Friday , September 22 2017
Home / کھیل کی خبریں / کشمیری لڑکیوں میں رگبی کی بڑھتی مقبولت‘بہتر نتائج کی امیدیں

کشمیری لڑکیوں میں رگبی کی بڑھتی مقبولت‘بہتر نتائج کی امیدیں

سرینگر۔12 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام ) جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں میں رگبی کا کھیل تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ یہاں رگبی کا آغاز 2003 میں ہوا تھا اور اس وقت چند بچے ہی اس کھیل سے واقف تھے۔ تاہم اب کشمیر اور جموں میں چار ہزار بچے ایسے ہیں جو رگبی کھیلتے ہیں اور ان میں لڑکیوں کی تعداد ایک ہزار ہے۔گذشتہ تین برسوں میں ریاستی سطح پر کئی رگبی میچ کھیلنے والی 13 سالہ ارتقی ایوب کو بھی آغاز میں اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا لیکن جب کشمیر میں بہت سے لوگ رگبی سے جڑے تو ان کی بھی دلچسپی بڑھی۔ ارتقی اس بات سے بہت خوش ہیں کہ کشمیر میں لڑکیاں اس کھیل میں بڑے جوش و خروش کے ساتھ حصہ لے رہی ہیں۔ 18 سالہ افرا الطاف گزشتہ ایک سال سے رگبی کھیل رہی ہیں۔ وہ اس سے پہلے بیڈمنٹن کھیلتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں جب میں نے دیکھا کہ کشمیر میں لڑکیاں بھی رگبی کھیلتی ہیں تو میں بھی اس کھیل کو اپنا لیا ہے۔ افرا کی بموجب پہلے یہاں لوگوں میں یہ سوچ تھی کہ لڑکیاں کھیل کے میدان میں نہیں آ سکتی ہیں، لیکن ہم نے دکھا دیا کہ ہم بھی کسی سے کم نہیں ہیں۔ چھ ماہ سے رگبی کھیل رہیں 17 سالہ مہک کہتی ہیں میں چھ ماہ قبل سری نگر کے اس میدان میں اپنی دوست کے ساتھ رگبی میچ دیکھنے آئی تھی۔

میں نے دیکھا کہ یہاں بہت ساری لڑکیاں رگبی کھیل رہی ہیں، جس کے بعد میرے اندر بھی اس کھیل کو کھیلنے کا شوق جاگا۔ کشمیر کے کچھ لڑکوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی رگبی کھیلی ہے۔ 20 سالہ  اشفاق احمد لون  2012 سے رگبی کھیل رہے ہیں۔ ابھی تک انہوں نے ایک بین الاقوامی اور چار قومی سطح کے رگبی میچ کھیلے ہیں۔ اشفاق نے کہا ہے کہ تین برس قبل تک رگبی میں اتنی تعداد میں بچے نہیں آتے تھے جتنے آج آتے ہیں۔ نیز آپ اس کھیل میں بچوں کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ میرے اپنے علاقے ذانا کوٹ میں 100 سے زیادہ بچے ہر روز میرے ساتھ رگبی کی مشق کرتے ہیں۔ کشمیر رگبی اسوسی ایشن کے منتظم اور کوچ اقبال احمد کے مطابق کھیل میں کشمیری بچوں کی بڑی تعداد میں شامل ہونے کی وجہ کشمیر کے حالات بہتر ہونا ہے۔ اقبال نے مزید کہا کہ کشمیر میں گذشتہ 25 سال کے نامناسب  حالات کی وجہ سے بچے، خاص طور پر لڑکیاں، باہر نہیں آ پاتی تھیں۔ روزآنہ کی ہڑتال اور کرفیو سے یہاں کا نوجوان گھروں میں قید ہو گیا تھا۔ اب حالات بہتر ہوئے تو بچے بھی نام روشن کر رہے ہیں۔ کشمیر کا ایک رگبی کھلاڑی اس وقت انگلینڈ میں بھی کھیلتا ہے۔لڑکیوں کی بہترین کارکردگی کے بارے میں اقبال نے کہا ہے کہ 15 سال کے بعد کشمیر کی لڑکیوں کی ٹیم نے اسی برس کیرالہ میں ہوئے نیشنل گیمز میں حصہ لیا جبکہ لڑکے اس میچ کے لئے کوالیفائی نہیں کر سکے۔

TOPPOPULARRECENT