Friday , October 20 2017
Home / اداریہ / کشمیر ‘ زبانی جمع خرچ کافی نہیں

کشمیر ‘ زبانی جمع خرچ کافی نہیں

اے رخِ زیبا بتادے اور ابھی ہم کب تلک
تیرگی کو شمع، تنہائی کو پروانہ کہیں
کشمیر ‘ زبانی جمع خرچ کافی نہیں
جنت نشان کشمیر میں گذشتہ ایک ماہ سے زیادہ وقت سے کرفیو کا سلسلہ جاری ہے ۔ وادی کے بیشتر علاقوں میںاب بھی حالات معمول پر نہیں آئے ہیں اور عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے ۔ یہاں تعلیمی ادارے بند ہیں ‘ سرکاری دفاتر میں حاضری صفر کے قریب پہونچ گئی ہے ۔ کاروبار بالکل بند ہوکر رہ گئے ہیں اور لوگ اپنے گھروں تک محدود ہیں ۔ یہاں معمول کی زندگی کا تصور تقریبا ناپید ہوگیا ہے ۔ اس کے باوجود حکومتیں صرف بیان بازیوں تک محدود ہیں اور حد تو یہ ہوگئی کہ خود ملک کے وزیر اعظم کو اس مسئلہ پر لب کشائی کا ایک ماہ بعد خیال آیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ خیال بھی پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی تنقیدوںکی وجہ سے آیا ہو ۔ راجیہ سبھا میں قائد اپوزیشن غلام نبی آزاد نے کہا تھا کہ ہندوستان کا تاج جل رہا ہے لیکن اس کی گرمی دہلی تک نہیں پونچتی ۔ یقینی طور پر یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے کیونکہ ایک ماہ تک تشدد ‘ فائرنگ اور احتجاج کے واقعات پیش آتے رہے ۔ ایک ماہ سے زیادہ وقت تک مسلسل کرفیو نافذ رہا لیکن وزیر اعظم نے اس پر کسی طرح کا اظہار خیال کرنے سے گریز کیا تھا ۔ اب بھی جب وزیر اعظم نے لب کشائی کی ہے تو وہ صرف زبانی جمع خرچ کی حد تک ہی محدود نظر آتی ہے ۔جموں و کشمیر کی ریاست کو جنت ارضی برقرا رکھنے کی اپیل تو ضرور وزیر اعظم نے کی ہے لیکن اس کیلئے حکومت کی جانب سے کسی پہل کا کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ وزیر اعظم نے یہ ضرور کہا کہ ریاستی اور مرکزی حکومتیں ریاست کو ترقی کی بلندیوں پر پہونچانا چاہتی ہیں لیکن یہاں فی الحال مسئلہ ترقی کا نہیں بلکہ عام حالات کی فوری طور پر بحالی کا ہے ۔ یہ ایک ریکارڈ ہے کہ آزاد ہندوستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی ریاست میں ایک ماہ سے زیادہ وقت تک کرفیو کا سلسلہ جاری ہے ۔ ریاستی حکومت ایسا لگتا ہے کہ صرف کرفیو میں توسیع کے احکام جاری کرنے تک محدود ہوگئی ہے اور وہ وہاں جاری کارروائیوں پر قابو پانے یا روک لگانے کے موقف میں بالکل نہیں ہے ۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی کے وجود کا احساس تک نہیں ہو پا رہا ہے ۔ وہ بھی صرف مرکز تک نمائندگیوں تک محدود ہوکر رہ گئی ہیں۔ ایسا تاثر عام ہوتا جا رہا ہے کہ محبوبہ مفتی بھی عملی طور پر کچھ بھی کرنے کے موقف میں نہیں رہ گئی ہیں۔
وزیر اعظم نے اس مسئلہ پر لب کشائی بھی ایک عوامی جلسہ میں کی نہ کہ پارلیمنٹ میں۔ انہوں نے کہا کہ وہ کشمیریت ‘ انسانیت اور جمہوریت کے جذبہ کے ساتھ یہاں امن قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یقینی طور پر ریاست میں قیام امن بہت ضروری ہے ۔ اولین ترجیح کی اساس پر ایسی کوشش ضروری ہے لیکن اس کیلئے وزیر اعظم نے نہ کوئی منصوبہ پیش کیا ہے اور نہ ہی کسی طرح کے اقدامات کا حوالہ دیا ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ اپوزیشن کے دباؤ کے تحت مجبور ہو کر یہ بیان دیا گیا ہے ور نہ انہیں اس مسئلہ کی کوئی فکر لاحق نہیں ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں چند گمراہ افراد کو تو ضرور تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن انہوں نے پیالٹ گنس کے استعمال سے ہونے والے نقصانات پر زبان کھولنا ضروری نہیں سمجھا ۔ ہزاروں نوجوانوں کو جیل بھیج دیا گیا ہے اس پر انہوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا ۔ سینکڑوں افراد بینائی سے محروم ہوگئے ہیں اور دوسرے ہزاروں زخمی ہوکر دواخانوں میں زیر علاج ہیں ۔ دواخانوں میں علاج کی درکاری سہولیات دستیاب نہیں ہیں ۔ ان مسائل پر وزیر اعظم نے کوئی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی انہوں نے ریاستی حکومت کیلئے کوئی ہدایتنامہ جاری کیا ہے کہ وہ وادی میں امن بحال کرنے فوری اقدامات کرے ۔ انہوں نے حالات کو قابو میں کرنے محبوبہ مفتی حکومت کے اقدامات کی ستائش کی ۔ اب یہ ستائش مسلسل ایک ماہ کرفیو برقرار رکھنے پر کی گئی یا پھر کشمیری عوام کو پیالٹ گنس سے نشانہ بنانے پر کی گئی اس کی وضاحت خود وزیر اعظم نریندر مودی یا پھر مرکزی حکومت کے نمائندوں کو کرنے کی ضرورت ہے ۔
کشمیر یقینی طور پر ہندوستان کا تاج ہے ‘ یقینی طور پر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے ‘ یقینی طور پر کشمیری عوام امن پسند ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ملک کی کسی اور ریاست میں ایک ماہ تک کرفیو کا سلسلہ برقرار رہتا ہے تو مرکزی حکومت خاموش تماشائی بنی بیٹھی رہے گی ؟ ۔ کیا کسی غیر بی جے پی ریاست میں حالات اس حد تک بگڑ جائیں گے تو وزیر اعظم وہاں کے چیف منسٹر کو شاباشی دینگے ؟ ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی ہتھکنڈوں کو ترک کرتے ہوئے اور محض زبانی جمع خرچ سے گریز کرتے ہوئے وادی میںحالات کو معمول پر لانے اور عوام کو راحت پہونچانے کیلئے سنجیدگی سے کوششیں کی جائیں ۔ اپوزیشن جماعتوں سے ‘ عوامی نمائندوں سے تعاون لیا جائے اور خود وادی کے عوام کو اعتماد میں لیتے ہوئے وہاں حالات اور عوام کا اعتماد دونوں بحال کرنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT