Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / کشمیر رکن اسمبلی کے چہرے پر سیاہی پوت دی گئی

کشمیر رکن اسمبلی کے چہرے پر سیاہی پوت دی گئی

بیف پارٹی کا اہتمام کرنے پر ہندوتوا تنظیموں کی انتقامی کارروائی ، اُودھم پور حملے کے ٹرک کنڈیکٹر کے رشتہ دار بھی زد میں

نئی دہلی ۔ 19 اکٹوبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) بیف پارٹی کا اہتمام کرنے پر آج دائیں بازو کے کارکنوں نے جموںو کشمیر اسمبلی کے آزاد رکن اسمبلی شیخ عبدالرشید کے چہرے پر سیاہی پوت دی۔ انھوں نے جاریہ ماہ کے اوائل میں سرینگر میں بطور احتجاج ’بیف پارٹی‘ کی میزبانی کی تھی ۔ وہ انجینئر رشید کے نام سے مشہور ہیں اور آج نئی دہلی پریس کلب میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے خطاب کے بعد جیسے ہی وہ باہرآئے ، دائیں بازو تنظیموں سے تعلق رکھنے والے کارکنوں نے رنگ ، سیاہی اور آئیل اُن پر پھینکا ۔ انجینئر رشید اُودھم پور میں ہجوم کے حملے میں جھلس جانے والے دو ٹرک ڈرائیورس کے رشتہ داروں کے ساتھ یہاں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ واضح رہے کہ جموںعلاقہ میں 9 اکٹوبر کو یہ حملہ کیا گیاتھا جس میں ڈرائیور اور کنڈاکٹر زخمی ہوگئے اور کنڈاکٹر زاہد کی کل صبح صفدر جنگ ہاسپٹل میں موت واقع ہوگئی ۔ آج جیسے ہی اُنھوں نے پریس کانفرنس ختم کی چند ٹی وی صحافیوں نے پریس کلب کی گیٹ پر اُنھیں روک لیا تاکہ اُن کا انٹرویو لیا جاسکے ۔ اُس دوران چند کارکن ’’گاؤ ماتا کا اپمان ، نہیں سہے گا ہندوستان‘‘ کے نعرہ لگاتا ہوا وہاں پہنچا اور اُن پر نیلی سیاہی ، سیاہ رنگ کے علاوہ آئیل پھینکا ۔ چند ٹی وی صحافیوں کے علاوہ پولیس ملازمین بھی اس حملے کی زد میں آگئے اور اُن کے چہروں اور کپڑوں پر بھی سیاہی گری ۔ وہ رکن اسمبلی کو ہجوم سے بچانے کی کوشش کررہے تھے ۔ پولیس نے دو افراد کو حراست میں لے لیا ہے اور اُنھیں پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن منتقل کردیا جبکہ انجینئر رشید کو پریس کلب کے اندر پناہ لینی پڑی تاوقتیکہ پولیس کی مزید جمعیت نہیں پہونچ گئی ۔ رشید کو ریاستی اسمبلی میں بیف پارٹی کی میزبانی پر بی جے پی ارکان اسمبلی نے زدوکوب کی تھی ۔ اُنھوں نے آج کئے گئے حملے کے بعد کہا کہ یہ احتجاجی ذہنی بیمار ہیں ، وہ ساری دنیا کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ کس طرح یہ لوگ کشمیری عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کررہے ہیں۔ یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب اُنھوں نے پریس کانفرنس کے دوران سرینگر میں ایم ایل اے ہاسٹل میں اُن کی طرف سے منعقد کی گئی بیف پارٹی پر تبصرہ کیا تھا ۔ انھوں نے کہاکہ وہ بیف ، مٹن یا چکن نہیں کھاتے لیکن بطور احتجاج اُنھوں نے ایسا کیا اور وہ حکام کو یہ بتانا چاہتے تھے کہ اُنھیں دوسروں کے مذہبی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے ۔ جب اُن سے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں نے پوچھا کہ کیا اس طرح کی پارٹی منعقد کرنے سے عوام کے جذبات مجروح نہیں ہوں گے تو انھوں نے کہاکہ صرف احتجاج کے طورپر اُنھوں نے یہ پارٹی منعقد کی تھی ۔ انجینئر رشید نے ٹرک کنڈاکٹر زاہد کی موت پر اُن کے رشتہ داروں کے ساتھ یہ پریس کانفرنس طلب کی تھی جہاں انھوں نے وزیراعظم نریندر مودی سے اُودھم پور واقعہ کیلئے معذرت خواہی کا مطالبہ کیا ۔ انھوں نے کہاکہ دادری واقعہ کیلئے اگر اُترپردیش حکومت کو ذمہ دار قرار دیا جاسکتا ہے تو پھر اُودھم پور واقعہ کیلئے پی ڈی پی کے ساتھ ساتھ بی جے پی بھی مساوی طورپر ذمہ دار ہے ۔ ٹرک ڈرائیور شوکت اور کنڈاکٹر زاہد دونوں کے رشتہ داروں نے بتایا کہ جس وقت ہجوم نے پٹرول بموں سے حملہ کیا تب وہ دونوں محو خواب تھے ۔ انھوں نے مفتی سعید حکومت پر میڈیا سے رجوع ہونے کے خلاف ارکان خاندان کو ڈرانے ، دھمکانے اور استحصال کرنے کا الزام عائد کیا ۔ انھوں نے کہاکہ مفتی سعید حکومت کو اس کی قیمت چکانی پڑے گی ۔ کیا یہی جمہوریت ہے جس کی ہندوستان دہائی دیتا ہے ۔ زاہد کے رکن خاندان محمد اشرف کے چہرے پر بھی سیاہی پوت دی گئی تھی جس پر انھوں نے کہا کہ یہ صورتحال انتہائی بدترین ہے ۔ چیف منسٹر جموںو کشمیرمفتی محمد سعید نے آزاد رکن اسمبلی شیخ عبدالرشید پر نئی دہلی میں کئے گئے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔

TOPPOPULARRECENT