Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / کشمیر میں اسلامی لباس پر اعتراض کے سنگین نتائج کا انتباہ

کشمیر میں اسلامی لباس پر اعتراض کے سنگین نتائج کا انتباہ

سری نگر ۔ 18جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) بزرگ علیحدگی پسند رہنما اور حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی نے دہلی پبلک اسکول سری نگر کی انتظامیہ کی طرف سے ایک استانی کے عبایا پہننے پر اعتراض اٹھانے کو بہت زیادہ افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسکول انتظامیہ کو اس واقعے کیلئے فوری طور پر غیرمشروط معافی مانگی چاہیے اور اس بات کو یقینی بنالینا چاہیے کہ آئندہ کیلئے کبھی بھی اس طرح کی حماقت سرزد نہ ہو۔ مسٹر گیلانی نے کہا کہ جموںو کشمیر ایک مسلم اکثریتی ریاست ہے اور یہاں اسلامی لباس پر اعتراض کرنے کے نتائج انتہائی سنگین ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسکول انتظامیہ کو ہوش کے ناخن لینا چاہیے اور اس حساسیت کو کبھی بھی نظرانداز کرنے کی غلطی نہیں دہرانی چاہیے ۔ حریت چیئرمین نے یہاں اپنے ایک بیان میں کہا کہ کسی کے عبایا یا برقعہ پہننے پر اعتراض کرنے کا ویسے بھی کوئی اخلاقی جواز نہیں ہے۔
اور یہ ایک انسان کے عزتِ نفس کے بھی خلاف ہے ۔ خود امریکہ اور یورپ میں بھی اس ٹرینڈ کے خلاف اب سنجیدہ آوازیں بلند ہورہی ہیں اور اس کو انسانی حقوق کے احترام کے منافی سمجھا جانے لگا ہے ۔ وہاں فیشن ایبل لوگوں کی طرف سے بھی عبایا اور برقعہ پہننے والی خواتین کا احترام کیا جاتا ہے اور اس کا اخلاقی سپورٹ کیا جاتا ہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT