Tuesday , October 17 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں جنگجوؤں کے حملوں کے بعد سیکورٹی میں شدت

کشمیر میں جنگجوؤں کے حملوں کے بعد سیکورٹی میں شدت

17 رمضان کو جنگ بدر کے سالانہ موقع پر چوکسی کے باوجود حملے ۔ عبادتوں کے مہینہ میں تشدد بدبختی : پولیس سربراہ
سری نگر ، 14 جون (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں گذشتہ رات جنگجوؤں کی جانب سے سیکورٹی فورسز کے کیمپوں اور پولیس تھانوں پر پے درپے 6 حملوں کے بعد سے سیکورٹی فورسز اور ریاستی پولیس کو بدستور ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے ۔ گذشتہ رات ہونے والے جنگجویانہ حملوں میں جہاں سنٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف)، ریاستی پولیس اور فوج کے کم ازکم 15 اہلکار زخمی ہوئے ، وہیں جنگجوایک ریٹائرڈ جج کے محافظوں کے 4خودکار ہتھیارلوٹنے میں کامیاب ہوگئے ۔ جنوبی کشمیر میں جنگجوؤں نے گذشتہ شام سے رات دیر گئے تک سی آر پی ایف کیمپوں، ایک پولیس تھانے اور ایک فوجی کیمپ پر حملہ کیا۔ ان حملوں میں سی آر پی ایف کے 9اور فوج و ریاستی پولیس کے دو دو اہلکار زخمی ہوگئے ۔ جنگجوؤں نے اس کے علاوہ جنوبی ضلع اننت ناگ میں ایک ریٹائرڈ جج کی حفاظت پر مامور دو پولیس اہلکاروں کو زخمی کرکے 4 ہتھیاروں کو لوٹ لیا۔ یہ حملے اس حقیقت کے باوجود انجام دیے گئے کہ سیکورٹی فورسز کو 17 رمضان المبارک (جنگ بدر) کے پیش نظر پہلے ہی الرٹ پر رکھا گیا تھا۔ جنگ بدر یا غزوہ بدر 17رمضان المبارک 2 ہجری بمطابق13 مارچ 624 ء کو پیغمبر اسلام حضرت محمد صلعم کی قیادت میں 300مسلمانوں اور ایک ہزار دشمن فوجیوں کے درمیان مدینہ میں بدر نامی مقام ہوا تھا۔ذرائع نے بتایا کہ تمام فیلڈ کمانڈروں کو الرٹ رہنے کے لئے کہا گیا تھا کیونکہ جنگجو اس دن کے موقع پر وادی میں ہر سال سیکورٹی فورسز کے کیمپوں، پولیس تھانوں اور دیگر تنصیبات پر حملے کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ریٹائرڈ جج کے محافظوں پر حملے کو چھوڑ کر جنگجوؤں نے دیگر تمام حملے سیکورٹی فورس کیمپوں اور پولیس تھانوں پر دستی گرینیڈ یا رائفل گرینیڈ پھینک کر انجام دیے ۔

ذرائع نے بتایا کہ حملوں میں زخمی ہونے والے تمام اہلکاروں کی حالت خطرے سے باہر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شبانہ حملوں کے بعد وادی کے تمام حصوں میں معمول کے مطابق زندگی رواں دواں ہے ۔ اس دوران ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر ایس پی وید نے کہا کہ ماضی میں بھی رمضان المبارک کے مہینے میں جنگجویانہ سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا جو کہ درحقیقت عبادتوں کا مہینہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگجوؤں کی جانب سے ماضی میں بھی رمضان کے مہینے میں ایسے حملے انجام دیے گئے ۔ یہ حملے نئے نہیں ہیں۔ ڈاکٹر وید نے کہا کہ بدبختی سے جنگجو عبادتوں کے مہینے کو تشدد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حملوں میں زخمی ہونے والے سبھی اہلکار مستحکم ہیں۔ پولیس سربراہ نے کہا کہ اگرچہ حزب المجاہدین نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ، تاہم ہماری خفیہ اطلاعات کے مطابق یہ حملے جیش محمد نامی جنگجو تنظیم نے انجام دیے ہیں۔ جنوبی کشمیر میں جنگجویانہ سرگرمیوں میں اضافے پر ڈاکٹر وید نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جنوبی کشمیر میں سرگرم بیشتر جنگجو مقامی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 29 جون سے شروع ہونے والی امرناتھ یاترا کے لئے سیکورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امرناتھ یاتریوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔

TOPPOPULARRECENT