Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / کشمیری نوجوانوں کی زیادہ تعداد میں عسکریت پسندی میں شمولیت پر تشویش

کشمیری نوجوانوں کی زیادہ تعداد میں عسکریت پسندی میں شمولیت پر تشویش

سوشیل میڈیا اور مشرق وسطیٰ کے حالات اثرانداز، انسداد بغاوت لائحہ عمل تبدیل کرنے کا منصوبہ: فوجی سربراہ بپن راوت

نئی دہلی 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) وادیٔ کشمیر میں انسداد بغاوت لائحہ عمل میں تبدیلی لانے کا منصوبہ ہے جہاں انفرادی طور پر کسی کو نشانہ بنانے کے بجائے ان نوجوانوں پر توجہ مرکوز کی جائے گی جو جھوٹے پروپگنڈہ کا شکار ہوکر ہتھیار اٹھارہے ہیں۔ نئے فوجی سربراہ جنرل بپن راوت نے آج یہ بات بتائی۔ انھوں نے ایک انٹرویو میں عسکریت پسندی میں شامل ہونے والے کشمیری نوجوانوں کی تعداد میں اضافہ پر بھی تشویش ظاہر کی۔ جنرل راوت کو کشمیر میں عسکریت پسندی سے نمٹنے کا تجربہ حاصل ہے اور انھوں نے کہاکہ نکسل ازم کا جہاں تک تعلق ہے مقامی نوجوان محرومی کے احساس کی بناء اس میں شمولیت اختیار کرتے ہیں لیکن کشمیر اس کے برعکس 1980 ء کے اواخر سے پاکستانی پشت پناہی کی حامل بغاوت سے دوچار ہے۔ انھوں نے کہاکہ مشرق وسطیٰ کے بدلتے حالات اور جھوٹے پروپگنڈہ نے چند مقامی نوجوانوں کو متاثر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان بھی عسکریت پسندی کی سمت راغب ہورہے ہیں۔ جنرل راوت نے کہاکہ جب مقامی نوجوان بغاوت میں شامل ہوکر بندوق اٹھالیں تو یہ تشویشناک پہلو ہے کیوں کہ ہمارے ہی ملک کے افراد کا باغیانہ سرگرمیوں میں ملوث رہنا اچھی علامت نہیں۔ حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی گزشتہ سال 8 جولائی کو ہلاکت کے بعد سے 59 مقامی نوجوانوں نے عسکریت پسند گروپس میں شمولیت اختیار کرلی۔ سرکاری اعداد و شمار میں یہ حوالہ دیا گیا جبکہ سکیورٹی ماہرین کے مطابق ایسے نوجوانوں کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ جنرل راوت نے سوال کیاکہ کیا کشمیر میں مقامی نوجوان بھی محض احساس محرومی کی بناء عسکریت پسند سرگرمیوں میں شامل ہورہے ہیں جیسا کہ ہندوستان کے دیگر علاقوں میں دیکھا جارہا ہے؟ کیا یہ معاملہ بھی بالکل نکسل ازم کی طرح ہے؟

پھر انھوں نے ہی جواب دیا ایسا نہیں ہے۔ یہاں جھوٹے پروپگنڈہ کا کافی عمل دخل ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمیں عوام تک پہنچنا چاہئے۔ انھیں اپنا نشانہ تصور کرنے کے بجائے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار ہونا چاہئے اور نوجوانوں میں جس طرح جھوٹا پروپگنڈہ کیا جارہا ہے اس کے اثر کو زائل کرنا چاہئے۔ فوجی سربراہ نے کہاکہ بغاوت میں ہمیشہ عوام کو مرکزی اہمیت حاصل رہتی ہے لیکن وہ اس تاثر کو تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ وہ عوام کو یہ بتانا چاہیں گے کہ صرف پروپگنڈہ کے ذریعہ عسکریت پسندی کو ہوا دی جارہی ہے اور اسے مرکزی اہمیت حاصل ہونی چاہئے۔ ہمیں اس پروپگنڈہ کو نشانہ بنانا ہوگا جو بغاوت کو بھڑکانے کا ذمہ دار ہے۔ انھوں نے کہا ہمیں یہ بات سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ کشمیر میں مقامی عسکریت پسندی کو بڑھاوا کیوں مل رہا ہے۔ حالانکہ ہم اب تک دیکھتے آرہے ہیں کہ پاکستانی مقبوضہ کشمیر اور دیگر ممالک سے عسکریت پسند گھس آیا کرتے تھے۔ ہمیں یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ چند مقامی نوجوانوں نے بندوقیں کیوں اٹھالی۔ اس میں سوشیل میڈیا اور مشرق وسطیٰ میں پیش آرہے حالات کا بڑا عمل دخل ہے۔ بعض نامناسب اسلامی تنظیموں نے جو اسلام کی انتہائی غلط ترجمانی کررہی ہیں اور حقائق سے بعید انداز میں اسے پیش کررہی ہیں، کافی پروپگنڈہ کیا ہے۔ جنرل راوت نے کہاکہ اس کی وجہ سے چند نوجوانوں میں جوش پیدا ہورہا ہے اور وہ سوشیل میڈیا، انٹرنیٹ اور دیگر دستیاب ذرائع سے ملنے والے پیامات کا شکار ہورہے ہیں۔ بعض مقامی نوجوان اس میں پھنس گئے اور مخالفین اس کا بھرپور فائدہ اٹھارہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ نامناسب اسلامی پروپگنڈہ کا جو شکار ہوئے اسے مخالفین نے مزید پھیلانے کا کام کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT