Thursday , August 24 2017
Home / ہندوستان / کشمیری مسلمانوں کا جذبۂ انسانیت

کشمیری مسلمانوں کا جذبۂ انسانیت

کرفیو کی پرواہ کئے بغیر سڑک حادثہ میں زخمی امرناتھ یاتریوں کی امداد
سرینگر 13 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کرفیو تحدیدات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مقامی مسلمانوں نے اپنی جانوں کو جوکھم میں ڈال کر منگل کے روز جموں ۔  سرینگر قومی شاہراہ نمبر 1 پر پیش آئے سڑک حادثہ میں زخمی امرناتھ یاتریوں کو بچالیا اور انھیں مقامی ہاسپٹلوں میں شریک کروایا جبکہ ضلع اننت ناگ بیج بہارا ٹاؤن میں شب کے قریب پیش آئے سڑک حادثہ میں منی بس کا ڈرائیور ہلاک ہوگیا۔ اس گاڑی میں یاتری سوار تھے۔ ریاست میں قومی شاہراہوں پر پیش آئے حادثہ میں مرنے والوں کی تعداد 2 تک پہنچ گئی۔ قبل ازیں حادثہ میں ایک یاتری ہلاک اور دیگر 20 زخمی ہوگئے تھے۔ بیج بہارا ٹاؤن کے مکینوں نے جوکہ وادیٔ کشمیر میں جاریہ تشدد میں ہلاکتوں پر مغموم تھے، اپنے رنج و غم کو بھول کر اور کرفیو کی سختیوں کو نظرانداز کرکے مقام حادثہ پہنچ کر زخمی یاتریوں کو بچالیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ مقامی مسلمانوں نے اپنی گاڑیوں میں زخمی یاتریوں کو ہاسپٹل منتقل کیا۔ اگرچیکہ سرکردہ عسکریت پسند برہان وانی کی ہلاکت کے بعد گزشتہ 4 دنوں سے جاریہ تشدد اور تصادم میں 33 افراد بشمول پولیس ملازمین ہلاک ہوگئے ہیں۔ لیکن بیج بہارا کے عوام نے فرقہ وارانہ بھائی چارہ کی ایک مثال پیش کردی ہے۔ تشدد میں ہلاک 34 میں سے 32 افراد کا تعلق جنوبی کشمیر کے ضلع اننت ناگ، شوپیاں، کلگام اور پلوامہ سے ہے۔ جبکہ مابقی دو کا تعلق سرینگر اور کپواڑہ اضلاع سے ہے۔ وادی میں پرتشدد جھڑپوں سے قبل بیج بہارا ٹاؤن میں کم از کم 2 احتجاجیوں کی موت واقع ہوگئی تھی۔ تشدد کی لہر میں گھرے ہوئے مقامی لوگوں نے انسانیت کا دامن نہیں چھوڑا اور مذہبی وابستگی کے بغیر زخمیوں کی فی الفور امداد کے ذریعہ ان کی جان بچائی۔ جن کا کہنا ہے کہ یہ جذبہ ہمدردی اور انسانیت ہی دراصل کشمیریت ہے اور اس کا تحفظ کرتے رہیں گے۔

 

سرکاری ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ بدھ کی صبح قومی شاہراہ پر جنوبی کشمیر کے بج بہاڑہ میں سنگم کے قریب یاتریوں سے بھری ایک گاڑی کا مخالف سمت سے آنے والی گاڑی سے تصادم ہوا جس کے نتیجے میں اترپردیش کے رہنے والے ایک یاتری پرمود کمار اور گاندربل کے رہنے والے ڈرائیور بلال احمد کی موقع پر ہی موت ہوئی۔ اس حادثہ میں 28 دیگر یاتری زخمی ہوگئے ہیں۔ حادثے کی شکار گاڑی میں سوار اترپردیش کے میرٹھ شہر کے رہنے والے یاتری اجیت کمار ارورا کا کہنا ہے کہ اگرچہ انہوں نے گاڑی میں پھنسے لوگوں کو باہر نکالنے کے لئے یاتریوں اور فوجیوں سے مدد مانگی مگر کوئی سامنے نہیں آیا۔ اُن کا کہنا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے قریب 50 کشمیری لوگ نمودار ہوئے اور بچاؤ کاروائی شروع کی۔ کشمیریوں کی انسانیت نوازی سے متاثر ہوکر مذکورہ یاتر نے اسپتال میں نامہ نگاروں کو بتایا ‘میں کہتا ہوں کہ اگر آپ لوگوں کو انسانیت سیکھنی ہے تو اِن کشمیری لوگوں سے سیکھو۔ زندگی میں، میں نے پہلی بار انسانیت دیکھی ہے ‘۔قابل ذکر ہے کہ حزب المجاہدین (ایچ ایم) کے اعلیٰ ترین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد وادی کشمیر میں پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پورے جنوبی کشمیر میں 9 جولائی سے کرفیو نافذ ہے۔

TOPPOPULARRECENT