسط میں نعرہ بازی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ حکومت کسانوں کی بھلائی و بہتری کو نظرانداز کررہی ہے۔ بی جے پی کی حلیف سوابھی مانی پکشا (ایس ڈبلیو پی) کے رکن راجو شٹی نے اس مسئلہ پر حکمراں بنچوں سے بحث کی۔ اجلاس کا دوپہر جیسے ہی دوبارہ آغاز ہوا، لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے حکومت کو پھر تنقید کا نشانہ بنایا حالانکہ اسپیکر سمترا مہاجن یہ کہتی رہیں کہ اس مسئلہ پر آج دن میں بحث مقرر ہے اور وزیر پارلیمانی امور اننت کمار یہ کہہ رہے تھے کہ اپوزیشن ارکان کی طرف سے اٹھائے جانے والے تمام سوالات کا حکومت جواب دے گی۔ کھرگے نے کہا کہ ’’زرعی بحران ہے۔ زرعی شعبہ دہل گیا ہے۔ خودکشی کرنے والے کسانوں کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہورہا ہے لیکن حکومت ان کے مسائل حل کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہوگئی ہے۔ کسانوں کے قرض معاف کئے جائیں۔ کسانوں کو فصل پر لگائی جانے والی قیمت کا نصف سے زائد حصہ ادا کرنے سے متعلق حکومت اپنے وعدہ کی تکمیل کرے‘‘۔ کھرگے کے الزام کو مسترد کرتے ہوئے اننت کمار نے دعویٰ کیا کہ مودی حکومت کسانوں کیلئے کسی بھی دوسری حکومت سے کہیں زیادہ کام کی ہے۔ حکومت اس مسئلہ پر قاعدہ 193 کے تحت بحث کیلئے تیار ہے جس میں ووٹنگ کی ضرورت نہیں ہوتی اور تمام سوالات کے جوابات دیئے جاتے ہیں۔

اس دوران کانگریس، این سی پی اور بائیں بازو کی جماعتوں کے علاوہ آر جے ڈی اور نیشنل کانفرنس کے ارکان نے واک آؤٹ کیا۔ قبل ازیں اپوزیشن ارکان نے آج دن میں ایوان کے درمیان میں جمع ہوکر نعرہ بازی کی۔ اس دوران اننت کمار نے کہاکہ ’’ایوان کی کارروائی میں خلل اندازی نہ کیجئے۔ ہمیں بحث کرنے دیجئے‘‘۔ جس کے باوجود بائیں بازو محاذ اور آر جے ڈی کے ارکان نے کرسی صدارت کے روبرو جمع ہوکر اس مسئلہ پر نعرہ بازی کرتے رہے۔ کانگریس کے ارکان ’’من کی بات بند کرو۔ قرضہ معافی شروع کرو‘‘۔ اور ’’کسانوں کو گولی مارنا بند کرو‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ وقفہ سوالات کے دوران اپوزیشن ارکان کے احتجاج کے وقت وزیراعظم نریندر مودی ایوان میں موجود تھے۔ اسپیکر نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کو ایوان کی کارروائی چلانے سے دلچسپی نہیں ہے۔ انہوں نے نعرہ بازی کے دوران 50 منٹ کیلئے ایوان کی کارروائی کو دوبارہ ملتوی کردیا۔ بعدازاں بی جے پی کی حلیف جماعت کے رکن شٹی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مودی نے 2014ء کی انتخابی مہم کے دوران کسانوں سے وعدہ کیا تھا کہ کسانوں کو فصل پر صرف کی جانے والی رقم کے مقابلہ زرعی پیداوار پر 50 فیصد زائد رقم ادا کی جائے گی۔ مدھیہ پردیش کے منڈسور میں کسانوں کی خودکشی کا مسئلہ اٹھاتے ہوئے شٹی نے الزام عائد کیا کہ ان میں سے ایک کسان پولیس اسٹیشن کو طلبی کے بعد پولیس کے ہاتھوں ہلاک کیا گیا۔ شٹی نے سوال کیا کہ ’’آیا یہ کسان ہے یا دہشت گرد۔ ہمیں اس واقعہ کی سی بی آئی تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ ان کے بیان کے دوران بی جے پی ارک ان نے مداخلت کی کوشش کی جس پر شٹی نے جو مغربی مہاراشٹرا کے حلقہ ہاٹ کننگالے کے رکن پارلیمنٹ ہیں جھنجھلا کر کہا کہ ’’میں نے آپ (بی جے پی) کو ووٹ دینے کی اپیل کی تھی اور چنانچہ اب یہ سوال کررہا ہوں‘‘۔ بعدازاں شٹی یہ کہتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے کہ انہیں ایوان میں کسانوں کا مسئلہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT