Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / کشمیری عوام کے آلام و مصائب پرراجیہ سبھا کا اظہاررنج

کشمیری عوام کے آلام و مصائب پرراجیہ سبھا کا اظہاررنج

حکومت اعتدال پسندوں سے بات چیت کیلئے تیار، جمعہ کو کل جماعتی اجلاس روانہ کرنے کا فیصلہ : راجناتھ سنگھ
نئی دہلی ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پارلیمنٹ میں آج کشمیری عوام کے دکھ درد، آلام و مصائب سے گہرے تعلق خاطر کا اظہار کرتے ہوئے بحالی امن و ہم آہنگی کیلئے وادی کے عوام سے متحدہ و متفقہ طور پر دردمندانہ اپیل کی جبکہ حکومت نے اعتدال پسند کشمیری گروپوں اور دوسروں کے ساتھ بات چیت سے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے جمعہ کو کل جماعتی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ نے اعلان کیا کہ کشمیر کو فوج کے حوالے کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ انہوں نے ’دانستہ طور پر پھیلائی گئی افواہوں کو سختی کے ساتھ مسترد کردیا۔ انہوں نے وادی کشمیر کی تازہ ترین صورتحال پر راجیہ سبھا میں چھ گھنٹوںکی بحث کے دوران کئے گئے مطالبہ کا جواب دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ کشمیر کو کل جماعتی وفد روانہ کرنے کے اس مطالبہ پر غور کیا جائے گا۔

راجناتھ سنگھ نے ادعا کیا کہ وہ اس مسئلہ پر وزیراعظم کی طرف سے بیان دے رہے ہیں اور کہا کہ کشمیر کی صورتحال پر غوروخوض کیلئے جمعہ کو کل جماعتی اجلاس منعقد ہوگا جس میں وزیراعظم بھی شرکت کریں گے۔ فائرنگ میں چھروں کے استعمال کو روکنے کے شدید مطالبات کا جواب دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ سیکوریٹی فورسیس کو ’’زیادہ سے زیادہ صبروتحمل‘‘ کا مظاہرہ کرنے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں لیکن قومی سلامتی کے سوال پر کوئی مفاہمت نہیں کی جائے گی اور کسی بھی صورت میں ہندوستانی سرزمین پر پاکستان کی تائید میں لگائے جانے والے نعرے برداشت نہیں کئے جائیں گے۔ پاکستان سے مذاکرات کے ضمن میں انہوں نے کہا کہ کوئی بھی بات چیت صرف اس ملک (پاکستان) کے زیرقبضہ علاقوں کے بارے میں ہی کی جاسکتی ہے۔ کشمیر میں ’استصواب عامہ‘ کیلئے اقوام متحدہ کے نام پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے مکتوب کا حوالہ دیتے ہوئے راجناتھ سنگھ نے کہا کہ ’’کرہ ارض کی کوئی بھی طاقت ہم سے کشمیر نہیں چھین سکتی‘‘۔ کشمیر کی صورتحال پر بحث میں مختلف سیاسی جماعتوں کے 29 ارکان نے حصہ لیا جس کے اختتام پر راجیہ سبھا نے متفقہ قرارداد منظور کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ ایوان وادی کشمیر میں ایک طویل عرصہ سے جاری کرفیو، تشدد، گڑبڑ و ہنگامہ آرائی پر گہری تشویش ظاہر کرتا ہے‘‘۔

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ’’ایوان وادی کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور بالخصوص انسانی جانوں کے اتلاف اور گزند پر گہری تشویش و برہمی کا احساس ظاہر کرتا ہے‘‘۔ قرارداد میں ادعا کیا گیا کہ یہ ایک واضح اور متفقہ نظریہ ہیکہ قومی سلامتی پر کوئی مفاہمت نہیں کی جاسکتی اور اس کے ساتھ وادی کے عوام کی مصیبتوں کے خاتمہ کیلئے امن و ضبط کی بحالی کیلئے فی الفور اقدامات بھی مساویانہ طور پر لازمی ہیں۔ ایوان میں جموں و کشمیر میں سماج کے تمام طبقات سے دردمندانہ اپیل کی کہ وہ معمول کے حالات کی جلد بحالی کیلئے مساعی کرے۔ ایوان میں کشمیری عوام بالخصوص نوجوانوں میں اعتماد بحال کرنے کا متفقہ فیصلہ کیا جس کا منظورہ قرارداد میں واضح طور پر حوالہ دیا گیا ہے۔

 

کشمیر ی بے چینی کیلئے لشکرطیبہ پر این آئی اے کا الزام
نئی دہلی ۔ 10 اگست (سیاست ڈاٹ کام) نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے ایک مبینہ پاکستانی لشکرطیبہ کارکن کا اقبالی بیان حاصل کرنے کے بعد آج یہ الزام عائد کیا کہ ممنوعہ دہشت گرد تنظیم کشمیر میں جاری دہشت گردی کو مزید بھڑکا رہی ہے۔ انسداد دہشت گردی کے اس تحقیقاتی ادارہ نے مزید کہا کہ وادی میں گذشتہ 33 یوم سے جاری گڑبڑ اور تشدد میں پاکستانی تنظیم لشکرطیبہ کے رول کے بارے میں وہ مزید ثبوت جمع کررہی ہے۔ این آئی اے نے کہا کہ ایک پاکستانی دہشت گرد بہادر علی سے پوچھ گچھ پر وادی کی صورتحال کو بگاڑنے میں لشکرطیبہ کے ملوث ہونے کا سراغ دستیاب ہوا ہے۔ بہادر علی کو حال ہی میں شمالی کشمیر میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ہندوستان میں سرحد پار سے جاری دہشت گردی کو پاکستان کی مسلسل تائید و حمایت کے خلاف نئی دہلی میں گذشتہ روز اسلام آباد کو سخت احتجاجی نوٹ دیا تھا جس کے دوسرے ہی دن این آئی اے نے یہ تبصرہ کیا ہے۔ این آئی اے کے انسپکٹر جنرل سنجیو سنگھ نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ’’این آئی اے کشمیر میں جاری بے چینی میں لشکرطیبہ کے رول کی مزید تحقیقات کررہی ہے‘‘۔ این آئی اے نے بہادر علی عرف سیف اللہ کی ایک ویڈیو کلپ بھی جاری کی ۔ پنجابی بولنے والا یہ شخص اپنے خاندان اور دہشت گرد تنظیم میں گزرے ہوئے وقت کے علاوہ سرحد پار کرتے ہوئے ہندوستانی علاقہ میں اپنے داخلہ کی تفصیلات بیان کررہا تھا۔

TOPPOPULARRECENT