Thursday , July 27 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں حالات کی معمول پر واپسی کے آثار ‘ ٹریفک میں اضافہ

کشمیر میں حالات کی معمول پر واپسی کے آثار ‘ ٹریفک میں اضافہ

کچھ مقامات پر دوکانیں بھی کھولی گئیں۔ بیشتر کاروبار ہنوز بند۔ بینکوں میں عوام کا ہجوم
سرینگر 15 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) زائد از چار ماہ کے بعد کشمیر میں مسافر بردار گاڑیاں سڑکوں پر چلائی گئی جبکہ یہاں چار ماہ سے بدامنی پھیلی ہوئی تھی ۔ ریاست میں عام زندگی معمول پر آتی جا رہی ہے ۔ ریاست میں 10 ویں جماعت کے بورڈ امتحانات کا آج آغاز ہوا جبکہ 12 ویں جماعت کے امتحانات کل شروع ہوگئے تھے ۔ وادی میں اسکولس کو تشدد کے دوران بند کردیا گیا تھا جس کے بعد امتحانات کا آغاز پہلی تعلیمی سرگرمی ہے ۔ یہ گڑ بڑ ریاست میں حزب المجاہدین کے کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد شروع ہوئی تھی ۔ علیحدگی پسندوں کی جانب سے احتجاج اور ہڑتال کا ہفتہ واری پروگرام جاری کیا جا رہا ہے ۔ عہدیداروں نے بتایا کہ مسافر بردار گاڑیاں بشمول بسیں وغیرہ آج شہر کی سڑکوں پر چلائی گئیں ۔ یہ گذشتہ چار ماہ میں پہلی مرتبہ ہے جب بسیں چلائی گئیں ۔ انہوں نے کہا کہ بسوں کے علاوہ ٹیکسی گاڑیوں اور آٹوز کے چلن میں بھی اضافہ دیکھا گیا ہے ۔ ٹرانسپورٹ سرگرمی اور عوام کی نقل و حرکت میں اضافہ سے شہر میں حالات معمول کی سمت بڑھتے ہوئے دکھائی دئے جبکہ حکام نے شہر میں مختلف مقامات پر اضافی ٹریفک پولیس عملہ کو متعین کیا تھا ۔ کچھ مقامات پر سڑکوں پر ٹریفک جام بھی دیکھی گئی ۔ کہا گیا ہے کہ وادی کے دوسرے ضلع ہیڈ کوارٹرس سے بھی سڑکوں پر ٹریفک کی آمد و رفت میں اضافہ کی اطلاعات ملی ہیں۔ بین ضلع ٹرانسپورٹ میں بھی بہتری درج کی گئی ہے ۔ تاہم زندگی کے کچھ دوسرے شعبہ جات وادی میں آج مسلسل 129 ویں دن بھی متاثر رہے کیونکہ علیحدگی پسندوں کی جانب سے یہاں ہڑتال کا اعلان کیا گیا ہے ۔ سیول لائینس اور شہر کے مضافات میں کئی مقامات پر دوکانیں وغیرہ کھلی رہیں تاہم کئی دوکانیں ہڑتال کی وجہ سے بند ہی رکھی گئیں۔ ٹی ٓر سی چوٹ پر کچھ ٹھیلہ بنڈیوں نے اپنی اسٹالس وغیرہ لگائیں جبکہ تمام بینکس وادی بھر میں کھلے رہے اور یہاں صارفین کا ہجوم دیکھا گیا ۔ وادی میں ہوئی گڑبڑ کے دوران تقریبا 85 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں دو پولیس اہلکار بھی شامل تھے ۔ اس کے علاوہ 5000 افراد زخمی ہوئے تھے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT