Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں اضطراب آمیز سکون ، مہلوکین کی تعداد 43ہوگئی

کشمیر میں اضطراب آمیز سکون ، مہلوکین کی تعداد 43ہوگئی

نیٹ امتحان کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے محبوبہ مفتی کی ہدایت ، عمر عبداللہ کی گو رنر سے بات چیت
سرینگر ۔ 20 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کرفیو زدہ وادی کشمیر میں دوسرے دن آج بھی اضطراب آمیز سکون رہا جہاں مزید ایک شخص زخموں سے جانبر نہ ہوسکا جس کے ساتھ ہی 8 جولائی سے پھوٹ پڑنے والی جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 43 ہوگئی ہے۔ اس دوران علحدگی پسندوں نے اب اپنی جاری رواں ہڑتال کو 25 جولائی تک جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ توقع ہیکہ وادی میں کل سے اخباروں کی اشاعت دوبارہ شروع ہوجائے گی جو اشاعتی اداروں کے خلاف سرکاری کارروائی کے سبب گذشتہ 6 دن سے معطل تھی لیکن حکومت نے اخبارات کے خلاف کسی کارروائی کی تردید کی ہے تاہم ایک سینئر وزیر نعیم اختر نے قبل ازیں ایسی کارروائی کو منصفانہ قرار دیا تھا۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی سے مدیرانِ جرائد کی ملاقات کے چند گھنٹوں بعد اشاعت کی بحالی کا فیصلہ کیا گیا۔ محبوبہ مفتی انہیں میڈیا کی آزادی کا یقین دلایا۔ فوج کے سربراہ جنرل دلبیر سنگھ نے جو وادی کشمیر کے ایک روزہ دورہ پر ہیں، مقامی صورتحال کا جائزہ لیا اور لائن آف کنٹرول پر سخت نگرانی کی ہدایت دیتے ہوئے عوام سے امن و امان برقرار رکھنے اپیل کی۔ وادی کشمیر میں مجموعی صورتحال پرامن رہی اور گذشتہ روز سے تاحال کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ 56 سالہ غلام محمد میر جو 15 جولائی کو شمالی کشمیر میں زخمی ہوگئے تھے ، آج دواخانہ میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ محبوبہ مفتی نے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ امن و قانون کی صورتحال کا جائزہ لیا ۔انہوں نے غریب خاندانوں میں غذائی اجناس کی مفت تقسیم اور نیٹ امتحان کے بہرصورت پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ سابق چیف منسٹر عمر عبداللہ نے گورنر این این ووہرہ سے ملاقات کے دوران وادی کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال کیا اور بعض واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے گورنر سے وادی میں امن و قانون اور معمول کے حالات کی عاجلانہ بحالی پر زور دیا۔

TOPPOPULARRECENT