Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں دنیا کے بلند ترین ریلوے برج کی تعمیر

کشمیر میں دنیا کے بلند ترین ریلوے برج کی تعمیر

اندرون دو سال تکمیل ، ایفل ٹاور سے بھی 35 میٹر بلند ہونے کی توقع
نئی دہلی۔3 مئی (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر میں چناب ندی پر اندرون دو سال دنیا کا بلند ترین ریلوے برج تعمیر ہوگا۔ توقع ہے کہ یہ ایفل ٹاور سے بھی 35 میٹر بلند ہوگا۔ اس برج کی تعمیر پر 1100 کروڑ روپئے کے مصارف عائد ہوں گے اور اس میں 24 ہزار ٹن فولاد کا استعمال کیا جائے گا۔ برج کی مضبوطی کا خاص خیال رکھا جارہا ہے اور یہ 260 کیلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کی ہوا کا بھی متحمل رہے گا۔ اس برج کے ذریعہ بکل (کاٹرا) اور کائوری (سری نگر) کو باہم مربوط کیا جاسکے گا۔ ان دو مقامات کے درمیان کا فاصلہ 111 کیلومیٹر ہے اور یہ برج اس فاصلے کو کم کرنے میں معاون ہوگا۔ وزارت ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے بتایا کہ کشمیر ریل رابطہ پراجیکٹ میں یہ برج سب سے بڑا چیلنج ہے۔ اس کی تکمیل کے بعد یہ انجینئرنگ کا ایک غیر معمولی کارنامہ ہوگا۔ یہ پراجیکٹ 2019ء تک مکمل ہوگا اور توقع ہے کہ علاقے میں سیاحوں کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھرے گا۔ اس وقت بیپمن ندی پر 275 میٹر برج جو چین میں واقع ہے دنیا کا بلند ترین برج سمجھا جاتا ہے۔ ایک مرتبہ یہ پراجیکٹ مکمل ہوتے ہی اسے دنیا کے بلند ترین برج کا موقف حاصل ہوجائے گا۔

 

کشمیر میں اندرون دو گھنٹے دو بینکس لوٹے گئے
سری نگر۔3مئی (سیاست ڈاٹ کام) جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے اندرون دو گھنٹے دو بینکس کو نشانہ بنایا اور کئی لاکھ روپئے لوٹ کر فرار ہوگئے۔ پہلا واقعہ علاقائی دیہاتی بینک میں پیش آیا جہاں بندوق کی نوک پر چار مسلح عسکریت پسندوں نے 3 تا 4 لاکھ روپئے لوٹ لیئے اور راہِ فرار اختیار کی۔ دوسرا واقعہ جموں کشمیر بینک کی نیہامہ برانچ میں پیش آیا۔ پولیس ٹیم یہاں پہنچ گی ہے اور لوٹی گئی رقم کا تخمینہ کیا جارہا ہے۔ عسکریت پسندوں نے جنوبی کشمیر میں گزشتہ تین دن کے دوران چار مرتبہ بینکوں کو نشانہ بنایا ہے۔ کل بھی نامعلوم بندوق بردار نے علاقائی دیہاتی بینک کے یاری پورہ برانچ میں گھس کر 65 ہزار روپئے کی رقم لوٹ لی تھی۔ یکم مئی کو جموں اینڈ کشمیر بینک کی ویان کو نشانہ بنایا گیا جس میں نقد رقم موجود تھی۔ عسکریت پسندوں نے 5 ملازمین پولیس اور دو سکیوریٹی گارڈس کو حملے کا نشانہ بنایا ہے۔ وادی کشمیر میں طویل عرصہ سے جاری عوامی بے چینی اور احتجاج کے سبب پولیس اور سیکورٹی اداروں کی تمام تر توجہ اس صورتحال پر قابو پانے پرمرکوز ہے ۔

TOPPOPULARRECENT