Tuesday , October 24 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں حالات معمول پر ،کوئی بڑا تشدد نہیں، زخمی نوجوان فوت

کشمیر میں حالات معمول پر ،کوئی بڑا تشدد نہیں، زخمی نوجوان فوت

سرینگر۔ 14 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وادیٔ کشمیر میں کسی بھی مقام سے کوئی بڑے تشدد اور جھڑپ کی اطلاع نہیںہے جہاں اضطراب آمیز سکون پایا جاتا ہے۔ مسلسل 6 ویں دن بھی کشمیر کی عام زندگی معمول کے مطابق دیکھی گئی۔ اس وادی میں پولیس فائرنگ میں زخمی ایک نوجوان آج دواخانہ میں زخموں سے جانبر نہ ہوسکا۔ اس کے ساتھ مرنے والوں کی تعداد 36 ہوگئی۔ گزشتہ جمعہ کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد تشدد بھڑک اٹھا تھا اور احتجاجیوں پر سکیورٹی فورسیس کی فائرنگ میں کئی افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس تشدد میں ایک پولیس ملازم بھی ہلاک ہوا تھا۔ ایک پولیس عہدیدار نے کہا کہ پوری وادی میں آج کا دن سکون سے گذرا۔ کوئی بڑا واقعہ رونما نہیں ہوا، البتہ بعض مقامات پر سنگباری کے اکا دکا واقعات ہوئے ہیں۔ تاہم صورتحال کشیدہ مگر قابو میں ہے۔ پولیس نے پرتشدد احتجاجیوں سے نمٹنے کے لئے نئے طریقہ اختیار کئے ہیں۔ احتجاجیوں کی نشاندہی کرنے عصری کیمروں کے ساتھ ڈرونس چھوڑے جارہے ہیں۔ یہ ڈرونس وادی کے مختلف مقامات کی نگرانی کریں گے۔ اس سلسلے میں ایک ریموٹ کنٹرول والی بغیر آدمی کی فضائی گاڑی کا استعمال کیا جارہا ہے۔ اس گاڑی نے سنسان لال چوک میں مختصر وقفہ کے لئے حالات کا جائزہ لیا۔ دارالحکومت سرینگر کے قلب میں واقع لال چوک اس وقت سنسان دکھائی دے رہا ہے۔ 18 سالہ نوجوان عرفان احمد ڈار 9 جولائی کو ضلع کلگام کے موضع نور پورہ میں اپنے مکان کے باہر بیٹھا تھا۔ سکیورٹی فورسیس کی زدوکوب کا شکار ہوا تھا۔ اس مبینہ حملے میں شدید زخمی ہوا جس کو سکمس ہاسپٹل میں شریک کیا گیا۔ تھا جہاں وہ علاج کے دوران آج فوت ہوگیا۔ جنوبی کشمیر کے چار اضلاع اننت ناگ ، کلگام ، صفیان اور پلوامہ میں 34 اموات ہوئی ہیں۔ سرینگر میں ایک ضلع کپواڑہ میں ایک شخص ہلاک ہوا تھا۔ عہدیداروں نے کہا کہ ضلع پلوامہ میں کل دریائے جہلم سے ایک نوجوان کی نعش برآمد کی گئی۔ اس نوجوان کی ظہور احمد منٹو کاکاپورہ موضع کے ساکن کی حیثیت سے کی گئی ہے۔ وہ برہان کے جلوس جنازہ میں شرکت کے لئے اپنے گھر سے روانہ ہوا تھا، واپس نہیں آیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ تیراکی نہ آنے کی وجہ سے غرقاب ہوگیا تھا۔ اس کے جسم پر تشدد یا فائرنگ کے کوئی نشان نہیں تھے۔ حکام نے ضلع پلوامہ میں سخت ترین کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹرال میں کرفیو نافذ رہے گا جو برہان کا آبائی وطن ہے۔

TOPPOPULARRECENT