Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / کس نے ملک کے جمہوری چہرہ پر سیاہی پوت دی؟

کس نے ملک کے جمہوری چہرہ پر سیاہی پوت دی؟

غضنفر علی خان
12 اکتوبر 2015ء کا دن اتنا ہی سیاہ دن تھا ،جتنا کہ 6 ڈسمبر 1992 کا دن تھا ۔ 12 اکتوبر کو ہندوستان کی جمہوریت ، تحمل پسندی کے چہرے پر شیوسینا کے کارکنوں نے سیاہی پوت دی جبکہ 6 ڈسمبر 1992 کو ایودھیا میں بابری مسجد کو شہید کرکے سیاہ اتوار سے ہماری آزمودہ اور دیرینہ روایات کو پامال کیا گیا تھا  ۔12 اکتوبر کو ممبئی میں پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کی ایک کتاب کی رونمائی کی تقریب تھی ،جس کی میزبانی بی جے پی کے سابق مشیر اور سابق وزیراعظم واجپائی کی پسندیدہ شخصیت سدھیندر کلکرنی کررہے تھے ، جو ماضی میں بی جے پی کے بااعتماد لوگوں میں شامل ہیں اور آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے سربراہ بھی ہیں ۔ پاکستان کے مصنفین کی کتابوں کی ہندوستان میں رسم اجرائی کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ سابق صدر پاکستان پرویز مشرف کی کتاب اور بھٹو گھرانے کی ایک رکن کی کتاب بھی ہندوستان میں اجراء کی گئی تھی ۔ اس وقت شیوسینا نے نہ تو کوئی مظاہرہ کیا اور نہ اس طرح کی دھمکیاں دی تھیں۔ آج نہ جانے کیوں شیوسینا کی غیرت قومی اور وطن دشمنی اتنی شدید ہوئی کہ وہ قانون شکنی پر اتر آئی ۔ ممبئی میں جہاں تقریب منعقد ہونے والی تھی شیوسینا کے چند کارکنوں نے اچانک وہاں پہنچ کر کلکرنی کے چہرے پر سیاہی پوت دی ۔ ان کا کوئی قصور نہیں تھا  ۔ پاکستان کے سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری باقاعدہ طور پر ہندوستانی سفارت خانہ متعینہ اسلام آباد سے ویزا لیکر یہاں آئے تھے ۔ شیوسینا کو اگر اعتراض کرنا تھا تو وہ مودی حکومت اور خاص طور پر وزیر خارجہ ، ہندوستانی سفیر برائے پاکستان سے شکایت کرتی کہ خورشید محمود قصوری کو یوں ہندوستان آنے اور اپنی کتاب کی رسم اجراء کرنے ، ان کی مہمان نوازی کرنے کا موقع دیا ۔ خورشید محمود قصوری کو بھی یہ انداز کرلینا چاہئے کہ جس ہندوستانی شہر میں وہ تقریب کررہے ہیں وہاں شیوسینا اور بی جے پی کی مخلوط حکومت ہے ، جو بڑی دشواریوں کے بعد تشکیل پائی ہے اور یہ بھی پاکستان کو معلوم ہونا چاہئے تھا کہ شیوسینا اپنے نظریات میں کس قدر کٹر ہے ۔ کیا پاکستان کے کسی بڑے شہر لاہور ، اسلام آباد یا کراچی میں یہ تقریب منعقد نہیں کی جاسکتی تھی ۔ اگر ہندوستان ہی کے کسی شہر میں منعقد کرنے کا اصرار تھا تو پاکستانی سفارتخانہ برائے ہندوستان نئی دہلی میں یہ تقریب کی جاسکتی تھی ۔ خورشید قصوری وزیر خارجہ کی حیثیت سے ہندوستان کے کوئی ہمدرد نہیں تھے ۔ ان کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ وہ پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے اشاروں پر کام کیا کرتے تھے ۔ اس پس منظر کے بعد ان کا اپنی کتاب کی رسم اجراء کے لئے ممبئی شہر کا انتخاب بجائے خود ایک تنازعہ بن گیا ہے ۔ یہ تو رہی خورشید قصوری کی بات ، لیکن اس سے کہیں زیادہ شرمناک اور ملک کو رسوا کرنے کا کام شیوسینا نے کیا ۔ کلکرنی کے چہرے پر سیاہی پوت کر شیوسینا نے ثابت کردیا ہے کہ وہ ہندوستان کی شریفانہ روایات ، محبت ، مروت ، پاسداری ، اخوت اور مہمان نوازی کو خاطر میں نہیں لاتی ۔ وہ صرف چھوٹی چھوٹی قانون شکنی کرکے اپنے سیاسی وجود کا احساس دلانا چاہتی ہے  ۔

شیوسینا کوئی بڑی پارٹی نہیں ہے جس کا قومی کردار ہو ۔ وہ ہر اعتبار سے ایک علاقائی جماعت ہے اور صرف مہاراشٹرا کے مخصوص علاقہ تک محدود ہے ۔ اس کے بانی آنجہانی بال ٹھاکرے بھی اپنی انتہا پسندی کے لئے بدنام تھے ۔ ایسے محدود اور تنگ خیالات کی حامی شیوسینا سے ملک کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ البتہ مہاراشٹرا کے محدود علاقہ میں اور خاص طور پر ممبئی شہر میں اس کا اثر ضرور ہے ۔ شوسینا کی تنگ نظری کا یہ عالم ہے کہ وہ ممبئی میں ان لوگوں کا وجود برداشت نہیں کرتی جو ملک کے دیگر علاقوں سے ممبئی میں بس گئے ہیں ۔ آئے دن ان لوگوں کے خلاف احتجاج ہوتے رہتے ہیں ۔ لیکن ممبئی کی کثیر القومی شناخت کو شیوسینا بدل نہ سکی ۔ یہ ایک بین الاقوامی شہر ہے اس کی ساخت بن چکی ہے ۔ شیوسینا اسکو نہیں بدل سکتی ۔ سیاہی پوتنے کا یہ واقعہ ہر اعتبار سے گھناؤنا اور افسوسناک ہے۔ کون ہندوستان آئے اور کون نہیں آئے ، اسکا فیصلہ کرنے کا شیوسینا کو کوئی اختیار نہیں ۔ اس کی زیادتیاں بڑھتی جارہی ہیں ۔ شیوسینا بی جے پی کی ہم خیال جماعت ہے ۔ دونوں میں بہت سی باتیں مشترک ہیں ۔ جن میں اقلیتوں سے دشمنی سب سے زیادہ ہے ۔ جب سے مہاراشٹرا میں بی جے پی اور شیوسینا کی مخلوط حکومت بنی ہے شیوسینا کے حوصلہ بلند ہوگئے ہیں ۔ کلکرنی کے ساتھ کی گئی شرمناک حرکت کے بارے میں شیوسینا کے ایک لیڈر جو راجیہ سبھا کے رکن بھی ہیں یہ کہا کہ چہرہ پر سیاہی پوتنے کا کام تو Mild (نرم) احتجاج ہے  ۔

ہماری پارٹی ایسے اور اس سے زیادہ شدید حربے بھی استعمال کرسکتی ہے ۔ کوئی روکنے والا نہیں ہے ۔ پارٹی کا یہ کہنا کہ ہماری بین الاقوامی سرحدوں پر پاکستانی فوج ہمارے سپاہیوں کا خون بہارہی ہے تو کیا ہم پاکستان کے کسی ہمدرد یا حامی کے منہ پر کالک نہیں لگاسکتے  ۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے کلکرنی کے ساتھ جو کچھ کیا اس سے بہت کچھ بڑھ کر ہم آئندہ کرسکتے ہیں ۔ یعنی شیوسینا خود کو ہندوستانی دستور اور قانون سے بالاتر سمجھتی ہے ۔ اس کی نظر میں بی جے پی کی مرکزی حکومت کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔ بات بڑی حد تک درست بھی ہے ۔ کس قانون شکنی کے خلاف مودی حکومت نے سخت قدم اٹھایا ۔ ممبئی کے واقعہ کے دوسرے ہی دن شیوسینا نے واقعہ کے ذمہ دار افراد کو اعزاز سے نوازا ۔ ان کی گرفتاری برائے نام کی گئی ۔ کسی نے نہیں پوچھا کہ کس بات کے لئے انھیں اعزاز دیا جارہا ہے اور کیوں انھیں برائے نام گرفتار کرکے چند گھنٹوں کے اندر چھوڑدیا گیا ۔ مہاراشٹرا کی مخلوط حکومت جس میں بی جے پی بڑی حصہ دار ہے ، کیوں ان خاطیوں کے ساتھ نرمی کا سلوک کررہی ہے ۔ کیوں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ کالک پوتنے کا یہ واقعہ معمولی ہے، جس قدر آزادی اظہار خیال شیوسینا کو حاصل ہے اتنی ہی آزادی اور حق کلکرنی کو بھی ہے ۔ شیوسینا کے ایک اور لیڈر نے واقعہ کے بعد یہ کہا کہ ’’شیوسینا کے کارکنوں نے ہی بابری مسجد کو شہید کیا اور اس کے لئے پارٹی کے بانی لیڈر بال ٹھاکرے نے ان کی تعریف کی تھی اور برملا کہا تھا کہ یہ کام ان کے لوگوں نے کیا ہے ۔ خود کو قانون سے بالاتر اور حاکم سمجھنے کا یہ رجحان بڑھتا جارہا ہے ۔ اس وقت تو شیوسینا اور بی جے پی میں تعلقات بھی کشیدہ ہوگئے ہیں ، لیکن مودی حکومت کی مجبوری یہ ہے کہ اس کشیدگی کو ظاہر کرنا نہیں چاہتی ۔ ایک اور بات بھی غور طلب ہے کہ کیوں ہر قانون شکنی پر بی جے پی حکومت خاموش ہوجاتی ہے ۔ یہ محض ڈر نہیں ہے بلکہ سچائی یہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس دونوں بھی ان قانون شکنیوں پر خوش ہوتی ہیں ، جب بھی کوئی ایسی بات ہوتی ہے بی جے پی کی قیادت لیپا تھوپی کرکے انجان ہوجاتی ہے ، خواہ معاملہ براہ راست اقلیتوں سے متعلق ہو کہ کوئی اور بات ہو ۔ بی جے پی خاموشی اختیار کرتے ہوئے انتہا پسندوں کو پیام دیتی ہے کہ تم چاہے کچھ کرلو ہماری خاموش تائید حاصل رہے گی ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ ملک میں آج جو واقعات ہورہے ہیں ان کے تعلق سے ایسی مجرمانہ خاموشی اختیار کی جائے ۔

TOPPOPULARRECENT