Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / کشمیر میں امن کیلئے اپیل ۔ لوک سبھا میں قرار داد کی منظوری

کشمیر میں امن کیلئے اپیل ۔ لوک سبھا میں قرار داد کی منظوری

ملک کے اتحاد ‘ سالمیت اور قومی سلامتی پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔ عوام کی مشکلات ختم کرنے فوری اقدامات کی بھی خواہش

نئی دہلی 12 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) کشمیر میں طویل کرفیو ‘ تشدد اور انسانی زندگیوں کے اتلاف پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لوک سبھا نے آج اتفاق رائے سے ایک قرار داد منظور کی اور یہ اپیل کی گئی کہ وادی میں امن اور نظم بحال کرنے کیلئے فوری اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ قرار داد میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ملک کی سالمیت اور سکیوریٹی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا ۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے ایوان میں یہ قرار داد پڑھ کر سنائی جس کے ذریعہ ایوان نے جموں و کشمیر میں سماج کے تمام طبقات سے اپیل کی کہ وہ وادی میں عوام اور خاص طور پر نوجوانوں میں اعتماد بحال کریں۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ ایوان انسانی زندگیوں کے اتلاف ‘ شدید زخم آنے اور صورتحال کے بگڑنے پر تشویش کا اظہار کرتا ہے ۔ ایوان میں تمام گوشوں سے بنچوں کی تھپتھپاہٹ کے دوران قرار داد میں واضح کیا گیا کہ ایوان کا یہ خیال ہے کہ ملک کے اتحاد ‘ سالمیت اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا ۔ ساتھ ہی یہ ضروری ہے کہ عوام کی مشکلات کو دور کرنے اور امن و ضبط کو بحال کرنے کیلئے فوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔

ایوان میں اپوزیشن ارکان نے خواہش کیا کہ وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کی بجائے اسپیکر سمترا مہاجن یہ قرار داد پڑھیں۔ قبلا زیں کانگریس کے لیڈر ملکارجن کھرگے نے مطالبہ کیا کہ ایوان میں کشمیر پر ایک قرار داد منظور کی جانی چاہئے جہاں صورتحال انتہائی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور دن بدن بگڑتی جا رہی ہے ۔ کھرگے نے کہا کہ ایوان کو یہ اپیل کرنی چاہئے کہ ساری قوم اس مسئلہ پر متحد ہے ۔ کھرگے کی اس تجویز سے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے فوری اتفاق کیا ۔ قبل ازیں کانگریس چیف وہپ جیوتر آدتیہ سندھیا کو وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ سے کچھ تبادلہ خیال کرتے ہوئے دیکھا گیا ۔ یہ تبادلہ خیال قرار داد کی منظوری کے تعلق سے تھا ۔ جاریہ ہفتے کے اوائل میں راجیہ سبھا میں ایک قرار داد منظور کی گئی تھی جس میں طویل گڑبڑ ‘ تشدد اور وادی کشمیر میں کرفیو پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا ۔ لوک سبھا میں یہ قرار داد مانسون سشن کے غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہونے کے بعد منظور کی گئی ۔ قرار داد کی منظوری کے بعد ٹی ایم سی کے رکن سدیپ بندوپادھیائے نے ریمارک کیا کہ ایک ہفتے میں یہ دوسری مرتبہ ہے کہ ایوان میں اتفاق رائے دیکھا گیا ۔ اس سے قبل ایوان میں جی ایس ٹی دستوری بل کی منظوری کے وقت اتفاق رائے دیکھا گیا تھا ۔ قرار داد میں یہ واضح کیا گیا کہ ملک کے اتحاد اور سالمیت پر سمجھوتہ نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ ضروری ہے کہ وادی میں حالات کو بحال کرنے فوری اقدامات کئے جائیں۔

کشمیر میں کرفیو جاری ‘ علیحدگی پسندوں کا مارچ کا منصوبہ
سرینگر 12 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام) کشمیر کے کئی علاقوں میں آج کرفیو نافذ کردیا گیا جبکہ وادی کے مابقی علاقوں میں تحدیدات عائد کردی گئیں تاکہ علیحدگی پسندوں کی جانب سے مارچ کے منصوبہ کو ناکام بنایا جاسکے ۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ سارے سرینگر ضلع ‘ اننت ناگ ٹاؤن ‘ شوپیان ٹاؤن ‘ بارہمولا ٹاؤن ‘اونتی پورہ اور پامپور ٹاؤنس میں کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گندربل ٹاؤن ‘ گڈگام ‘ چڈورا ‘ ماگم ‘ کنزر ‘ تن مارگ اور پٹن علاقوں میں بھی احتیاطی طور پر کرفیو نافذ کردیا گیا ہے ۔ گذشتہ جمعہ کو وادی میں کئی مقامات پر احتجاجیوں اور سکیوریٹی فورسیس کے مابین زبردست جھڑپیں پیش آئی تھیں۔ ان میں تین افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ علحدگی پسندوںکی جانب سے مارچ کا منصوبہ ہے جسے حکام ناکام بنانا چاہتے ہیں۔ وادی کے بیشتر علاقوں میں 34 دن سے کرفیو کا سلسلہ جاری ہے ۔ یہاں عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ہے اور حکام کی جانب سے کئی تحدیدات عائد کی گئی ہیں۔ موبائیل خدمات بھی منقطع ہیں۔

TOPPOPULARRECENT