Saturday , March 25 2017
Home / Top Stories / کشمیر میں دوسرے دن بھی بازاروں میں لوگوں کا ہجوم

کشمیر میں دوسرے دن بھی بازاروں میں لوگوں کا ہجوم

SRINAGAR, NOV 20 (UNI) Business hub Lal Chowk abuzz as people making purchases of warm clothes with fog and intense cold conditions prevailed in Srinagar aimed Hurriyat Conference who are spearheading the agitation since July 9 announced relaxation for the second day in Kashmir valley on Sunday. UNI PHOTO -24U

سری نگر ۔20 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) وادی کشمیر میں علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی طرف سے ہڑتال میں دی گئی دو روزہ ڈھیل کے دوسرے دن اتوار کو بازاروں میں لوگوں کا اژدھام اور سڑکوں پر گاڑیوں کا سیلاب امڈ آیا۔ کڑاکے کی سردی کے باوجود گرمائی دارالحکومت سری نگر کے سیول لائنز میں ہر اتوار کو لگنے والے سنڈے مارکیٹ میں اتوار کی صبح سے ہی گاہکوں کا تانتا بندھا رہا۔ سستی خریداری کے لئے مشہور اس سنڈے مارکیٹ میں آج سینکڑوں کی تعداد میں کاروباری افراد نے ریڈیو کشمیر سے لیکر ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ تک اپنا مال سجا رکھا تھا۔ کاروباری افراد نے بتایا کہ گذشتہ پانچ ماہ میں پہلی مرتبہ بڑی تعداد میں گاہکوں نے سنڈے مارکیٹ کا رخ کیا اور گرم ملبوسات خریدے ۔ وادی میں معمول کی زندگی ہفتہ کو 133 دنوں بعد بحال ہوئی۔
وادی میں 8 جولائی کو حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد بھڑک اٹھنے والی احتجاجی لہر کے دوران کم از کم 95 عام شہری ہلاک جبکہ 15 ہزار دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔ دوسری جانب پائین شہر میں واقع تاریخی جامع مسجد جس کا محاصرہ ہفتہ کو 133 دنوں بعد ہٹالیا گیا، سے ملحق مشہور جامع مارکیٹ میں آج گاہکوں کی ایک بڑی تعداد خریداری میں مصروف نظر آئی۔ وادی بالخصوص سری نگر کی سڑکوں پر اتوار کو بھی گاڑیوں کا سیلاب امڈ آیا اور کئی ایک سڑکوں پر بدترین ٹریفک جام کے نظارے دیکھنے کو ملے ۔ وادی کی تقریباً تمام سڑکوں پر اتوار کو پبلک ٹرانسپورٹ چلتا ہوا نظر آیا۔ ٹریفک پولیس کو گاڑیوں کو ریگولیٹ کرنے میں ایک بار پھر خاصی مشقت کرنی پڑی۔ حریت کانفرنس کے دونوں دھڑوں کے سربراہان مسٹر گیلانی و میرواعظ اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ (جے کے ایل ایف) کے چیئرمین یاسین ملک جو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد سے ہفتہ وار احتجاجی کلینڈر جاری کررہے ہیں، نے ہڑتال میں پہلی بار دو روزہ ڈھیل کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے تاہم جاری ہڑتال میں 24 نومبر تک توسیع کا اعلان کر رکھا ہے ۔ ہڑتال میں نرمی کے پیش نظر وادی کے تمام علاقوں میں اتوار کو دوسرے دن بھی دکانیں کھل گئیں اور پیٹرول پمپ کھلے رہے ۔ تاہم اتوار ہونے کی وجہ سے تمام سرکاری دفاتر اور بینک بند رہے ۔ ہندوستان کے مختلف شہروں کے برخلاف سری نگر میں اے ٹی ایم مشینوں کے باہر بھیڑ لگی ہوئی نظر نہیں آرہی ہے ۔ اگرچہ سری نگر کے سیول میں دکانیں اور تجارتی مراکز اتوار کو بند رہتے تھے ، تاہم ہڑتال میں نرمی کے پیش نظر آج تاریخی لال چوک، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، گونی کھن، ریذیڈنسی روڑ، مولانا آزاد روڑ، مہاراجہ بازار، بتہ مالو، اقبال پارک، ڈلگیٹ ، ریگل چوک اور بڈشاہ چوک میں بیشتر دکانیں اور تجارتی مراکز کھلے رہے ۔سول سکریٹریٹ کے نذدیک واقع بتہ مالو میں اتوار کو بھی خاصی چہل پہل نظر آئی ۔ وادی کے مختلف علاقوں میں دسویں اور بارہویں جماعت کے طلباء کو اپنے امتحانی مراکز کی طرف چلتے ہوئے دیکھا گیا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT