Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / کشمیر بھارت ، پاکستان کا باہمی معاملہ ، برطانوی موقف کا اعادہ

کشمیر بھارت ، پاکستان کا باہمی معاملہ ، برطانوی موقف کا اعادہ

وزیراعظم تھریسامے کا آئندہ ماہ دورۂ ہند ۔ میزبان لیڈر نریندر مودی سے بات چیت ہوگی

لندن 27 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے کہا ہے کہ کشمیر کے بارے میں سلطنت متحدہ (یوکے) کا موقف بدستور غیرمتبدلہ ہے اور یہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان باہمی مسئلہ ہے کہ وہ اِس کی آپس میں مل جل کر یکسوئی کرلیں۔ یہ مسئلہ گزشتہ روز دارالعوام میں برطانوی وزیراعظم کے سوالات سے متعلق ہفتہ وار سیشن کے دوران پاکستانی نژاد لیبر ایم پی یاسمین قریشی نے اُٹھایا۔ انھوں نے سوال کیاکہ آیا مسئلہ کشمیر آئندہ ماہ برطانوی وزیراعظم کے دورۂ ہند کے دوران بات چیت کا حصہ بنے گا؟ برطانوی وزیراعظم نے پارلیمنٹ میں کہاکہ ’’میں وہی رائے رکھتی ہوں جو موجودہ حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے وقت سے ہے، اور بلاشبہ ماضی میں بھی ہمارا کشمیر کے بارے میں یہی موقف رہا ہے کہ بھارت اور پاکستان اِس سے خود نمٹ لیں‘‘۔ تھریسا کا یہ بیان واضح اشارہ ہے کہ 6 اور 8 نومبر کے درمیان جب تھریسا ہندوستان کے دورے پر ہوں گی تب وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ان کی باہمی بات چیت کے دوران کشمیر ایجنڈہ کا حصہ ممکنہ طور پر نہیں رہے گا۔

یاسمین قریشی شمال مغربی انگلینڈ کے حلقہ بولٹن میں پاکستانی نژاد آبادی کی نمائندگی کرتی ہیں۔ اُنھوں نے دارالعوام میں سوال اُٹھایا تھا کہ آیا وزیراعظم دورہ ہند سے قبل اُنھیں ملاقات کا موقع دیں گی اور آیا کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کے مسئلہ پر وہ مختلف پارٹیوں کے رفقاء سے تبادلہ خیال کریں گی؟ 1948 ء میں اقوام متحدہ کی قرارداد میں یہی کچھ بات کہی گئی تھی اور اِسے ہندوستانی وزیراعظم کے ساتھ بات چیت میں اٹھایا جاسکتا ہے۔ تاہم تھریسامے نے اِس ضمن میں کوئی بھی میٹنگ کو خارج از امکان قرار دیتے ہوئے کہاکہ وزیر خارجہ بورس جانسن نے اِس تعلق سے صلاح و مشورہ کرلیا ہے۔ برطانوی وزیراعظم 6 نومبر کو نئی دہلی پہونچنے والی ہیں جو یوروپ سے باہر اُن کا پہلا سمندر پار باہمی دورہ رہے گا۔ وزیراعظم مودی کے ساتھ انڈیا ۔ یو کے ٹیک سمٹ کا افتتاح کرنے کے علاوہ مہمان لیڈر اپنے ہندوستانی ہم منصب کے ساتھ بات چیت منعقد کریں گی اور بنگلورو بھی جائیں گی۔ تھریسامے کے ہمراہ سارے یوکے سے نمائندہ چھوٹے اور اوسط تجارتی ادارہ جات سے تعلق رکھنے والا وفد رہے گا اور اُن کے بین الاقوامی وزیر تجارت لیام فاکس بھی اُن کے ساتھ ہوں گے۔

TOPPOPULARRECENT