Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / ’’کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں‘‘

’’کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں‘‘

ایک عہدیدار تین ذمہ داریاں، اقلیتی اداروں کی ابتر صورتحال، اپنے کام کا خود جائزہ
حیدرآباد ۔ 9۔  فروری  (سیاست نیوز) ’’کسے وکیل کریں کس سے منصفی چاہیں‘‘ کچھ یہی حال محکمہ اقلیتی بہبود ہے ، جہاں عوامی شکایات اور مسائل کی یکسوئی کیلئے کوئی گنجائش نہیں۔ محکمہ کے اداروں میں جاری بدعنوانیوں اور مبینہ بے قاعدگیوں کے خلاف عوام آخر کس سے رجوع ہوں کیونکہ ایک ہی عہدیدار کے تحت کئی ذمہ داریاں ہیں۔ زائد ذمہ داریوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دیگر اداروں میں جاری قواعد کی خلاف ورزی اور بے قاعدگیوں کا تحفظ کیا جارہا ہے ۔ اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے رضاکارانہ تنظیمیں اور عوام الجھن کا شکار ہیں کہ وہ شکایت کس سے کریں۔ اگر ایک عہدیدار سے شکایت کی جائے تو اعلیٰ عہدیدار کی جانب سے انصاف کی امید کی جاسکتی ہے لیکن اگر تمام اہم عہدوں پر ایک ہی فرد فائز ہو تو پھر انصاف کس طرح حاصل ہوگا واضح رہے کہ وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز کے عہدہ پر سید عمر جلیل فائز ہیں اور وقف بورڈ سے متعلق کسی بھی شکایت کی یکسوئی کا انہیں اختیار حاصل ہے۔ اوقافی جائیدادوں کی تباہی کے بارے میں شکایات کی چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی جانب سے سماعت کے بعد جب متعلقہ فائل کو عہدیدار مجاز کے پاس روانہ کیا جاتا ہے تو وہاں سے کسی کارروائی کے بغیر فائل کو لوٹا دیا جارہا ہے ۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ عہدیدار مجاز کی حیثیت سے کسی بھی فیصلے کا جائزہ لینے کیلئے سکریٹری اقلیتی بہبود کو اختیار حاصل ہے لیکن اس عہدہ پر وہی شخص فائز ہے۔ اگر کوئی سکریٹری کے خلاف شکایت کرے تو اس کی سماعت محکمہ کے ویجلنس کی آفیسر کی جانب سے کی جاتی ہے لیکن افسوس کہ ویجلنس آفیسر کے عہدہ پر بھی وہی عہدیدار فائز ہیں جس کے باعث کوئی بھی شکایت کی یکسوئی اور کارروائی ممکن نہیں۔ عوام میں یہ بات عام ہوچکی ہے کہ تین اہم عہدوں پر فائز ہونے کے نتیجہ میں اقلیتی بہبود کی کارکردگی بری طرح متاثر ہوچکی ہے اور کسی بھی شکایت پر کارروائی کے بجائے خاطی عہدیدار اور ملازمین کا تحفظ کیا جارہا ہے۔ اوقافی جائیدادوں کے بارے میں کئی متنازعہ فیصلے حالیہ عرصہ میں کئے گئے جو وقف بورڈ کے عہدیدار مجاز کی حیثیت سے کئے گئے۔ ان فیصلوں کی توثیق سکریٹری اقلیتی بہبود کی حیثیت سے کی گئی۔ اگر کوئی شخص فیصلہ کو چیلنج کرتا ہے تو عہدیدار مجاز کے بجائے سکریٹری کی  حیثیت سے شکایت کو مسترد کیا جاتا ہے۔ اگر ایک عہدیدار کے کام کا جائزہ لینے کا اختیار کسی اور عہدیدار کو دیا جائے تو اس سے محکمہ کی کارکردگی بہتر ہوسکتی ہے لیکن یہاں ایک ہی عہدیدار تین مختلف عہدوں پر فائز ہیں اور اپنے فیصلوں کا آپ خود ہی جائزہ لینے کا حق حاصل کرچکا ہے ۔ ایسے میں اقلیتی بہبودکی کارکردگی کا متاثر ہونا یقینی ہے۔ عوام نے شکایت کی کہ وقف بورڈ کے علاوہ دیگر اقلیتی اداروں میں کئی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا جن کے بارے میں حکومت سے شکایت کی گئی لیکن کسی بھی شکایت پر کارروائی نہیں کی گئی۔ گزشتہ دنوں اقلیتی فینانس کارپوریشن میں ایک متنازعہ فیصلہ لیا گیا جسے سید عمر جلیل نے بااعتبار عہدہ صدرنشین کارپوریشن کی حیثیت سے منظوری دی اور بعد میں سکریٹری کی حیثیت سے اس فیصلہ پر اپنی مہر لگادی۔ اگر کوئی شخص اس فیصلہ کے خلاف ویجلنس آفیسر سے رجوع ہونا چاہیں تو وہاں بھی وہی عہدیدار موجود ملیں گے۔ حکومت کو چاہئے کہ اگر وہ محکمہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں سنجیدہ ہیں تو ایک عہدیدار کو تین اہم ذمہ داریوں کو بجائے نئے عہدیداروں کا تقرر عمل میں لائے ۔ اگر یہی صورتحال رہی تو حکومت کی فلاحی اسکیمات کی رفتار تیز نہیں ہوپائے گی اور بدعنوانیوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ایک عہدیدار کے تین ذمہ داریاں سنبھالنے سے کئی ایسے افراد کو کھلی چھوٹ مل چکی ہے جو مذکورہ عہدیدار سے قربت رکھتے ہیں۔ قربت کا فائدہ اٹھاکر کچھ عناصر ہر محکمہ کے امور میں مداخلت کر رہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT