Wednesday , October 18 2017
Home / پاکستان / ’کشمیر میں آزادی کی ایک نئی تحریک ‘: نواز شریف

’کشمیر میں آزادی کی ایک نئی تحریک ‘: نواز شریف

اسلام آباد ۔ 3 اگست (سیاست ڈاٹ کام) پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ایک نئی مخالفانہ مہم چھیڑتے ہوئے آج کہا کہ کشمیر ’آزادی کی ایک نئی تحریک‘ کا مشاہدہ کررہا ہے اور انہوں نے اپنے سفارتکاروں پر زور دیا کہ وہ دنیا کو اس بات سے واقف کرائیں کہ کشمیر ’ہندوستان کا داخلی مسئلہ نہیں ہے‘۔ نواز شریف نے وزارت خارجہ کے زیراہتمام یہاں منعقدہ سفیروں کی تین روزہ کانفرنس کے اختتامی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’مسئلہ کشمیر کی اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق یکسوئی اور کشمیری عوام کے امنگوں کی تکمیل پاکستانی خارجہ پالیسی کا سنگ میل ہے‘‘۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ ’’کشمیر آج آزادی کی ایک نئی تحریک کا مشاہدہ کررہا ہے۔ یہ تحریک اب کشمیری عوام کی تیسری نسل میں سرایت کر گئی ہے اور دنیا بذات خود 8 جولائی کو پیش آئے واقعہ کے بعد اس میں پیدا شدہ شدت کو دیکھ رہی ہے۔ کشمیری نوجوان حق خوداختیاری کے حصول کیلئے اپنی قربانیوں کی تاریخ کا ایک نیا باب لکھ رہے ہیں‘‘۔ نواز شریف نے یہ بیان ایک ایسے وقت دیا ہے جب ہندوستان کے وزیرخارجہ راجناتھ سنگھ سارک وزارئے داخلہ کی کانفرنس میں شرکت کیلئے آج یہاں پہنچے ہیں۔ نواز شریف نے کشمیر میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا شدہ تشدد کے پس منظر میں کہا کہ ’’وہ (کشمیری نوجوان) بندوق کی گولیوں کے سبب بینائی سے محروم ہوگئے ہیں لیکن آزادی کی تمنا انہیں اپنی منزل مقصود تک رہنمائی کرتی رہے گی‘‘۔ نواز شریف نے پاکستانی سفارتکاروں پر زور دیا کہ وہ دنیا کو یہ باور کرائیں کہ کشمیر ہندوستان کا داخلہ مسئلہ نہیں ہے۔ واشنگٹن، بیجنگ ، نئی دہلی، کابل، اقوام متحدہ، نیویارک، اقوام متحدہ جنیوا ، ویانا، بروسلز ، ماسکو اور دیگر ممالک میں تعینات اپنے سفیروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ تمام علاقائی ممالک کے ساتھ پرامن طریقہ سے بات چیت کے ذریعہ باہمی مسائل حل کئے جاسکتے ہیں۔ نواز شریف نے مزید کہا کہ ’’ہم اسی تصادم کے متحمل نہیں ہیں ۔ اگر ہم کوئی تصادم کا حصہ بنتے ہیں تو سماجی و معاشی شعبوں میں ہماری ترقی متاثر ہوسکتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مساوات ، عزت و احترام کی بنیاد پر ساری دنیا میں امن کا خواہشمند ہیں ’’لیکن دوستی کیلئے ہماری خواہش کو کمزوری نہیں سمجھا جانا چاہئے‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT