Friday , July 28 2017
Home / ہندوستان / کسانوں کی قرض معافی پر مرکزی حکومت کا افسوسناک رویہ

کسانوں کی قرض معافی پر مرکزی حکومت کا افسوسناک رویہ

نئی دہلی14جون(سیاست ڈاٹ کام)ملک اور بالخصوص بی جے پی قیادت والی ریاستوں میں کسانوں کی خودکشی کے بڑھتے واقعات پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل نے سوال اٹھایا کہ کیا کسانوں کے لیے یہی اچھے دن ہیں کہ انہیں اپنی محنت کے بدلے موت سے ہمکنار ہونا پڑ رہا ہے ۔آل انڈیا ملی کونسل جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ کسانوں کی خودکشی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان پر بینکوں کا قرض ہے اور وہ اس کو ادا نہیں کر پارہے ہیں۔مدھیہ پردیش میں ابھی حال ہی میں کئی کسان خودکشی کر چکے ہیں اور مہاراشٹرا میں بھی یہی کچھ صورت حال ہے ۔ حکومت مہا راشٹرا نے کسانوں کی قرض معافی کا تخمینہ 35؍ ہزار کروڑ روپے کا لگایا ہے اس میں بھی سبھی کسانوں کے قرضے معاف نہیں ہورہے ہیں بلکہ ایک حد مقرر کر دی ہے جس کے اوپر قرض معاف نہیں ہو گا۔انہوں نے کہا کہ جب مرکز میں بی جے پی حکومت اقتدار میں آئی تھی تب کسانوں سے بڑے خوبصورت وعدے کیے تھے لیکن اب وزیر فینانس ارون جیٹلی صاف کہہ رہے ہیں کہ ریاستوں میں قرض معافی میں مرکزی حکومت کوئی مدد نہیں کر سکتی اس کے لیے ریاستی حکومت خود سے اس رقم کا بندوبست کرے ۔ مودی حکومت کے اچھے دن کے وعدے کے جواب میں بی جے پی حکومت کے تین سال میں کسانوں کے سب سے زیادہ خودکشی کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT