Thursday , June 29 2017
Home / Top Stories / کشمیری نوجوان کو ڈھال بنانا جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی

کشمیری نوجوان کو ڈھال بنانا جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی

سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ کا ردعمل

سرینگر ، 24مئی (سیاست ڈاٹ کام) جموں وکشمیر کے سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے کشمیری نوجوان کو فوجی جیپ سے باندھنے کے واقعہ کو جنیوا کنونشن، ہندوستانی آئین اور ملٹری کوڈ کی خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ فوجی سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بپن راوت کی جانب سے واقعہ میں ملوث میجر لیٹول گوگوئی کو توصیفی کارڈ سے نوازا جانا تحقیقات کا عظیم الشان تمسخر ہے ۔ عمر عبداللہ جو کہ ریاست کی سب سے بڑی اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس کے کارگذار صدر بھی ہیں، انھوں نے ان تاثرات کا اظہار ’انڈین ایکسپریس‘میں شائع اپنے ایک مضمون میں کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر جو پہلے ہی ملک سے الگ تھلگ ہوگیا ہے ، وہاں شہریوں کو انسانی ڈھال بنانا اب سرکاری طور پر جائز قرار دیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا ، ’’یہ (انسانی ڈھال بنانا) جنیوا کنونشن، بھارتی آئین اور ملٹری کوڈ کی خلاف ورزی ہے۔ حال ہی میں (ہندوستان نے) کلبھوشن جادھو کے معاملے میں جنیوا کنونشن کا سہارا لیا۔ جنیوا کنونشن نے انسانی ڈھال بنانے کی کارروائی کو واضح طور پر جنگی جرم قرار دیا ہے‘‘۔ عمر عبداللہ نے اپنے مضمون میں میجر گوگوئی کو توصیفی کارڈسے نوازے جانے پر کہا ہے، ’’ہمیں کہا گیا کہ میجر گوگوئی کو توصیفی کارڈ انسداد عسکریت پسندی کی کاروائیوں میں نمایاں کردار ادا کرنے پر دیا گیا اور اس کا بڈگام واقعہ کے ساتھ کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن پیغام واضح ہے کہ گوگوئی کو توصیفی کارڈ سے نوازا جانا تحقیقات کا عظیم الشان تمسخر ہے‘‘۔ دریں اثنا عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرتے ہوئے میجر گوگوئی کے خلاف جاری ’’آرمی کورٹ آف انکوائری‘‘کو تماشہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ  مہربانی کرکے مستقبل میں ملٹری کورٹ آف انکوائری کے تماشے کی زحمت نہ اٹھانا۔ واضح طور پر صرف رائے عامہ کی عدالت معنی رکھتی ہے ۔ خیال رہے کہ فوجی سربراہ بپن راوت نے ایک عام شہری کو انسانی ڈھال بنانے کے واقعہ میں ملوث میجر لیٹول گوگوئی کو گزشتہ روز توصیفی کارڈ سے نوازا۔ میجر گوگوئی نے کل ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں عام شہری کو انسانی ڈھال بنانے کے واقعہ کو جواز بخشتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ اقدام انسانی جانیں بچانے کیلئے اٹھانا پڑا تھا۔ تاہم، وادی کے انسپکٹر جنرل آف پولیس منیر احمد خان نے کہا ہے کہ انسانی ڈھال بنانے کے واقعہ کی تحقیقات جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ معاملے میں فوج کے خلاف درج ایف آئی آر کو منسوخ نہیں کیا گیا ہے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے ہی 14 اپریل کو فوجی جیپ کے ساتھ بندھے کشمیری نوجوان کی تصویر اور ویڈیو ٹویٹر پر پوسٹ کی تھی ۔ فوج کی اس حرکت پر نہ صرف وادی بلکہ دنیا کے مختلف ممالک میں لوگوں نے شدید غصے اور ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس نوجوان کی شناخت فاروق احمد ڈار ساکن ژھل براس آری زال بیروہ کے بطور ہوئی ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT