Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / کسی بھی مذہب میں ظلم و بربریت کی کوئی گنجائش نہیں ‘ رام پنیانی

کسی بھی مذہب میں ظلم و بربریت کی کوئی گنجائش نہیں ‘ رام پنیانی

بی جے پی دور میں جمہوری حقوق سلب کرنے کی کوشش ‘افرا تفری کا ماحول ‘ ملک کے سیاسی حالات پر لکچر
حیدرآباد۔25جولائی (سیاست نیوز) ممتاز سماجی جہدکار اور انقلابی مصنف ڈاکٹر رام پنیانی نے مذہب کے نام پر شدت پسندی کی مخالفت کی اور کہاکہ کسی بھی مذہب میں ظلم وبربریت کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے ‘ چاہئے وہ بلب گڑھ کی چلتی ٹرین میںحافظ جنید کا بے رحمانہ قتل ہویاپھر امرناتھ یاتریوں پر حملہ ہو ‘دنیاکا کوئی بھی مذہب ظلم اور شدت پسندی کی ترغیب نہیںدیتا ۔انہوںنے کہاکہ کچھ برس سے ملک کے حالات یکسر تبدیل ہوتے جارہے ہیں ‘ جمہوری حقوق کو سلب کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں‘ گائے کے نام پر افراتفری کا ماحول پیدا کرنے کی کوششیں کی جارہی ہے ‘ مگران حالات میںآپ تمام سکیولر ذہن کے حامل لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ لوگ گاندھیائی روایتوں کو ختم کرنے کی سازشوں کی مخالفت کریں ۔ کل ہند سکیولر فورم کے زیراہتمام ’ ہندوستان کے موجودہ سیاسی حالات‘ کے عنوان پر لکچر کے دوران ڈاکٹر رام پنیانی نے کہاکہ حکومت اور ملک کی مخالفت دوعلیحدہ چیزیں ہیں مگر موجود دور میںان دونوں چیزوں کو یکجا کیاجارہا ہے ۔ حکومت پر تنقید یا اس کی مخالفت ہمارا جمہوری حق ہے مگر مخالفت کرنے والے کو ملک کا غدار قراردینے کی کوشش کی جارہی ہے جس جے این یو اسٹوڈنٹ لیڈر کنہیا کمار کے ساتھ کیاگیا۔ رام پنیانی نے کہاکہ اسی طرح ذرائع ابلاغ کونشانہ بنایاجارہا ہے ۔انہوں نے اس موقع پر این ڈی ٹی وی پر چھاپہ ماری اور ممبئی میںایک پندرہ روز ہ میگزین کے سینئر ایڈیٹر کو استعفیٰ پر مجبور کرنے کا واقعہ مثال کے طور پر پیش کیا۔ جب سے مرکز میںبی جے پی حکومت قائم ہوئی گائے و مذہب کے نام پر تشدد میںاضافہ ہوا ہے ۔ انہوںنے امریکی یونیورسٹی کے سروے کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ مذکورہ سروے میںاس بات کا واضح طور پر تذکرہ کیاگیاہے کہ جہاں پر بھی فرقہ وارانہ تشدد رونماء ہوتے ہیں وہاں پر فسادات کے بعد برسراقتدار آنے والی حکومت بی جے پی ہی ہوتی ہے اور مودی حکومت میںاقلیتیں خوف کے ماحول میںزندگی گذاررہے ہیں۔ کچھ لوگ مذہب اور گائے کے نام پر یہ تشدد برپا کررہے ہیںجن کی گائے یا ہندو مذہب سے کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے۔مسٹر رام پنیانی نے کہاکہ صرف اقلیتیں نہیں بلکہ موجود دور میںوہ تمام طبقات فسطائی طاقتوں کے نشانے پر ہیں جو سیکولر ہندوستان کوفروغ دینے کی کوشش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان کا قیام مذہب کی بنیاد پر ہوا جبکہ ہندوستان کا ایک سکیولر ملک بنا۔ مسٹر پنیانی نے کہاکہ گاندھی جی کٹر ہندو تھے مگر انہوںنے سکیولر ہندوستان میںگائو ذبیحہ پر پابندی کی مخالفت کی ‘ او ر سکیولر ہندوستان کے قیام میںاہم رول اد ا کیا۔ یہی وجہہ تھی کہ ہندورشٹرا کے نظریہ کو فروغ دینے والو ں کی آنکھوں میں مہاتما گاندھی چبنے لگے۔ مسٹر پنیانی نے کہاکہ آج بھی فسطائی طاقتیں اپنے نظریہ کو فروغ دینے کوشش میں مسلم منچ کی تشکیل عمل میںلائی جبکہ عیسائی منچ کی بھی تشکیل کاکام کیاجارہا ہے ۔ رام پنیانی نے کہاکہ مسلم حکمرانو ں کو گائے کا قاتل قراردیکر نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی جبکہ حقیقت اس کے برخلاف ہے ۔ انہوں نے کہاکہ مسلمانوں نے یقینا اس ملک پر حکمرانی کی مگر یہاں کے اثاثوں کو منتقل دوسرے ممالک کرنے کی کبھی نہیںسونچی۔ انہو ں نے کہاکہ مندر ۔مسجد کا جھگڑا انگریزوں کی کارستانی ہے ‘ جس پر آج بھی فسطائی طاقتیں اپنا سیاسی مقصد بنائے ہوئے ۔ انہوں نے کہاکہ حسب ضرورت بی جے پی مندر مسئلہ کو اٹھاتی‘ اور دباتی ہے۔

TOPPOPULARRECENT