Thursday , September 21 2017
Home / ہندوستان / کشمیر:دریائے جہلم کے کنارے غیرقانونی قبضے جاری

کشمیر:دریائے جہلم کے کنارے غیرقانونی قبضے جاری

سرینگر ، 5ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر ہائی کورٹ کے سخت احکامات کے باوجود وادی بالخصوص گرمائی دارالحکومت سری نگر میں دریائے جہلم کے حفاظتی باندھوں یا کناروں پر اثرورسوخ رکھنے والے افراد نے ناجائز عمارتوں کھڑی کر دی ہیں۔مقامی لوگوں کا الزام ہے کہ جہاں سرینگر میونسپل کارپوریشن آئے روز ہائی کورٹ کے احکامات کی تعمیل میں دریائے جہلم کے کناروں یا حفاظتی باندھوں پر کھڑی ہونے والی ناجائز عمارتوں کو منہدم کرنے کا دعویٰ کررہا ہے ، وہیں اثرورسوخ اور سرکاری اہلکاروں کی جیبیں گرم کرنے والے افراد کی غیرقانونی عمارتوں کے خلاف انہدائی کاروائیاں نہیں چلائی جاتیں۔ خیال رہے کہ کشمیر میں سال 2014 کے ستمبر میں آنے والے تباہ کن سیلاب کے بعد ریاستی ہائی کورٹ نے نہ صرف دریائے جہلم اور اس سے ملحق نہروں کے کناروں پر ہر طرح کی تعمیرات پر پابندی لگائی بلکہ ان پر کھڑے کئے گئے تمام غیرقانونی ڈھانچوں کو ہٹانے کے احکامات صادر کئے تھے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دریائے جہلم اور اس سے ملحق نہروں کے کناروں پر غیرقانونی عمارتوں کی بھرمار 2014 کے سیلاب کی سب سے بڑی وجہ تھی۔ متفکر شہریوں کے ایک وفد نے بتایا کہ اگرچہ مصروف ترین گونی کھن مارکیٹ میں دریائے جہلم کے کناروں پر غیرقانونی طور پر تعمیر کئے گئے ایک کمپلیکس کے بارے میں متعلقہ انتظامیہ کو متعدد مرتبہ آگاہ کیا گیا،

لیکن ڈھانچے کو غیرقانونی قرار دیے جانے کے باوجود آج تک کوئی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ انہوں نے بتایا ‘الطاف حسن خان ساکنہ گونی کھن حال صدر بل سری نگرنے گذشتہ برس گونی کھن میں راشن ڈیپور کے نذدیک دریائے جہلم کے کنارے کا ایک بڑا حصہ شامل کرتے ہوئے غیرقانونی طور پر کمرشل کمپلیکس کی تعمیر کا کام شروع کردیا۔وفد نے بتایا کہ اگرچہ انہوں نے اس کی شکایت صوبائی کمشنر، چیف انجینئر فلڈ کنٹرول اور دیگر متعلقہ محکموں وعہدیداروں کے دفاتر میں دراج کرائی، تاہم ڈھانچے کو غیرقانونی قرار دیے جانے اور اس کو منہدم کرنے کے سلسلے میں کاغذی کاروائی شروع کرنے کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں اٹھایا گیا۔ انہوں نے کہاہم انتظامیہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ دیانتدار عہدیداروں کی ایک ٹیم کے ذریعہ الطاف حسین کی طرف سے کھڑے کئے گئے تعمیراتی ڈھانچے کا ازسر نو جائزہ لیکر عملی کاروائی میں عمل میں لائی جائے ۔ ہمیں خدشہ ہے کہ اگر کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی تو دیگر لالچی افراد بھی مذکورہ شخص کی پیروی کرتے ہوئے جہلم کے کناروں پر قبضہ جمانا شروع کردیں گے۔

 

TOPPOPULARRECENT