Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں تشددجاری ، مزید 6 ہلاکتیں ،کرفیو جیسی صورتحال

کشمیر میں تشددجاری ، مزید 6 ہلاکتیں ،کرفیو جیسی صورتحال

انٹرنیٹ خدمات معطل، تین پولیس اہلکار ہنوز لاپتہ ، مرکز کے فوری اقدامات ناگزیر: محبوبہ مفتی

سرینگر۔ 10 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں تشدد کا سلسلہ ہنوز جاری ہے اور آج مزید 6 افراد بشمول ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے جس کے نتیجہ میں مہلوکین کی جملہ تعداد 21 ہوگئی ہے۔ حزب المجاہدین لیڈر برہان وانی کی ہلاکت کے خلاف مقامی عوام کی سکیورٹی فورسیس کے ساتھ تازہ جھڑپ میں آج ایک اور نوجوان ہلاک ہوگیا۔ ضلع پلواما میں نیوا مقام پر احتجاجی عوام اور سکیورٹی فورسیس کے درمیان جھڑپ میں 18 سالہ نوجوان بری طرح زخمی ہوگیا تھا۔ پولیس نے بتایا کہ عرفان احمد ملک کو فوری ہاسپٹل منتقل کیا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکا۔ کشمیر کے کئی حصوں میں تشدد پھوٹ پڑا ہے اور جنوبی اضلاع پلواما، اننت ناگ اور کلگام بری طرح متاثر رہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ضلع اننت ناگ میں جہلم ندی کے قریب ہجوم نے ایک فوجی بکتر بند گاڑی کو ڈھکیل دیا جس کی وجہ سے پولیس ڈرائیور فیروز احمد ہلاک ہوگیا۔ عہدیداروں کے مطابق مہلوک پولیس ڈرائیور کی نعش کو ندی سے نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔ ایک اور واقعہ پولیس ہیڈ کانسٹبل کے دونوں پیروں پر عسکریت پسندوں نے گولیاں چلائی۔ یہ واقعہ بھی ضلع پلواما کے ترال علاقہ میں پیش آیا جہاں عسکریت پسندوں نے کل رات پولیس کانسٹبل کی رہائش گاہ کو نشانہ بنایا تھا۔ اس کے علاوہ دمحال حاجی پورہ میں کل رات پولیس اسٹیشن پر ہجوم کے حملے کے بعد سے لاپتہ تین پولیس اہلکار کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق 200 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں 96 سکیورٹی ارکان عملہ بھی شامل ہیں۔ تشدد پر آمادہ ہجوم نے تین پولیس تنصیبات، تین انتظامی دفاتر کے علاوہ پی ڈی پی رکن اسمبلی کے مکان اور کئی گاڑیوں کو نذرآتش کردیا۔ اس کے علاوہ بی جے پی کے دفتر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

اس دوران وادیٔ کشمیر میں آج دوسرے دن بھی احتیاطی طور پر کرفیو جیسی پابندیاں برقرار تھیں۔ ساری وادی میں عام زندگی مفلوج ہوگئی جبکہ علیحدگی پسند گروپس نے ہلاکتوں کے خلاف بطور احتجاج آج ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔ علیحدگی پسند قائدین بشمول سید علی شاہ گیلانی اور میر واعظ عمر فاروق کو نظربند رکھا گیا جبکہ یٰسین ملک کو احتیاطی اقدام کے طور پر حراست میں لیا گیا ہے۔ امرناتھ یاترا جسے کل معطل کردیا گیا تھا، آج بھی شروع نہیں کی جاسکی۔ حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی اور دیگر دو جمعہ کو سکیورٹی فورسیس کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوگئے تھے۔ یہ تینوں ایک مکان میں چھپے ہوئے تھے اور انہوں نے سکیورٹی عملہ کو دیکھتے ہی فائرنگ کردی تھی جس کے جواب میں کی گئی کارروائی میں وہ ہلاک ہوگئے۔ موبائل انٹرنیٹ خدمات معطل کردی گئی ہیں اور وادی میں کرفیو جیسی پابندیاں لگائی گئی ہیں۔ اس دوران چیف منسٹر محبوبہ مفتی نے کل رات جاری کئے گئے ایک بیان میں مرکز پر زور دیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام سے رجوع ہوکر داخلی اور خارجی محاذ پر مصالحتی کوششیں شروع کریں تاکہ تشدد کا خاتمہ ہو جس نے اب تک کئی افراد کو موت کی نیند سلادیا اور بڑے پیمانے پر تباہی مچائی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کشمیری عوام کا دُکھ اس سطح کو پہونچ چکا ہے کہ اعتماد کی بحالی کے فوری اقدامات کرتے ہوئے مقامی عوام کے تعاون کا حصول یقینی بنایا جاسکتا ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام بلالحاظ عمر ، جنس ، موقف اور سیاسی وابستگی انتہائی سنگین حالات سے گذر رہے ہیں۔ یہ صورتحال دو دہوں سے زائد عرصہ سے جاری ہے۔

TOPPOPULARRECENT