Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / کشمیرمیںمسلسل چودہویں روز بھی کرفیو

کشمیرمیںمسلسل چودہویں روز بھی کرفیو

تاریخی جامع مسجد میں ایک بار پھر نماز جمعہ ادا نہ ہوسکی
سری نگر ، 22جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں کرفیو کے باعث جمعہ کو مسلسل 14ویں روز بھی معمولات زندگی مفلوج رہے ۔ کرفیو کی وجہ سے آج گرمائی دارالحکومت سری نگر کی تاریخی ومرکزی جامع مسجد اور متعدد دیگر مساجد میں مسلسل دوسرے جمعہ کو بھی نماز جمعہ ادا نہ ہوسکی۔ جن مساجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت دی گئی، میں احتجاجی مظاہروں کا انعقاد کیا گیا جس دوران کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بازی کی گئی۔ اِن میں سے بیشتر احتجاجی مظاہرے پرامن رہے ۔ دوسری جانب وادی میں موبائیل فون اور انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل رکھا گیا ہے جس کے نتیجے میں لوگوں کا ایک دوسرے سے رابطہ مکمل طور پر منقطع ہوگیا ہے اور لوگ ایک دوسرے کی سلامتی کو لیکر سخت تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ وادی کے ساتھ ساتھ جموں خطہ میں بھی انٹرنیٹ خدمات کو بدستور معطل ہی رکھا گیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ کسی بھی شخص کو مسجد کے احاطے کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ مسجد کی طرف جانے والی تمام سڑکوں کو خاردار تار سے سیل کردیا گیا تھا۔ مسجد کے موذن کو بھی ازان دینے کے لئے مسجد کے اندر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ سری نگر کی اس تاریخی و مرکزی جامع مسجد میں ہر جمعہ کو ہزاروں کی تعداد میں لوگ وادی کے مختلف علاقوں سے آکر نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔تاریخی جامع مسجد کی طرح سری نگر کے شہر خاص اور ڈاؤن ٹاون کی درجنوں مساجد میں بھی نماز جمعہ ادا نہ ہوسکی۔ تاریخی جامع مسجد میں حریت کانفرنس (ع) کے چیرمین میرواعظ جنہیں 9 جولائی سے اپنی رہائش گاہ پر نظربند کردیا گیا ہے ، نماز جمعہ کا خطبہ پڑھتے ہیں۔وادی میں جہاں برہان وانی کی ہلاکت کے ایک روز بعد یعنی 9 جولائی کو بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہروں کے خدشے کے پیش نظر جنوبی کشمیر کے 4 اضلاع اور گرمائی دارالحکومت سری نگر کے شہر خاص اور ڈاون ٹاون میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا تھا، وہیں کشمیر انتظامیہ نے پھر 15 جولائی کو نماز جمعہ کے بعدسیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ہلاک ہونے والے شہریوں کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کرنے اور پرامن احتجاجی مظاہرے منظم کرنے سے متعلق علیحدگی پسند قیادت کی مشترکہ اپیل پر عمل درآمد کو روکنے کے لئے وادی بھر میں کرفیو نافذ کردیا تھا، جس کا نفاذ تاحال جاری رکھا گیا ہے ۔

 

جموں و کشمیر کے حالات گورنر راج کے متقاضی
سپریم کورٹ میں پینتھرس پارٹی کی عرضی
نئی دہلی ۔ 22 ۔ جولائی : ( سیاست ڈاٹ کام ) : سپریم کورٹ نے آج جموں و کشمیر میں امن و قانون کو سنگین صورتحال کے پیش نظر ریاست میں گورنر راج کے نفاذ کے لیے پیشکردہ ایک عرضی پر سماعت سے اتفاق کرلیا ہے ۔ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر کی زیر قیادت بنچ نے یہ ہدایت دی کہ جموں و کشمیر پنتھرس پارٹی کی داخل کردہ عرضی پر سماعت کے لیے آئندہ ہفتہ کی فہرست میں شامل کیا جائے ۔ درخواست گذار کے وکیل نے عدالت کو مطلع کیا کہ ریاست جموں و کشمیر گذشتہ دو ہفتوں سے سیکوریٹی فورسیس اور پولیس کے محاصرہ میں ہے ۔ جس کے نتیجہ میں وادی کشمیر میں افراتفری ، لاقانونیت اور بدنظمی پھیل گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دستور جموں و کشمیر کے دفعہ 92 کے تحت گورنر راج نافذ کردینا چاہئے ۔ درخواست گذار نے عدالت سے یہ گزارش کی ہے کہ جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کردینے کے لیے گورنر کو ہدایت دی جائے کیوں کہ وہ فرائض انجام دینے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ مذکورہ بنچ میں شامل جسٹس ایف ایم ایل خلیف اللہ ، اے ایم کھانویلکر نے درخواست گذار سے دریافت کیا کہ اس مسئلہ کا حل تلاش کرنے جموں و کشمیر ہائی کورٹ سے کیوں رجوع نہیں ہوئے ؟ جس پر وکیل نے کہا کہ جموں و کشمیر ہائی کورٹ کو مقفل کردیا گیا لہذا ان کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT