Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں آگ بھڑکانے والوں میںاقتداری طاقتیں ملوث: بی جے پی

کشمیر میں آگ بھڑکانے والوں میںاقتداری طاقتیں ملوث: بی جے پی

صدرجمہوریہ سے کُل جماعتی وفد کی نمائندگی پر تنقید‘ سرینگر میں کرفیو برقرار‘ 44ویں دن میں بھی عام زندگی مفلوج
نئی دہلی ۔21اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) وادی کشمیر میں جاری بدامنی اور تشدد کے واقعات کو مزید بھڑکانے میں اپوزیشن پارٹیوں کے ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی نے آج کہا کہ جو سیاسی طاقتیں برسراقتدار رہ چکی ہیں وہیں کشمیر میں آگ پر تیل چھڑک رہی ہیں ۔ یہ بدبختی کی بات ہیکہ ایک طویل عرصہ سے حکومت کرنے والے سیاسی گروپس ہیکشمیر کے مسائل کیلئے ذمہ دار ہیں اور اب یہی گروپس جلتی  پر تیل چھڑکنے کا کام کررہے ہیں ۔ صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے کشمیر کی اپوزیشن پارٹیوں کے وفد کی ملاقات کے ایک دن بعد بی جے پی نے کہاکہ یہ پارٹیاں مرکز پر تنقیدیں کررہی ہیں ۔ نیشنل کانفرنس اور کانگریس کے بشمول کئی پارٹیوں نے صدر جمہوریہ سے کل نمائندگی کی تھی اور کہا تھا کہ مرکز مسئلہ کشمیر کو سیاسی نوعیت سے نہیں دیکھ رہا ہے ۔ بی جے پی نے اس ملاقات کو محض خودنمائی کے سوا کچھ نہیں قرار دیا ۔ بی جے پی کے قومی سکریٹری سریکانت شرما نے کہا کہ یہ بڑی بدبختی کی بات ہے کہ جن پارٹیوں نے طویل مدت حکمرانی کی مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ اب یہ پارٹیاں آگ بھڑکانے میں ملوث طاقتوں میںشامل ہوگئی ہیں ۔ ان کی صدر جمہوریہ سے نمائندگی سوائے خودنمائی کے کچھ نہیں تھی ۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ مرکزی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کے دورہ کشمیر اور کُل جماعتی اجلاس سے دونوں پارٹیوں نیشنل کانفرنس اور کانگریس نے بائیکاٹ کیا تھا ۔ ان پارٹیوں نے سرینگر میں منعقدہ 15 اگست کی تقریب میں بھی شرکت نہیںکی جہاں چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے قومی پرچم لہرایا تھا ۔ وادی کشمیر کی بدامنی کی آگ کو ختم کرنے کیلئے یہ ضروری ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں ایک آواز ہوکر مسئلہ کو اٹھائیں  اور پاکستان کی سازش کو ناکام بنائیں جو اس بدامنی کیلئے اصل ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے کشمیر کی اپوزیشن پر زور دیا کہ وہ برسراقتدار حکمراں پارٹی سے تعاون کریں تاکہ وادی میں امن کو بحال کیا جاسکے ۔ عوام جانتے ہیںکہ یہ ملک کے پہلے وزیراعظم جواہرلعل نہرو کی غلطیاں تھیں جس کی وجہ سے کشمیر میں مسائل پیدا ہوئے ہیں ۔ سریکانت شرما نے علحدگی پسندوں کو بھی نشانہ بنایا اور ان کے حامیوں پر بھی تنقیدکی اور کہا کہ یہ لوگ اپنے بچوں کو بیرونی ممالک بھیج دیئے ہیں اور وادی میںکشیدگی کو ہوا دینے کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں ۔ ان کی کوششوں نے وادی کشمیر کے سیاحتی موسم کو تباہ و برباد کردیا ہے ۔ اس سے کشمیر کے عام آدمیوں کی روٹی روزی متاثر ہوئی ہے ۔ سابق چیف منسٹر جموں و کشمیر عمر عبداللہ کی زیرقیادت جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والی اپوزیشن پارٹیوں کے ایک وفد نے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات کر کے کشمیر کا سیاسی حل تلاش کرنے کیلئے مرکز پر دباؤ ڈالنے کی خواہش کی تھی۔ اس دوران وادی کشمیر میں صورتحال 44ویں دن بھی کشیدہ رہی ‘ عوامی زندگی مفلوج ہے ۔ سرینگر میں کرفیو برقرار ہے جبکہ کشمیر کے دو ٹاؤنس میں پابندی عائد کردی گئی ہے ۔ ساری وادی میں عام زندگی متاثر ہے ۔ ضلع سرینگر میں کرفیو کو مجبوراً نافذ کیا گیا ہے ۔ اننت ناگ اور پامپوری ٹاؤنس میں احتیاطی اقدام کے طور پر امتناعی احکام نافذ ہیں ۔

جموں و کشمیر کے اپوزیشن وفدکی وزیراعظم سے آج ملاقات
نئی دہلی ۔21اگست ( سیاست ڈاٹ کام )جموں و کشمیر میں انتشار کے دوران ریاستی اپوزیشن پارٹیوںکے ایک وفد نے وزیراعظم نریندر مودی سے کل ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں ریاستی کے بحران کے سیاسی حل کی ضرورت پر زور دیا جائے اور دلچسپی رکھنے والے تمام فریقین سے بات چیت کیلئے پہل کرنے کی اُن سے خواہش کی جائے ۔ سابق چیف منسٹر عمرعبداللہ ( نیشنل کانفرنس ) کی زیرقیادت وفد وزیراعظم سے ملاقات کر کے انہیں ریاست کی حقیقی صورتحال کی تفصیلات سے واقف کروائے گا ۔ کیونکہ ریاست میں طویل مدتی تشدد اور بندجاری ہے ۔

TOPPOPULARRECENT