Monday , May 1 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے بند،احتجاجی مظاہروں کا شاخسانہ

کشمیر میں تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے بند،احتجاجی مظاہروں کا شاخسانہ

طلباء کیخلاف طاقت کے استعمال پر وادی کے کچھ حصوں میں ہڑتال۔نوجوانوں سے زیادتی کیخلاف یوتھ نیشنل کانفرنس کا احتجاج

سرینگر، 18اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر انتظامیہ کے احکامات پر وادی کے تمام اعلیٰ تعلیمی ادارے بشمول یونیورسٹیاں، کالج اور ہائر سکینڈری اسکول منگل کے روز بند رہے ۔خیال رہے کہ وادی کے درجنوں تعلیمی اداروں میں پیر کے روز شدید احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے جس کے بعد ڈویژنل کمشنر کشمیر بصیر احمد خان نے ایک حکم نامہ جاری کرکے وادی کے سبھی تعلیمی اداروں میں 18اپریل کو عام تعطیل کا اعلان کیا ۔حکم نامے میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کی کوئی وجہ پیش نہیں کی گئی تھی۔ حکمنامے میں کہا گیا تھا ‘وادی کے تمام کالج، یونیورسٹیاں اور ہائر سکینڈری اسکول 18 اپریل کو احتیاطی طور پر بند رہیں گے ‘۔اس کے علاوہ کشمیر یونیورسٹی اور اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (آئی یو ایس ٹی) نے منگل کو لئے جانے والے امتحانات ملتوی کرنے کا علان کیا تھا۔یو این آئی کے ایک نامہ نگار جس نے منگل کی صبح گرمائی دارالحکومت سرینگر کے مختلف کالجوں بشمول تاریخی سری پرتاب (ایس پی) کالج اور وومنز کالج کا دورہ کیا، نے ان کالجوں کے باب الداخلے بند پائے ۔انہوں نے بتایا کہ داخلی دروازوں پر سیکورٹی فورسز تعینات ہے ، جو کسی بھی شخص بالخصوص میڈیا اہلکاروں کو کالجوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔قابل ذکر ہے کہ وادی کے درجنوں تعلیمی اداروں بالخصوص ڈگری کالجوں میں پیر کے روز شدید احتجاجی مظاہرے بھڑک اٹھے جس کے دوران سیکورٹی فورسز نے متعدد کالجوں میں احتجاجی طلباء کو منتشر کرنے کے لئے لاٹھی چارج، رنگین پانی کی بوچھاروں ، آنسو گیس کے شیلوں اور مبینہ طور پر چھرے والی بندوقوں کا استعمال کیا۔سیکورٹی فورسز کی جانب سے طالب علموں کے خلاف طاقت کے استعمال پر بطور احتجاج وادی کے کچھ حصوں میں منگل کو مکمل ہڑتال کی گئی جس کے دوران دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔

ہڑتال کی اطلاعات جنوبی کشمیر کے پلوامہ، ترال اور کولگام قصبوں اور شمالی کشمیر کے ترہگام سے موصول ہوئیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز کی جانب سے 15 اپریل کو ڈگری کالج پلوامہ میں طالب علموں کے خلاف طاقت کے استعمال پر بطور احتجاج قصبہ پلوامہ میں منگل کو مسلسل تیسرے دن بھی ہڑتال رہی۔ڈگری کالج پلوامہ میں 15 اپریل کو طلباء اور سیکورٹی فورسز کے مابین ہونے والی پُرتشدد جھڑپوں میں قریب 60 طالب علم زخمی جبکہ 20 طالبات بے ہوش ہوگئی تھیں۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق سیکورٹی فورسز کی کاروائی کے خلاف قصبہ پلوامہ میں مسلسل تیسرے دن بھی دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رہی۔دریں اثنا سیکورٹی فورسز کی جانب سے 17اپریل کو وادی کے مختلف حصوں میں احتجاجی طلباء کے خلاف طاقت کے استعمال کے خلاف منگل کو جنوبی کشمیر کے ترال و کولگام قصبوں اور شمالی ضلع کپواڑہ کے ترہگام میں ہڑتال کی گئی۔ موصولہ اطلاعات مطابق ان علاقوں میں دکانیں اور تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت جزوی طور پر معطل رہی۔یوتھ نیشنل کانفرنس کی طرف سے منگل کے روز فورسز زیادتیوں، پیلٹ گنوں کے نہ تھمنے والے اندھا دھند سلسلے ،نوجوانوں کی بلاز جواز گرفتاریوں اور خصوصاً کالجوں اور سکولوں میں گھس کر طلباء و طالبات پر طاقت کا بے تحاشہ استعمال کرنے کے خلاف ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔پولیس نے پہلے ٹی آر سی اور پھر شیر کشمیر پارک کے نزدیک جلوس کو تتر بتر کرنے کی کوشش کی۔اس کے باوجود یوتھ لیڈران نے اپنی پیش قدمی جاری رکھی اور احتجاجی جلوس کو پریس کالونی تک پہنچایا تاہم پولیس کی بھاری جمعیت نے جلوس کو وہیں روکا اور وہاں سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔پارٹی ہیڈکوارٹر نوائے صبح کمپلیکس سے یوتھ صوبائی صدر سلمان علی ساگر کی قیادت میں برآمد ہوئی ریلی احتجاج کرتے ہوئے پُرامن صورت میں لالچوک کی طرف مارچ کررہے تھے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT