Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں انسداد شورش پسندی کارروائی میں مشکلات : فوج

کشمیر میں انسداد شورش پسندی کارروائی میں مشکلات : فوج

ہجوم کی دخل اندازی کی وجہ سے کارروائی میں رکاوٹیں ، فوج کے بیان کا اجراء
سرینگر ۔ /10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) فوج نے آج کہا کہ اسے انسداد شورش پسندی کارروائیوں میں جموں و کشمیر میں سخت مشکلات پیش آتی ہیں کیونکہ ہجوم کی جانب سے کارروائی میں دخل اندازی کی جاتی ہے ۔ فوج کی جانب سے ہجوم کے خلاف کارروائی کے نتیجہ میں جانی و مالی نقصان کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے فوج ان کے خلاف مناسب کارروائی کرنے سے گریز کرتی ہے ۔ بیان اس پس منظر میں اہمیت رکھتا ہے کہ فوج پر مقامی افراد کی انسداد شورش پسندی کارروائیوں کے دوران سنگباری کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں ۔ مثال کے طور پر /18 فبروری کو پولیس نے شہریوں کو مشورہ دیا تھا کہ انکاؤنٹر کے مقام سے دو کیلو میٹر کے دائرہ میں رہنے والے افراد کو انکاؤنٹر کے دوران اپنے گھروں تک محدود رہنا چاہئیے اور بچوں کو بھی گھر سے باہر جانے کی اجازت نہ دینی چاہئیے ۔ تاہم مشورہ کو نظرانداز کرتے ہوئے گزشتہ ماہ عوام کی دخل اندازی کا مشاہدہ کیا گیا جس کی وجہ سے جن دیہاتوں کا محاصرہ کیا گیا تھا وہاں سے عسکریت پسند فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے

ورنہ لشکر طیبہ کے سربراہ ابو دجانا کے ساتھ ان کے کئی دیگر ارکان بھی گرفتار ہوجاتے یا ہلاک کردیئے جاتے ۔ فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ عرصہ میں ضلع اننت ناگ کے ایک مقام پر دو شہری فوج کی فائرنگ سے زخمی ہوگئے ۔ جبکہ فوج احتیاطی طور پر فائرنگ کررہی تھی ۔ مزيد زخمیوں یا ارکان عملہ کی جائیداد ، ہتھیاروں ، آلات اور دیگر سرکاری جائیداد کو ہجوم سے خطرہ لاحق ہوگیا تھا فوج اور پولیس نے جنوری میں بعض عسکریت پسندوں سے مگرے محلہ میں عسکریت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع پر فوج اور پولیس کی مشترکہ کارروائی کا آغاز کیا تھا لیکن تلاشی کی مہم شروع ہوتے ہی ایک ہزار افراد جمع ہوگئے ۔ حالانکہ یہ امتناعی احکام کی کھلی خلاف ورزی تھی جو اس وقت نافذ کئے گئے تھے اور اس ہجوم نے کارروائی میں دخل اندازی کی ۔ اس طرح شدید سنگباری ، اشتعال انگیز نعرہ بازی اور فوج کے ساتھ تصادم کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں جن میں 20 فوجی زخمی بھی ہوچکے ہیں ۔ جن ایک جونیر کمیشنڈ آفیسر اور پولیس کا ایک ایس آئی شامل ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT