Wednesday , August 23 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں جھڑپیں جاری، مزید ایک نوجوان ہلاک

کشمیر میں جھڑپیں جاری، مزید ایک نوجوان ہلاک

لڑکی پر سپاہی کی دست درازی کے خلاف احتجاج، مہلوکین کی تعداد چار ہوگئی، محبوبہ مفتی کی مودی سے بات چیت
سرینگر ۔ 13 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) کشمیر میں گذشتہ روز فوج کی فائرنگ میں تین شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف احتجاج کے بعد وادی میں آج بھی صورتحال بدستور کشیدہ رہی، جہاں کرفیو جیسی تحدیدات کے درمیان سیکوریٹی فورسیس اور احتجاجیوں کے درمیان جھڑپوں کے نتیجہ میں مزید ایک نوجوان ہلاک ہوگیا۔ شمالی کشمیر کے ہانڈوارہ ٹاؤن میں امن و قانون کی صورتحال سے ’’غلط انداز‘‘ میں نمٹنے پر جموں و کشمیر کے ایک سب انسپکٹر کو آج معطل کردیا گیا۔ ہانڈوارہ میں گذشتہ روز چند سپاہیوں کی جانب سے ایک لڑکی پر دست درازی و بدسلوکی کے الزامات پر احتجاج کیا گیا تھا اور فوج کی فائرنگ میں ایک خاتون ہلاک اور دیگر 4 زخمی ہوگئے تھے۔ چیف منسٹر محبوبہ مفتی جو عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ دہلی کے دورہ پر پہنچی ہیں، آج وزیراعظم نریندر مودی کے علاوہ کئی مرکزی وزراء سے ملاقات کی اور انہوں نے ہانڈوارہ فائرنگ کی مقررہ وقت کے اندر تحقیقات پوری کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے لائن آف کنٹرول پر مزید تجارتی مرکز شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ محبوبہ مفتی نے سب سے پہلے وزیردفاع منوہر پاریکر سے ملاقات کے دوران یہ مسئلہ اٹھایا جنہوں نے (پاریکر) نے اس مسئلہ کی تحقیقات اور خاطیوں کو سزاء دلانے کا تیقن دیا۔ انہوں نے کل رات وزیرفینانس ارون جیٹلی سے بھی ملاقات کی تھی۔ محبوبہ مفتی نے وزیراعظم سے ان کے دفتر میں ملاقات کے دوران سرینگر اور جموں کو اسمارٹ سٹیز کی فہرست میں شامل کرنے پر زور دیا۔ انہوں نے ریاست کی مجموعی صورتحال کے بارے میں وزیراعظم کے ساتھ تبادلہ خیال کیا۔ نارون فوجی کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈا نے ہانڈوارہ کے متاثرہ علاقہ کا دورہ کیا اور گذشتہ روز تین شہریوں کی ہلاکت کی تحقیقات کی عاجلانہ تکمیل کی ہدایت کی۔

نہوں نے اس واقعہ کو انتہائی افسوسناک قرار دیا۔ اس دوران احتجاجیوں کو منتشر کرنے کیلئے سیکوریٹی فورسیس کی جانب سے آنسو گیس کی شلباری کے نتیجہ میں مزید ایک نوجوان ہلاک ہوگیا جس کے ساتھ ہی اس علاقہ میں سیکوریٹی فورسیس اور احتجاجیوں کے درمیان گذشتہ روز سے جاری جھڑپوں میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد چار تک پہنچ گئی ہے۔ مہلوک نوجوان کی شناخت جہانگیر احمد وانی کی حیثیت سے کی گئی ہے جو درگ ملا میں آنسو گیس کا شل سر سے ٹکرائے جانے کے سبب فوت ہوگیا۔ وانی کو شدید زخمی حالت میں دواخانہ منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بعد معائنہ مردہ قرار دیا۔ سیکوریٹی فورسیس کے ساتھ جھڑپوں میں دیگر دو نوجوان زخمی ہوئے ہیں۔ ایک 55 سالہ خاتون راجہ بیگم جو گذشتہ روز فائرنگ میں زخمی ہوئی تھی آج صبح دواخانہ میں فوت ہوگئی۔ پولیس کی جانب سے کشمیر کے چھ پولیس اسٹیشنوں کے حدود میں کرفیو جیسی پابندیاں عائد کی گئی تھیں جس کے باوجود سرینگر، ہانڈوارہ اور چند دیگر علاقوں میں فوج کے خلاف احتجاج  کیا گیا۔ اس دوران سیکوریٹی فورسیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے واقعات پیش آئے۔ علحدگی پسند گروپوں نے بھی کشمیری شہریوں کی ہلاکتوں کے خلاف بطور احتجاج بند منانے کی اپیل کی تھی جس کے نتیجہ میں وادی کے اکثر مقامات پر دوکانات، کاروباری ادارے، پٹرول پمپس وغیرہ بند رہے۔ ہانڈوارہ کے اطراف و اکناف کے علاقوں میں بھی احتجاج کیا گیا۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ ’’لانگیٹ میں پولیس چوکی کا بیارک خاکستر کردیا گیا تھا اور اب پولیس چوکی کی اصل عمارت بھی آگ کی لپیٹ میں آ گئی ہے‘‘۔ ماگم میں بھی ایک پولیس چوکی نذرآتش کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس دوران فوج نے دعویٰ کیا ہیکہ اس کے کسی سپاہی نے کسی لڑکی سے کوئی بدسلوکی یا دست درازی نہیں کی۔ اس نے ثبوت کے طور پر پولیس کے ایک سوال پر لڑکی کی طرف سے دیئے گئے جواب پر مبنی ایک ویڈیو پیام جاری کیا ہے۔ (متعلقہ خبریں اندرونی صفحات پر)

TOPPOPULARRECENT