Wednesday , June 28 2017
Home / اداریہ / کسان برادری اور بی جے پی حکومتیں

کسان برادری اور بی جے پی حکومتیں

جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہو روزی
اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلادو
کسان برادری اور بی جے پی حکومتیں
ہندوستان بھر میں کسان برادری مشکلات کا شکار ہوتی جا رہی ہے ۔ حالانکہ گذشتہ چند دہوں سے ملک میں کسان برادری کیلئے حالات ابتر ہوتے جا رہے تھے لیکن ایسا لگتا ہے کہ جس وقت سے مرکز میں نریندرمودی کی حکومت قائم ہوئی ہے کسانوں کیلئے حالات اور بھی ابتر ہوتے جا رہے ہیں اور ان مسائل کو حل کرنے میں حکومتیں دلچسپی دکھانے سے قاصر ہیں۔ ایسے انتظامات نہیں کئے جا رہے ہیں جن کے ذریعہ کسانوں کے مسائل کی کچھ حد تک ہی صحیح یکسوئی ہوسکے ۔ گذشتہ دنوں مدھیہ پردیش میں منڈسور میںکسانوں پر جو فائرنگ کی گئی تھی اس میں پانچ افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس سے قبل مہاراشٹرا میں کسان احتجاج پر اتر آئے تھے اور انہوں نے ہڑتال کرتے ہوئے اپنی پیداوار کو شہروں تک منتقل کرنا ترک کردیا تھا ۔ یہی کسان اب اپنے ناکارہ مویشیوں کے مسئلہ سے پریشانی کا شکار ہو رہے ہیں۔ مرکزی حکومت نے اپنے حکمنامہ کے ذریعہ ان مویشیوں کی فروخت پر امتناع عائد کردیا تھا ۔ حالانکہ اس پر عدالت سے حکم التوا جاری کیا گیا ہے لیکن مرکزی حکومت کے ارادے تو واضح طور پر سامنے آگئے ہیں۔ اترپردیش میں حالانکہ آدتیہ ناتھ کی حکومت نے کسانوں کے قرض معاف کرنے کیلئے احکام جاری کردئے ہیں لیکن وہاں کسانوں کے اور بھی مسائل ہیں جنہیں حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس طرح سے کسانوں کے مسائل سے مرکز کی نریندر مودی حکومت نمٹنے کی کوشش کر رہی ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ طریقہ اس کیلئے مہنگا ثابت ہوسکتا ہے ۔ اب تک مودی حکومت نے خود کو درپیش ہونے والے مختلف چیلنجس سے نمٹنے میں کامیابی حاصل کرلی تھی ۔ اس نے اپوزیشن کو ناکام کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی ۔ اسمبلی انتخابات میں اسے جیت ملی تھی ۔ دوسرے مسائل میں بھی حکومت اپنے انداز سے کام کر رہی ہے اور کسی کو خاطر میں لانے تیار نہیں ہے ۔ ایسے میں کسانوں کے مسائل پر جو احتجاج کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے اس سے حکومت کے نمٹنے کا طریقہ ٹھیک دکھائی نہیں دے رہا ہے ۔ کسانوں کے احتجاج کو سیاسی احتجاج کی طرح طاقت سے دبانے اور کچلنے کی کوشش درست نہیں ہوسکتی اور اس کا خمیازہ حکومت کو بھگتنا پڑسکتا ہے ۔ اس کا شائد حکومت ابھی اندازہ نہیں کرسکی ہے ۔
نریندر مودی حکومت اور اس کے ذمہ داروں کے ذہنوں میں ابھی تک اپنی کامیابیوں نے گھیرا کر رکھا ہے اور وہ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ وہ کسی بھی مسئلہ اور کسی بھی احتجاج کو طاقت کے بل پر کچل سکتے ہیں اور اپنے پروپگنڈہ اور تشہیر کے ذریعہ احتجاج کو کچلا جاسکتا ہے اور عوامی آواز کو دبایا جاسکتا ہے لیکن حقیقت میں ایسا ممکن نہیں ہے ۔ جب حکومتیں اور برسر اقتدار افراد کامیابی کے نشہ میں سرشار ہٹ دھرمی پر اتر آتے ہیں تو کوئی معمولی سی چنگاری بھی حالات کو بھڑکانے کا باعث بن سکتی ہے ۔ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے ۔ کسان برادری حالانکہ ہندوستان میں سب سے نظر انداز برادریوں میںشمار ہوتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر سیاسی جماعت ان سے ہمدردی کا اظہار کرتی ہے لیکن عملا ان کیلئے اقدامات کرنے میں سبھی حکومتوں نے تن آسانی اور لا پرواہی سے کام لیا ہے ۔ زراعت کو ہندوستان کی معیشت میں مرکزی مقام حاصل ہے ۔ زرعی ترقی کے ذریعہ ملک کی جملہ گھریلو پیداوار پر اثر ہوسکتا ہے اور اس پر اگر منفی اثرات ہوتے ہیں تو اس سے ملک کی معیشت بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتی ۔ اس سے مہنگائی کا تعلق ہے جو راست عوام کی جیبوں پر اثر انداز ہوتی ہے ۔ غذائی اجناس کے ذخائر کی موجودگی مسئلہ کا حل نہیں ہوتا بلکہ ہر سال ہونے والی پیداوار اہمیت کی حامل ہوتی ہے ۔ اس پیداوار پر اگر حکومتیں کسانوں کو اقل ترین امدادی قیمتوں کے ذریعہ ہمت فراہم کرتی ہیں تو اس کے مثبت نتائج دیکھنے میں آسکتے ہیں۔ اس سے ملک کی معیشت کو سدھارنے اور بہتر بنانے میں سہارا مل سکتا ہے ۔
آج ملک میں کئی ریاستیں ایسی ہیں جہاں کسان برادری کو مسائل کا سامنا ہے ۔ کہیں خشک سالی سے پریشانیاں ہیں تو کہیں غیر موسمی بارش نے مشکلات پیدا کی ہیں ۔ کہیں کسانوں کو اقل ترین امدادی قیمت نہیں مل رہی ہے تو کہیں درمیانی افراد کسانوں کا استحصال کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ کہیں بینکوں کے قرضہ جات کی وجہ سے کسان خود کشی کرنے پر مجبور ہیں تو کہیں کسانوں کی اراضیات کو صنعتی پراجیکٹس کیلئے حاصل کیا جا رہا ہے ۔ ان سب مسائل کو جب تک حکومت سنجیدگی کے ساتھ حل کرنے پر توجہ نہیںدیتی اس وقت تک کسان برادری کو مطمئن نہیں کیا جاسکتا ۔ حکومت کو یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ کسان برادری ہی ہے جو خاموش خدمات کے ذریعہ ملک کی معیشت میں استحکام پیدا کرنے کا ذریعہ بنتی ہے ۔ ان کے مسائل کو حل کرنے میں اگر حکومت مزید تاخیر کرتی ہے تو اس کا خمیازہ لازمی طور پر حکومتوں کو بھی بھگتنا پڑسکتا ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT