Sunday , October 22 2017
Home / Top Stories / کسی کتے کو پتھر مارا جائے تو حکومت کو ذمہ دار قرار دیا نہیں جاسکتا

کسی کتے کو پتھر مارا جائے تو حکومت کو ذمہ دار قرار دیا نہیں جاسکتا

فرید آباد واقعہ پر وی کے سنگھ کا سنگین ریمارک ‘اپوزیشن برہم
غازی آباد / نئی دہلی 22 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکزی وزیر وی کے سنگھ نے آج ایک بڑا سیاسی تنازعہ پیدا کردیا جب انہوں نے فرید آباد میں دلتوں کو نذر آتش کئے جانے کے واقعہ پر حکومت کی مدافعت کرنے کی کوشش میں یہ کہدیا کہ ’ اگر کوئی کسی کتے کو پتھر مارے تو حکومت کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا ‘ ۔ اس واقعہ کو کتے کو پتھر مارنے کی مثال سے جوڑنے پر اپوزیشن جماعتوں نے سخت تنقید کی ہے اور وزارت سے ان کی علیحدگی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اپوزیشن نے ان کے خلاف درج فہرست ذاتوں و قبائل پر مظالم سے متعلق قانون کے تحت مقدمہ درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔ اپوزیشن نے وی کے سنگھ کے اس بیان کو وزیر اعظم نریندر مودی کے ماضی میں کئے گئے ریمارک سے جوڑنے کی کوشش کی جب انہوں نے کتے کے بچے کا حوالہ دیا تھا جو گجرات فسادات کے پس منظر میں تھا ۔ وی کے سنگھ نے ایک دلت کو زندہ جلادینے کے واقعہ کے تعلق سے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ مقامی واقعات کو مرکزی حکومت سے نہیں جوڑا جانا چاہئے ۔ اس واقعہ کی تحقیقات چل رہی ہیں۔ یہ خاندانوں کے مابین تنازعہ تھا ۔ یہ تنازعہ کس طرح سے اس وقاعہ میں تبدیل ہوگیا ‘ انتظامیہ کہاں ناکام ہوگیا اس کی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ اس کے بعد ہی مرکز کا رول آتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہر بات کیلئے جیسے اگر کوئی کسی کتے کو پتھر مارے تو حکومت کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا۔ کانگریس لیڈر منیش تیواری نے وی کے سنگھ کی کتے کی مثال کو احمقانہ اور مکروہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دو معصوم بچوں کی موت کو ‘ جنہیں زندہ جلادیا گیا تھا ‘ کتے کو پتھر مارنے سے جوڑنا اس سے زیادہ احمقانہ اور مکروہ کچھ نہیں ہوسکتا ۔ اس سے حکومت کی ذہنیت کا پتہ چلتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دو سال قبل وزیر اعظم نے بھی اسی طریقہ کو اختیار کیا تھا جب انہوں نے کہا تھا کہ اگر کوئی کتے کا بچہ کار کے پہیہ میں آتا ہے تو کیا کیا جاسکتا ہے ۔ سی پی ایم پولیٹ بیورو رکن برندا کارت نے وی کے سنگھ کے بیان کو ذات پات کی ہٹ دھرمی قرار دیا اور کہا کہ وی کے سنگھ کو مستعفی ہوجاناچاہئے اور انکے خلاف فوجداری درج کیا جانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT