Monday , September 25 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں تحدیدات کے قطع نظر محرم جلوس نکالنے کی کوشش

کشمیر میں تحدیدات کے قطع نظر محرم جلوس نکالنے کی کوشش

پولیس اور سوگواروں میں تصادم، ٹریفک اور ٹرین سرویس بھی معطل
سرینگر ۔ 22 ۔ اکٹوبر : ( سیاست ڈاٹ کام ) : شدت پسند حریت لیڈر سید علی شاہ گیلانی اور سینکڑوں شیعہ سوگواروں کو پولیس نے آج اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ امتناعی احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایک ٹرک کنڈاکٹر زاہد رسول بھٹ کے چوتھا اور محرم جلوس نکالنے کی تیاری میں تھے ۔ گیلانی اور شیعہ برادری نے امتناعی احکامات کے باوجود علحدہ علحدہ جلوس نکالنے کی کوشش کی تھی ۔ جب کہ سرکاری حکام نے سرینگر کے قلب شہر اور جنوبی کشمیر کے شہر اننت ناگ اور متصل اضلاع میں عوام کی نقل و حرکت پر تحدیدات عائد کردینے سے معمولات زندگی متاثر ہوگئے ہیں ۔ گیلانی کی زیر قیادت حریت کانفرنس نے زاہد رسول بھٹ کے آبائی مقام بٹینگو میں ایک تعزیتی جلسہ منعقد کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے جو کہ ادہم پور میں ایک پٹرول بم حملہ میں زخمی ہونے کے بعد فوت ہوگئے تھے اور مرحوم کا چوتھا ( وفات کے 4 یوم ) کی مجلس میں عوام سے شرکت کی اپیل کی گئی تھی ۔ صدر نشین حریت کانفرنس جو کہ گھر پر نظر بند ہیں ۔

سرینگر ایرپورٹ روڈ پر واقع اپنے مکان سے اچانک باہر نکل آئے اور بٹینگو کی سمت جانے کی کوشش کرنے لگے لیکن وہاں متعین پولیس عملہ نے انہیں فی الفور حراست میں لے لیا اور قریبی پولیس چوکی لیجا کر محروس کردیا گیا ۔ اننت ناگ میں مجوزہ جلسہ عام اور 8 محرم کے موقع پر شہید گنج تا ڈل گیٹ روایتی راستوں سے شیعہ برادری کے جلوس نکالنے کی کوشش کی وجہ سے امن و قانون کے مسئلہ کے اندیشہ سے شہر کے مختلف علاقوں اور بٹینگو گاؤں جانے والی ٹریفک پر امتناعی احکامات عائد کردئیے گئے تھے تاکہ عوام گروپ کی شکل میں باہر نکل نہ سکیں ۔ علاوہ ازیں قلب شہر میں واقع لال چوک اور اننت ناگ سے مربوط سڑکوں پر ٹریفک کو بھی روک دی گئی تھی ۔ پولیس نے کسی بھی گاڑی کو شہر میں داخلے کی اجازت نہیں دی ۔ دریں اثنا پولیس اور نیم فوجی دستوں کو سرینگر اور جنوبی کشمیر کے حساس مقامات پر متعین کردیا گیا ہے اور اننت ناگ ٹاون میں عوام کے اجتماع پر پابندی عائد کردی گئی جب کہ اننت ناگ ٹاون اور بوج بہرہ پولیس اسٹیشن کے علاقہ میں احتیاطی اقدام کے طور پر تحدیدات نافذ کردئیے گئے جہاں پر گذشتہ دو یوم سے پرتشدد جھڑپیں پیش آئی تھیں ۔ علاوہ ازیں سرینگر ، جموں قومی شاہراہ  پر ٹریفک مسدود اور ٹرین سرویس کو معطل کردیا گیا ہے ۔اگرچیکہ محرم کا روایتی جلوس شہید گنج سے ڈ گیٹ نکالا جانا تھا لیکن 1990 میں عسکریت پسندی میں شدت کے بعد سرکاری حکام نے یہ عذ ر پیش کرتے ہوئے مذہبی اجتماع پر پابندی عائد کردی کہ اسے علحدگی پسند سیاست کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔

سخت گیر تحدیدات کے باوجود شیعہ سوگوروں نے روایتی راستوں سے محرم جلوس نکالنے کی بارہا کوشش کی لیکن پولیس نے ان کا تعاقب کرکے منتشر کردیا اور آنسو گیس شیل داغے گئے اور لاٹھی چارج بھی کیا گیا حتیٰ کہ سینکڑوں ماتم گذاروں کو حراست میں لے لیا گیا۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ شیعہ برادری کا ایک گروپ علاقہ حبہ کدال سے اچانک نکل آیا اور سنگباری شروع کردی تاہم پولیس اور نیم فوجی دستوں نے تعاقب کرکے انہیں بھگادیا جس کے ایک گھنٹہ بعد ایک اور بڑا گروپ سیول سکریٹریٹ کے عقب میں اکٹھا ہوکر ڈل گیٹ کی سمت بڑھنے لگا۔ پولیس نے جب روکنے کی کوشش کی تو زبردست تصادم ہوگیا۔ پولیس نے آنسو گیس شیل کا استعمال اور لاٹھی چارج کرتے ہوئے انہیں حراست میں لے لیا۔ ایک اور گروپ علاقہ بشاملو سے نکل آیا لیکن پولیس نے انہیں روک لیا تاہم بعض افراد جہانگیر چوک تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔ پولیس اور سوگواروں کے درمیان تصادم میں کوئی جانی نقصان کی اطلاع نہیں۔ قبل ازیں جی کے ایل ایف صدر نشین محمد یسین ملک کو بھی کل شام احتیاطاً حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن کوٹھی باگ میں محروس کردیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT