Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / !کسی کیلئے چند ہزار روپئے کا حصول دشوار تو کسی کے پاس 1.54 کروڑ نقد موجود

!کسی کیلئے چند ہزار روپئے کا حصول دشوار تو کسی کے پاس 1.54 کروڑ نقد موجود

نیلور میں حیدرآباد کے 5 افراد گرفتار ۔ اتنی بھاری رقم آئی کہاں سے ہے ؟ اور یہ ہے کس کی ملکیت ؟ عوام کے ذہنوں میں سوال

حیدرآباد 16 ڈسمبر ( سیاست نیوز) آخر یہ علاء الدین کا چراغ تو نہیں ہے ؟ یہ سوال عوام کے ذہنوں میں پیدا ہورہا ہے کیونکہ ملک میں بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند ہوگیا ہے ۔ اس کے بعد عوام کیلئے بینکوں اور اے ٹی ایمس سے چند ہزار روپئے کی رقم حاصل کرنا انتہائی مشکل ترین امر ہے لیکن ایسے میں کچھ لوگ اگر ایک کروڑ 54 لاکھ روپئے نقد نئی کرنسی میں حاصل کرلیتے ہیں تو یہ سوال تو پیدا ہوگا کہ آخر یہ رقم آئی کہاں سے ہے ۔ کیا ان کے ہاتھ میں علاء الدین کا چراغ آگیا ہے کہ اسے گھس کر اتنی بھاری رقم حاصل کرلی جائے ؟ ۔ تفصیلات کے بموجب نیلور ٹاون میں پولیس نے ایک ہوٹل پر دھاوا کرکے حیدرآباد سے تعلق رکھنے 5 افراد کو حراست میں لیا ہے ۔ ان کے قبضے سے یہ بھاری رقم دستیاب ہوئی ہے ۔ اس رقم میںچند لاکھ روپئے کے ڈیمانڈ ڈرافٹس بھی ہیں۔ گرفتارشدگان میں محمد عبدالروف بھی شامل ہیںجو مقامی سیاسی جماعت اور اس کے قائدین سے رکن اسمبلی اور رکن پارلیمنٹ دونوں سے قربت رکھتے ہیں۔ ان کے دیگر ساتھیوں میں ایم سری پال ریڈی ، بی شرون کمار اور محمد عبدالخالد شامل ہیں۔ سارے ملک کا تو یہ حال ہے کہ عام آدمی کو اپنے ہی اکاونٹ سے اپنی ہی کمائی کی رقم نکالنی مشکل ہو رہی ہے ۔ اے ٹی ایمس تو عوام کے صبر کا امتحان لے رہے ہیں۔ اگر کوئی خوش نصیب ہے تو اسے دو ہزار روپئے یہاںسے حاصل ہو رہے ہیں۔ بینکوں میں اکثریت ایسی ہے جہاںعوام کو حکومت کی مقررہ حد تک رقم نہیں دی جا رہی ہے ۔ اگر حکومت کی مقررہ حد دیکھی جائے تو بھی عام اکاونٹ سے ہفتے میں صرف 24000 روپئے نکالے جاسکتے ہیں اور کسی کمپنی یا تجارتی اکاونٹ سے رقم نکالی جائے تو اس کی حد 50,000 روپئے ہے ۔ اس کے باوجود ان افراد کے پاس ایک کروڑ 54 لاکھ روپئے کی خطیر رقم دستیاب ہوتی ہے ۔ ایسے میں یہ سوال واجبی ہے کہ آخر یہ رقم آئی کہاں سے ہے ؟ ۔ کس بینک سے حاصل کی گئی ہے ۔ کیا یہ کسی کو آپریٹیو بینک کے ذریعہ تو حاصل نہیں کی گئی ؟ ۔ وزیر اعظم کی جانب سے نوٹ بندی کا اعلان کئے جانے سے قبل شہر کے ایک بینک نے مختلف محلوں میں اپنی برانچس قائم کی تھیں ۔ سوال یہ پیدا ہو رہا ہے کہ آیا ان برانچس سے تو یہ رقم نہیں نکال لی گئی ؟ ۔ کیونکہ ریزرو بینک پہلے ہی سے یہ کہتا آیا ہے کہ کوآپریٹیو بینکوں میں ‘ خاص طور پر ایسے کو آپریٹیو بینکوں میں ‘ جو سیاسی سرپرستی میں چل رہے ہیںبے قاعدگیاں عام ہوگئی ہیں۔ یہ شہبات قابل یقین ہی نظر آتے ہیں کہ اتنی بھاری رقم کسی عام آدمی کی طرح کسی بینک کی قطار میں کھڑے ہوکر تو نکالی نہیں جاسکتی تو پھر اتنی بھاری رقم نئی کرنسی نوٹوں میں یا پھر قدیم 100  روپئے کے نوٹوں میں کیسے حاصل کی گئی ہے ؟ ۔ تحقیقات کرنے والے عہدیداروں کو یہ پتہ چلانے کی ضرورت ہے اور سارا کچا چٹھا عوام کے سامنے پیش کیا جانا چاہئے ۔ نیلور میں کی گئی کل کارروائی میں پانچ افراد کو حراست میں لیا گیا ۔ ان کی کار کو روک کر تلاشی لی گئی تھی ۔ ہوٹل کے کمروں کی بھی تلاشی لی گئی اور اس تلاشی میں اس قدر بھاری رقم پولیس کے ہاتھ لگی ہے ۔ جو افراد گرفتار کئے گئے ہیں ان کا دعوی ہے کہ وہ ایک اراضی معاملت کیلئے نیلور پہونچے تھے اور اسی کی قیمت کی ادائیگی کیلئے یہ رقم منتقل کی جا رہی تھی ۔ رقم چاہے کسی بھی مقصد کیلئے استعمال کی جانے والی تھی لیکن اس کے حصول کا ذریعہ معلوم کرنے کی ضرورت ہے اور یہ بھی پتہ چلانے کی ضرورت ہے کہ آیا یہ رقم واقعی ان افراد کی ہی ہے جو گرفتار کئے گئے ہیں یا پھر ان کے پیچھے بھی کوئی اثر و رسوخ رکھنے والی شخصیتیں ہیں اور یہ رقم ان شخصیتوں کی تو نہیں ہے ؟ ۔ پولیس کے بموجب ضبط کردہ رقم کو محکمہ انکم ٹیکس کے حوالے کردیا گیا ہے اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT