Monday , August 21 2017
Home / ہندوستان / کشمیر میں افضل گرو کی تیسری برسی کے موقع پر احتجاجی ہڑتال

کشمیر میں افضل گرو کی تیسری برسی کے موقع پر احتجاجی ہڑتال

پولیس کی سخت چوکسی اور علحدگی پسند قائدین کی نظر بندی
سرینگر ۔ 9 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : علحدگی پسندوں کی جانب سے پارلیمنٹ پر حملہ کے مرتکب افضل گرو کو 3 سال قبل آج ہی کے دن پھانسی کی سزا دئیے جانے کی یاد میں ہڑتال کے اعلان کے پیش نظر سرکاری حکام نے سیکوریٹی کو مزید سخت اور احتیاطی اقدامات کئے ہیں ۔ ایک پولیس عہدیدار نے بتایا کہ قدیم شہر کے 5 پولیس اسٹیشن کے حدود میں احتیاطی اقدام کے طور پر تحدیدات عائد کردئیے گئے ہیں جہاں پر امن و قانون کا مسئلہ پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے ۔ علاوہ ازیں نظم و ضبط کی برقراری کے لیے سیومہ اور کرل کھڈ پولیس اسٹیشن میں اضافی فورس متعین کردی گئی ہے ۔ افضل گرو کی تیسری برسی کے موقع پر علحدگی پسندوں کی ہڑتال کے اعلان سے سرینگر میں آج عام زندگی متاثر رہی ۔ جب کہ پارلیمنٹ پر حملہ کے کیس میں سزائے موت سنانے کے بعد سال 2013 میں آج کے دن افضل گرو کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا تھا اور ان کی نعش کو تہاڑ جیل دہلی میں دفنا دیا گیا تھا ۔ اگرچیکہ سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق جیسے علحدگی پسند لیڈروں کو باقاعدہ گرفتار نہیں کیا گیا لیکن انہیں گھروں پر نظر بند کردیا گیا ہے ۔ دریں اثناء ہڑتال کے پیش نظر سی آر پی ایف کے تمام یونٹس کو وادی کشمیر میں چوکس کردیا گیا ہے ۔ سی آر پی ایف کے ترجمان نے بتایا کہ حریت کانفرنس کے تمام گروپس اور علحدگی پسندوں نے 10 ، 9 اور 11 فروری کو ہڑتال اور احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا ۔ جس کے پیش نظر سی آر پی ایف تمام دستوں کو متحرک کردیا گیا ۔ پرانا شہر کے علاقوں میں جمعہ اور اتوار کے دن سنگباری کے واقعات کے پیش نظر سی آر پی ایف کے دستوں کو طلب کرلیا گیا ا ور یہ ہدایت دی گئی ہے کہ مقامی پولیس کے ساتھ تال میل پیدا کرتے ہوئے علحدگی پسندوں کی کسی بھی اشتعال انگیزی کا منہ توڑ جواب دیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT