Thursday , June 29 2017
Home / مضامین / کشمیر سے محبت کشمیریوں سے نفرت کیوں ؟

کشمیر سے محبت کشمیریوں سے نفرت کیوں ؟

خلیل قادری
ہندوستان کا اٹوٹ حصہ کشمیر ایک بار پھر انتہائی ناگفتہ بہ حالات کا سامنا کر رہا ہے ۔ کشمیر کو جنت نشان کہا جاتا ہے لیکن وہاں پیش آنے والے واقعات نے کشمیریوں کی زندگیوں کو دوزخ بناکر رکھ دیا ہے ۔ بیرونی عناصر ہوں یا داخلی عناصر ہوں یا پھر نفاذ قانون کی ایجنسیاں ہوں سبھی کسی نہ کسی حد تک ان حالات کے ذمہ دار ہیں اور خاص طور پر حکومتوں کی لاپرواہی یا مفادات کی فکر نے حالات کو اور بھی خراب کردیا ہے ۔ حکومتیں ہوں یا ملک کے عوام ہوں سبھی یہ اعلان بارہا کرتے ہیں کہ کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے ۔ یقینی طور پر کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس کی ایک انچ زمین بھی کسی کو نہیں دی جاسکتی اور اس کے تحفظ کیلئے سارا ملک ایک ہوکر مقابلہ کرنے بھی تیار ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف کشمیر ہی ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے ؟ ۔ کیا کشمیری عوام ہندوستانی نہیں ہیں ؟ ۔ کیا انہیں مساوی حقوق نہیں دئے جاسکتے؟۔ کیا کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے پر حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت نہیں ہے ؟ ۔ کشمیر میں ایک طرح سے دیکھا جائے تو تشدد کا دوسرا مرحلہ چل رہا ہے ۔ یہاں گذشتہ سال حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے تشدد کا ایک خطرناک مرحلہ شروع ہوا تھا ۔ اس میں کئی افراد کی جانیں بھی تلف ہوئیں اور بے شمار نقصان بھی ہوا ۔ جو لوگ ہلاک ہونے سے بچ گئے وہ آج بھی پیلٹ گنس کے اثرات کی وجہ سے معذوری کی زندگی گذارنے پر مجبور کردئے گئے ہیں۔ سنگباری کے واقعات ہوں یا سنگباری سے بچنے کیلئے کی جانے والی فائرنگ ہو دونوں ہی پہلو حساس ہیں اور یہ احتیاط کے متقاضی بھی ہیں۔ گذشتہ سال کا تشدد مہینوں تک جاری رہا تھا اور اس وقت بھی کئی گوشوں سے یہ کہا جا رہا تھا کہ حکومت کو ان حالات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ حکومت محض وقفہ وقفہ سے کچھ دن اس مسئلہ پر اظہار خیال کرنے کے آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہے ۔ مرکزی حکومت کا رویہ بھی لا پرواہی والا ہے تو ریاستی حکومت کا وجود ہی کہیں دکھائی نہیں دیتا ۔ حالانکہ ماضی میں بھی کشمیر میں تشدد کی لہر چلی ہے اور اس کی مثالیں موجود ہیں لیکن اب حالات مزید دگرگوں ہوتے جا رہے ہیں اور افسوس کی بات یہ ہے کہ سارے ملک میں کشمیریوں سے نفرت کا ماحول گرم کیا جا رہا ہے ۔ ماضی میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب کشمیریوں کو ملک کے دوسرے حصوں میں کسی امتیاز کا سامنا کرنا پڑا ہو یا کسی نے ان کے حال پر توجہ دینا ضروری نہ سمجھا ہو لیکن اب کشمیریوں پر ملک کے دوسرے حصوں میں حملے ہونے شروع ہوگئے ہیں۔ اس پر نہ قومی میڈیا میں کوئی بحث ہو رہی ہے اور نہ حکومت کی جانب سے کوئی فوری اقدامات کرنے کے اشارے دئے جا رہے ہیں۔

کشمیری باشندوں پر بی جے پی کے اقتدار والی ریاستوں راجستھان اور اترپردیش میں حملے ہوئے ہیں۔ اترپردیش میں تو جس طرح سے مسلمانوں کو نقل مقام کرنے کیلئے کھلے عام دھمکیاں دی گئی تھیں اسی طرح کشمیریوں کو بھی خبردار کردیا گیا ہے کہ وہ بھی اترپردیش سے چلے جائیں ۔ یہ صورتحال ملک کے وفاقی اصولوں کے مغائر ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ حکومت اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے ۔ آج حالات جس نہج پر جا رہے ہیں ان کو دیکھتے ہوئے ضروری ہوگیا ہے کہ اس مسئلہ پر حکومت اپنی توجہ مرکوز کرے ۔ حکومت کو مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کیلئے انسانی پہلو کو نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔ جب تک انسانی پہلو کو اختیار نہیں کیا گیا اس وقت تک کشمیریوں کو قومی دھارے میں شامل ہونے کا احساس نہیں دلایا جاسکے گا ۔ ان سے نفرت کرنے کی بجائے انہیں محبت کے ساتھ ملک کی ترقی کے ثمرات میں شریک کرنے کی ضرورت ہے ۔ کشمیر میں جو حالات ہیں وہ سارا ملک جانتا ہے اور اس کے اثرات اور مضمرات سب سے زیادہ حکومت سمجھتی ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ ایک طویل وقت سے کشمیر میں عسکریت پسندی اور تخریب کاری نے اپنا اثر دکھایا ہے لیکن یہ کشمیر ہی کے عوام تھے جنہوں نے تخریب کاری اور عسکریت پسندی سے بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے جمہوریت میں اپنے یقین کا اظہار کیا تھا اور ریاست میں صدر راج کو ختم کرتے ہوئے عوامی منتخبہ حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی تھی ۔ اس وقت کشمیری عوام میں قومی دھارے میں شامل ہونے کا ایک احساس پیدا ہوا تھا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ اس احساس کو مزید مستحکم کیا جاتا اور کشمیری عوام کے اعتماد کو بحال کیا جاتا ۔ اگر اس پہلو پر کوئی کامیابی حاصل ہوتی ہے تو پھر جو بیرونی عناصر ریاست کا امن چین خراب کر رہے ہیں ان کے ناپاک عزائم اور منصوبوں کو شکست دینا زیادہ مشکل نہیں رہ جاتا ۔ تاہم ایسا کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ اگر کوئی ملک دشمن طاقتیں یا عناصر کشمیریوں کو ہندوستان کے قومی دھارے سے دور کرنا چاہتی ہیں تو حکومت اپنی کوشش سے انہیں ناکام بناسکتی ہے ۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے کشمیریوں کو امن چین کی زندگی فراہم کی جائے ۔ ان میں طمانیت کا احساس پیدا کیا جائے ۔ انہیں قومی دھارے میں شامل کرنے کیلئے ترغیب دی جائے ۔ ان کی زندگیوں میں راحت لائی جائے ۔ ایسا کرنا مرکزی حکومت کیلئے ناممکن نہیں ہے ۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ حکومت ایک سیاسی عزم اور حوصلے کے ساتھ اس سلسلہ میں پہل کرے ۔ محض اعلانات کرتے ہوئے وقتی طور پر کوئی کام کردیا جائے تو یہ ریاست کی حالت کو سدھارنے کیلئے کافی نہیں ہوسکتا ۔ اس کیلئے ایک بے تکان جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ۔ سب سے پہلے حکومت کو کشمیری عوام کی مشکلات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔ ان مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے جنہیں کشمیری عوام کئی برسوں سے جھیل رہے ہیں۔ یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ کچھ مٹھی بھر عناصر ریاست کا امن چین برباد کرنے پر تلے ہیں اور وہ بھی ریاست کی ناگفتہ بہ حالت کے ذمہ دار ہیں لیکن ان کی وجہ سے حکومتیں اپنی ذمہ داریوں سے بری الذمہ نہیں ہوسکتیں ۔

حکومتیں تصور کرسکتی ہیں کہ برسوں کے تشدد اور تخریب کاری کے انسانی ذہن پر کیا اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ کچھ کشمیری باشندے اگر ریاست کے حالات کی وجہ سے نقل مقام کرتے ہیں ‘ حصول تعلیم یا تجارت کی غرض سے یا گذر بسر کیلئے ملازمت کی غرض سے ملک کی کسی دوسری ریاست میں جاتے ہیں تو وہاں ان کے ساتھ مساویانہ سلوک کرنے کی ضرورت ہوتی ہے نہ کہ نفرت پر مبنی حملوں کی ۔ ایسے حملے کشمیری عوام کے یکا و تنہا ہونے کے احساس میں مزید شدت پیدا کرنے کا موجب ہوسکتے ہیں۔ حالانکہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے ریاستوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ کشمیری عوام کی حفاظت اور ان کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔ مرکز کی جانب سے محض ایک رسمی ہدایت کافی نہیں ہوسکتی ۔ جس طرح دوسری ریاستوں میں کشمیری عوام کے تحفظ کیلئے حکومت فکرمندی کر رہی ہے اسی طرح اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ خود جموں و کشمیر میں حالات کو بہتر بنانے اور وہاں تخریب کاری اور عسکریت پسندی کی وجہ سے غیر محفوظ تصور کرنے والے کشمیریوں کی حفاظت کیلئے بھی اقدامات کرے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے ابتداء میں کشمیر کی صورتحال کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار کیا تھا ۔ انہوں نے 2015 میں ریاست کیلئے ہزاروں کروڑ روپئے کے پیکج کا بھی اعلان کیا تھا ۔ حکومت نے برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کی صورتحال میں ارکان پارلیمنٹ کا ایک وفد بھی کشمیر کو روانہ کیا تھا لیکن یہ پہل صرف ایک پہل تک محدود رہی اور اس کے بعد اس عمل کو آگے بڑھانے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کئے گئے ۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ 80 ہزار کروڑ روپئے کے پیکج میں اب تک مرکز نے کتنے ہزار کروڑ روپئے ریاست کیلئے جاری کئے ہیں۔ کتنے پراجیکٹس کی منصوبہ بندی ہوئی ہے ۔ کتنے پراجیکٹس پر کام شروع ہوا ہے ۔ ابھی کتنے پراجیکٹس محض کاغذ تک محدود ہیں۔ موجودہ صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ کشمیر کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے اجتماعی کوششیں کی جائیں۔ حکومت ایک سیاسی عزم کے ساتھ آگے بڑھے ۔ ملک کی اپوزیشن جماعتوں سے تعاون حاصل کرے اور کشمیر میں جاری تشدد کا سلسلہ بند کرے ۔ کشمیر کے عوام میں اپنائیت کا احساس پیدا کیا جائے ۔ ملک بھر میں یہ تاثر دیا جائے کہ جس طرح سے کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اسی طرح سے کشمیری بھی ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہیں۔ ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جائے جو ملک کی دوسری ریاستوں کے شہریوں کے ساتھ کیا جاتا ہے ۔ انہیں بھی یہ احساس دلایا جائے کہ حکومت ان کی فلاح و بہبود کیلئے سنجیدہ ہے ۔ حکومت ان کی زندگیوں میں بھی چین و سکون لانا چاہتی ہے ۔ جب حکومت ایسا کرنے میں کامیاب ہوجائیگی تو جو بیرونی عناصر اور قوم دشمن طاقتیں کشمیر میں سرگرم ہیں انہیں شکست دینا زیادہ مشکل نہیں رہ جائیگا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT